Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

چور.... چور

 
   
 
آخری روزہ تھا، افطاری کے بعد ہم اپنی کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹے ہی تھے کہ بہت سی ملی جلی آوازیں ہمارے کانوں سے ٹکرائی۔ مبارک ہو عید کا چاند نظر آگیا۔ یہ سن کر ہم بستر سے ایسے اچھلے جیسے بچھو نے کاٹ لیا ہو، لانگ جمپ لگایا اور باہر کی طرف بھاگے، جہاں سے عید مبارک کی آوازیں آرہی تھیں۔ جونہی ہم گھر سے باہر نکلے ایک بڑے میاں گلی میں خراماں خراماں چلے آرہے تھے، ان کا چلنے کا اور ہمارا بھاگنے کا انداز آپس میں میل نہ کرسکا اور وہی ہوا، جس کا ہمیں کوئی ڈر نہ تھا، ہم سیدھے بڑے میاں سے جاٹکرائے، ٹکرانے کے بعد ہم تو سنبھل گئے لیکن بڑے میاں سنبھلنے میں ناکام رہے اور کسی کٹے ہوئے شہتیر کی مانند زمین پر آرہے، قبل اس کے کہ ہم ان سے بے ارادہ ٹکر کی معذرت کرتے، انہوں نے چور چور کا شور مچادیا، ان کی آوازیں سن کر ہم بوکھلاگئے، بوکھلاہٹ میں ہماری سوچ ختم اور دماغ ماﺅف ہوگیا، یہی بوکھلاہٹ ہمیں بھگانے میں ناکام اور پھنسانے میں کامیاب ہوگئی، ہم نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ فوراً آگے کی جانب دوڑ لگادی، ان کی آوازیں سن کر گھروں کے دروازے دھڑا دھڑ کھلنے لگے پھر بہت سے لوگ ان کی طرف لپکے۔
 کیا ہو بزرگو، کئی آوازیں ابھریں۔
ظالمو، دیکھتے کیا ہو، وہ میری چوری کرکے بھاگا جارہا ہے، تم کھڑے میرا منہ دیکھ رہے ہو، انہوں نے میری جانب اشارہ کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، کئی نظریں ہماری جانب اٹھیں،ہم تیزی سے بھاگے جارہے تھے، یہ دیکھ کر حاضرین کادل پسیجا، ایک کڑیل نوجوان نے آگے بڑھ کر بڑے میاں کو تسلی دی اور کہا۔
بڑے میاں، گھبرائیے نہیں میں ابھی جا کر اس کا پتا کرتا ہوں، اسے چوری کرنے کی جرات کیسے ہوئی۔
آﺅ میرے ساتھ، آخری جملہ اس نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا، اس جملے میں نہ جانے کیا تاثیر تھی کہ سب ہمارے پیچھے بھاگنے لگے، اب صورتحال یہ تھی کہ غصے سے بھرے لوگوں کا لشکر ہمارے پیچھے تھا اور ہم اکیلی جان آگے تھے، بچپن میں ہم نے کچھوا اور خرگوش کی کہانی پڑھی تھی، جنہوں نے آپس میں دوڑ کا مقابلہ کیا تھا جس میں سست ترین کچوا پیچھے اور تیز ترین خرگوش آگے ہوتا ہے، پھر بھی کچھوا دوڑ جیت جاتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کہانی سے ہم ذرا سبق حاصل کرتے اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے اور مسلسل دوڑتے تاکہ لاﺅ لشکر کی پہنچ سے دور ہوجاتے، لیکن ہم جو بھاگنے میں ذرا پھسڈی واقع ہوئے تھے، ایک جگہ رک کر سانس درست کرنے لگے اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی تھی، وہ سب ہمارے سر پر پہنچ چکے تھے، اس سے پہلے کہ ہم دوبارہ بھاگنے کی کوشش کرتے، لوگوں نے ہمیں مل کر پکڑلیا، اتنے میں وہ بڑے میاں بھی ایک لڑکے کا ہاتھ تھامے وہاں پہنچ گئے۔
ابے تجھے چوری کرنے کی جرات کیسے ہوئی، انہوں نے دانت پیستے ہوئے کہا، وہ غصے میں سوکھے ہوئے پتے کی مانند کانپ رہے تھے، انہوں نے اپنے پاﺅں سے بہت ہی پرانے ماڈل کی ہوائی چپل اتاری اور دھڑا دھڑ تین چار فائر کردیے، ایک درد ناک چیخ فضا میں منتشر ہوئی، ہم گھبرا کر منہ دوسری طرف کرلیا، ہمسائے کریم بخش کا لڑکا بری طرح رو رہا تھا۔
بڑے میاں چور تو وہ ہے، آپ نے خواہ مخواہ میرے بیٹے کو پیٹ ڈالا، کریم بخش نے لال پیلا ہو کر کہا۔ دراصل ہمارے دھوکے میں بڑے میاں نے کریم بخش کے بیٹے کو پیٹ ڈالا تھا جو بڑے میاں کے قریب کھڑا بغور تماشا دیکھ رہا تھا، بڑے میاں نے ہاتھ جوڑ کر کریم بخش سے معافی مانگی، پھر ہمیں بالوں سے پکڑتے ہوئے بولے۔
اب بتا چور کے بچے، میرے پاس کیا تھا جو لوٹ کر لے گیا، چوری کرنے سے پہلے تجھے موت کیوں نہ آگئی، میں تجھے نہیں چھوڑوں گا، تو نے میری زندگی کا تمام اثاثہ لوٹ لیا ہے، انہوں نے اپنی آواز کو مزید درد ناک بتاتے ہوئے کہا اور اس درد کی فکر نہ کی جو ہماری سر سے اٹھ رہا تھا، درد سے ہمیں اپنے ہیر اسٹائل کی فکر کھائے جارہی تھی، جس کا بڑے میاں کے ہاتھوں سے ستیاناس ہوتا جارہا تھا۔
شاہد! ہم تجھے شریف آدمی سمجھتے تھے، تم نے یہ غلط حرکت کرکے نہ صرف ہمیں دکھ پہنچایا ہے بلکہ ہماری نظروں سے بھی گر گئے ہو، اس سے پہلے کہ ہم تم پر ٹوٹ پڑیں بڑے میاں کی چرائی ہوئی چیز انہیں واپس کردو، ان کے پاس کچھ تھا کیا چوری کرنے کے لیے، ہم نے سوچا۔ کل عید ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ کسی رنگ میں بھنگ پڑے، کریم بخش نے کہا۔ سر عام ہماری بے عزتی ہوگئی تھی اس سے بڑا بھنگ کیا پڑتا تھا، ہماری تو عید کرکری ہوگئی تھی۔
مگر جناب، ہم نے کچھ کہنا چاہا مگر درمیان میں مولوی صاحب ٹپک پڑے، لاحول ولاقوة، رمضان ختم ہونے کی دیر تھی لوگوں نے اصل عادتیں دکھانا شروع کردی ہیں، آخری روزے کا احترام بھی نہیں کیا، یااللہ ہمیں معاف کردے یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔
مگر جناب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس مرتبہ بھی ہماری بات کاٹ دی گئی، محلے کے اکلوتے ماسٹر صاحب آگے بڑھے، ہم تمہاری کوئی بات نہیں سننا چاہتے میاں، ہم صرف اتنا جانتے ہیں تم نے بڑے میاں کی چوری کی ہے اور بڑے میاں اس بات کے گواہ ہیں۔
دیکھیں پہلے میری بات تو سنیں، مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دیں، میں نے کچھ نہیں کیا۔ ہم نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہنا چاہا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، مجمع میں بس ایک آواز آئی، بھائیوں! دیکھتے کیا ہو.... چلو شروع ہوجاﺅ۔ اور پھر سب نے مل کر ہم پر حملہ کردیا، حملہ کرنے والوں میں ہمارا جگری دوست شیدا بھی شامل تھا جس کو میں ادھار پیسے اور کہانیوں کے آئیڈیاز دیا کرتا تھا، بے وفا، بے مروت نے بھی ہماری کوئی نہ سنی، کوئی عزت نہ کی۔
ٹھہرو بھئی،ایسی بھی کیا جلدی ہے، ایک آواز ہمارے کانوں میں رس گھولتی چلی گئی، سب کے ہاتھ اٹھے کے اٹھے رہ گئے، چند قدم پر ہمارے بڑے بھیا کھڑے مسکرا رہے تھے۔
کیوں جناب کیا بات ہے، بڑے میاں نے بھائی جان کو گھورتے ہوئے کہا۔
بات جو بھی ہے بہت جلد آپ کی عقل شریف میں آجائے گی، فی الحال آپ میرے چھوٹے بھائی کو نہیں مار سکتے، بھائی جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ کس لیے، جندو قصائی بولا۔
بس کہہ جو دیا نہیں مارسکتے، بھائی جان اسی انداز سے بولے۔
شاید تمہیں معلوم نہیں تمہارے بھائی نے بڑے میاں کی چوری کی ہے، بشیرا نائی بولا۔
آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے۔ بھائی جان نے ان کی طرف دیکھا۔
بڑے میاں خود اس بات کا ثبوت ہیں۔ بشیرے نے کہا۔
اگر میرا بھائی چور ثابت ہوگیا تو میں آپ کو ہرگز نہیں روکوں گا، آپ نے چوری شدہ چیز برآمد کرلی ہے، بھائی جان نے پوچھا۔
جی! نہیں یہ کام ہم نے نہیں کیا۔ ماسٹر صاحب نے کہا۔
سب سے پہلے آپ کو یہی کام کرنا چاہیے تھا اور اگر میں کہوں کہ میرا بھائی چور نہیں ہے تو۔ بھائی جان نے عجیب لہجے میں کہا۔
جناب! آپ یہ بات کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ ماسٹر صاحب حیران ہو کر بولے۔
بس کہہ سکتا ہوں۔ بھائی جان نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
مگر جناب، آپ کو ثابت کرنا ہوگا۔ کریم بخش نے کہا۔
پھر بھائی جان بولے، شاہد جب تیزی سے گھر سے نکلا تو عید کا چاند دیکھ کر واپس آرہا تھا، اسی وقت شاہد کی سامنے سے آتے ہوئے بڑے میاں سے ٹکر ہوگئی شاہد تو خیر سنبھل گیا مگر بڑے میاں نہ سنبھل سکے اور دھڑام سے زمین پر آگرے، شاہد کی عادت سے میں اچھی طرح واقف ہوں یہ کبھی چوری کرہی نہیں سکتا، چنانچہ جب میں نے بڑے میاں کو چور چور کا شور مچاتے دیکھا تو حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا، میری نظر زمین پر پڑی، وہاں بڑے میاں کی یہ عینک پڑی تھی پھر یہ بات سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ بڑے میاں اس عینک کی وجہ سے پریشان ہیں، حالاں کہ اگر یہ زمین پر نگاہ ڈالتے تو انہیں اپنی عینک ضرور مل جاتی، جب بڑے میاں نے چور چور کا شور مچایا تو میں نے ان کے پاس سے گزرا اور یہ عینک اٹھالی، یہی وجہ ہے کہ انہیں عینک وہاں سے نہ مل سکی اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ سب کے سامنے ہے، آپ لوگ کم از کم تحقیق تو کرلیتے کہ بڑے میاں جو بات کررہے ہیں وہ کس حد تک ٹھیک ہے، ہمیں قرآن مجید کے ذریعے یہی تعلیم دی گئی ہے کہ جب کوئی شخص تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو پہلے اس کے سچ یا جھوٹ ہونے کی تحقیق کرلیا کرو،ا یسا نہ ہو کہ تم اس شخص کی جھوٹی بات پر یقین کر بیٹھو، جس کے نتیجے میں تمہیں نقصان اٹھانا پڑے۔
بھائی جان کی مفصل بات سن کر سب کے سب شرمندہ رہ گئے، بڑے میاں اپنی عینک لے کر روانہ ہوگئے۔
وعدے کے مطابق ہم سب ہرجانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، آﺅ ہمارے ساتھ۔ کریم بخش نے کہا اور سب مٹھائی کی دکان کی طرف بڑھے، ہم بھی خوش ہوگئے کہ ہماری جان چھوٹی اور پھر خوشی خوشی ان کے پیچھے چل پڑے، جان بچ جانے کی اور عید کی خوشی میں اور پھر آسمان پر عید کا چاند مسکرارہا تھا اور اردگرد سے آوازیں آرہی تھیں۔
 عید مبارک۔ عید مبارک۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close