Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

دل کے کالے

 
  طاہر عمیر  
 
یہ مثالی ٹاﺅن کا ایک چمکیلا سا عام دن تھا۔ ستمبر کا مہینہ شروع ہوچکا تھا، لیکن ماہ رمضان ابھی باقی تھا، تیسرہ عشرہ شروع ہونے پر بجائے اس کے کہ آخری دنوں میں عبادت زیادہ کی جائے، سب کی توجہ عید کی خریداری پر تھیں، پچھلا مہینہ چوں کہ آزادی کا تھا لہٰذا ہر گھر پر پاکستانی جھنڈے لہرا رہے تھے اور ہر گلی سبز جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے آزادی کا سب سے بڑا جشن مثالی ٹاﺅن والوںنے ہی منایا تھا، ملک میں سیلاب کی آفت کی وجہ سے بہت سے لوگ مشکلات کا شکار تھے، حکومت نجی اور عالمی تنظیمیں مل کر اس آفت میں پھنسے لوگوں کی مدد کررہی تھیں، پھر مثالی ٹاﺅن کی میڈم رقیہ کی این جی او کیسے پیچھے رہ سکتی تھی، انہوں نے مثالی ٹاﺅن کے پارک میں ایک ریلیف کیمپ لگا رکھا تھا تاکہ لوگ مدد کرسکیں، لیکن فی الحال ابھی تک وہاں کوئی نہیں آیا تھا، سورج مشرق سے ابھرتا ہوا کافی اوپر اٹھ گیا تو مثالی ٹاﺅن والے نیند سے بیدار ہونا شروع ہوگئے، سیٹھ کبیر نے اپنی موٹی توند پر پتلون کو ٹھیک کرتے ہوئے اپنے سیکرٹری سے پوچھا۔ کیا پتلون میں ازار بند نہیں لگایا جاسکتا۔
کیوں نہیں، آج کل ایسی ہی الٹی سیدھی چیزوںکا فیشن ہے لیکن آپ کے سائز کا ازار بند ملے گا نہیں، ہاں ایک کام ہوسکتا ہے کہ دو ازار بندوں کو گانڈھدے کر ایک لمبا سا ازار بند تیار کرلیا جائے۔“ سیکرٹری نے اپنی عقل کے مطابق جواب دیا۔
کس گدھے نے تمہیں میرا سیکرٹری بنایا ہے۔ سیٹھ کبیر نے جھنجھلا کر کہا۔
جی آپ نے، وہ منہ لٹکا کر بولا۔
اوہ اچھا اچھا ٹھیک ہے، یہ بتاﺅ آج کا پروگرام کیا ہے۔ سیٹھ کبیر کھانستے ہوئے بولے۔
آج آپ نے وہ گندم بیچنی ہے جو پچھلے کئی ماہ سے ذخیرہ کر رکھی ہے، اور انڈوں کی ذخیرہ اندوزی کرنی ہے، بیواﺅں کے لیے جو آپ نے سینٹر بنایا تھا اس کے تہہ خانے میں کافی جگہ ہے، انڈے وہاں رکھے جاسکتے ہیں۔ سیکرٹری نے کہا تو سیٹھ کبیر بہت خوش ہوئے۔
واہ واہ، کس ہونہار شخص نے تمہیں میرا سیکرٹری رکھا ہے۔ اور وہ آگے بڑھ گئے۔
بادشاہ ویڈیو گیم والے نے دکان کھولی، جھاڑو دی اور قرآنی آیات پڑھ کر دکان کی برکت کے لیے پھونکنے لگا، اسی دوران ایک بچہ اندر داخل ہوا۔
واہ واہ، صبح ہی صبح گاہک۔ ”بتا بچے کتنے کے ٹوکن دوں“۔ بادشاہ خوش ہو کر بولا۔
بادشاہ بھائی، ،آج میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ مجھے ٹوکن دے دو، کل میں پیسے لادوں گا۔“ بچے نے کہا۔
کیا....؟ صبح ہی صبح ادھار، ہرگز نہیں، چل بھاگ یہاں سے، اگر پیسے نہیں ہیں تو چرا کر لے آ۔
لیکن چوری کرنا تو بری بات ہے۔ بچہ معصومیت سے بولا۔
ارے بیٹا اپنے ہی گھر میں چوری، چوری نہیں ہوتی، تمہارے امی ابو کے پاس جو پیسے ہیں وہ تمہارے لیے ہی تو ہیں، چل بھاگ۔ اس نے معصوم ذہن کو ایک بڑا غلط سبق دیتے ہوئے کہا۔
مسٹر جہانگیر نے کلاک کی طرف دیکھا جہاں گیارہ بج رہے تھے۔ ان کی بیگم بولیں۔
کیا آج بھی دفتر نہیں جانا۔
کیا فائدہ، کام تو گھر بیٹھے بھی ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا، تبھی فون کی گھنٹی بجی تو انہوں نے ریسیور اٹھالیا۔
جی کون.... جی کون بات کررہا ہے، آپ کو، اچھا اچھا وہ نہر والی زمین کے قبضے کا معاملہ....؟ ہاں ہاں میرے پاس ہی ہے، صرف میرے دستخط کی دیر ہے، پھر فائل بڑے صاحب کے پاس جائے گی لیکن دستخط کیسے کروں میرے پاس قلم نہیں ہے.... کیا کہا؟ قلم کتنے کا آئے گا.... اجی جناب یہی کوئی پچاس ہزار کا، نہیں نہیں اس سے کم نہیں ہوسکتا، اچھا آپ کے لیے صرف پنتالیس، اس سے کم نہیں، ٹھیک ہے آپ کا کام ہوجائے گا، خدا حافظ، وہ فون بند کرتے ہوئے بولے۔
میں نے کہا تھا نا کہ کام تو گھر بیٹھے بھی ہوجائے گا“۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سوگئے۔
حاجی اکبر نے اپنے دونوں یتیم بھانجوں کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور پھر دھاڑتے ہوئے بولا۔
کم بختو مفت کی روٹیاں توڑنی آتی ہیں، اتنی بڑی جائیداد جو تمہاری سنبھال رہا ہوں، پتا ہے سو مسئلے مسائل ہوتے ہیں، سارا دن میرا ان معاملوں میں گزر جاتا ہے، سوچتا ہوں چلو نیک کام ہے خیر ہے لیکن تم نکمے دونوں بھائی، میرے گھر کا ذرا سا کام بھی نہیں کرسکتے؟ اور کام ہے ہی کتنا، سارے گھر کی صفائی اور برتن دھونا، کبھی کبھی دکان پر کام آن پڑتا ہے اور بس لیکن تم دونوں کی تو جان جاتی ہے، چلو کام کرو، ورنہ ڈنڈوں سے تواضع کروں گا۔
دونوں بھائی چپ چاپ کام پر لگ گئے، ان کے ہر دن کا آغاز ایسے ہی ہوتا تھا۔
پارک میں بیٹھے بیٹھے میڈم رقیہ اور میڈیا کی ٹیم بور ہورہی تھی، کیوں کہ کوئی امداد دینے ہی نہیں آیا تھا، لیکن تھوڑی دیر بعد مثالی ٹاﺅن کی واحد بدصورتی راجو ضرور آگیا۔
میڈم جی! میرے پاس دو ہی سوٹ ہیں، ایک میں آپ کے کیمپ میں جمع کروانا چاہتا ہوں۔
تیرا یہ میلا کچیلا اور پھٹا ہوا سوٹ کوئی بھکاری بھی نہیں پہنے گا، چل اٹھا اسے اور بھاگ۔ میڈم نے اسے بری طرح لتاڑدیا تو وہ اپنا سا منہ لے کر ایک طرف چلا گیا، تبھی میڈم کی نظریں مشہور مصنف بشیر روی فروش المعروف آواز کائناتی پر پڑی جو اپنے خیال میں گم پارک میں ٹہل رہا تھا۔
کائناتی صاحب! کچھ امداد کیجیے نا آپ بھی“۔ میڈم نے کائناتی صاحب سے کہا۔
امداد؟ میں؟۔ ارے میڈم رقیہ آپ کو کسی نے بتایا نہیں کہ ادبی لوگ کتنے مفلوک الحال ہوتے ہیں، انہیں تو خود امداد کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے آپ کے ریلیف کیمپ کا آئیڈیا اچھا ہے، اس پر ایک زبردست سی کہانی لکھی جاسکتی ہے، میں ابھی سے نوٹس لکھ لوں، بعد میں بھول ہی نہ جاﺅں“۔ وہ کہہ کر فوراً ایک طرف بڑھ گیا۔
جب کوئی بھی امداد دینے نہ آیا تو میڈم رقیہ نے کہا کہ ہمیں خود مثالی ٹاﺅن کا ایک چکر لگانا چاہیے، میڈیا والوں نے سر ہلادیا، سبھی پارک سے باہر نکل آئے، سامنے عظیم الشان عمارت کے دروازے پر سیٹھ کبیر اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا جب میڈم نے اسے جالیا۔
سیٹھ صاحب! سیلاب زدگان کے لیے امداد دیں۔
ہاں ہاں.... کیوں نہیں.... سیکرٹری انہیں امداد کی رقم کے بارے میں بتاﺅ۔
جی میں سیٹھ صاحب کی طرف سے ایک کروڑ روپے کا اعلان کرتا ہوں۔ میڈم رقیہ اور میڈیا ٹیم کے ساتھ ساتھ سیٹھ صاحب بھی بے ہوش ہوتے ہوتے بچے۔
الو کے پٹھے.... یہ کیا بکواس ہے۔ وہ دانت پیستے ہوئے آہستہ سے بولے۔
جناب یہ سیاسی بیان ہے.... جتنے مرضی اعلان کردو، جب لینے آئیں گے تو پانچ دس ہزار دے دیں گے۔ سیکرٹری کے جواب سے صاحب کو حوصلہ دیا۔
تو ہم کب پیسے لینے آئیں؟ میڈم نے پوچھا۔
شام کو.... سیکرٹری نے کہہ کر گاڑی کا دروازہ بند کردیا اور یہ امدادی ٹیم آگے بڑھ گئی۔
حاجی اکبر صاحب کا سپر اسٹور کھل چکا تھا۔ وہ تسبیح کے دانے گھما رہے تھے لیکن زبان سے اس ٹیم کو صلواتیں سنا رہے تھے جو ان سے فنڈ لینے آپہنچی تھی۔
میں دوں گا.... ضرور دوں گا پیسے.... بیس ہزار لکھ لیجیے۔
صرف لکھنے نہیں.... دیجیے بھی۔ میڈم نے کہا۔
حاجی صاحب نے پچاس کا نوٹ نکال کر دیتے ہوئے کہا۔ آج کل کام دھندہ بند ہے، میں پیسے ضرور دوں گا لیکن قسطوں میں.... آپ روازانہ مجھ سے بیس تیس یا پچاس روپے لے جایا کریں۔ انہوں نے کہا۔
صرف بیس، تیس یا پچاس۔
مم مجھے نماز کے لیے جانا ہے، پھر بات ہوگی۔ یہ کہہ کر وہ دکان سے نکل گئے۔
حاجی صاحب اس وقت کون سی نماز پڑھنے جارہے ہیں؟
نماز حاجات....“ انہوں نے کہا اور مسجد کی طرف چل دیے۔
میڈم رقیہ نے وہی پچاس روپے کا ایک بچے کو تھماتے ہوئے کہا۔جا پپو میرے موبائل پر ایزی لوڈ کروا کر آ۔
اس کے بعد میڈیا ٹیم اور میڈم رقیہ مسٹر اینڈ مسز جہانگیر کے گھر پہنچ گئے، مسز جہانگیر تو فنڈ دینے کے لیے اتنی خوش ہوئیں کہ اپنے سارے کپڑے اور زیور اور کئی پرانی چیزیں ریلیف فنڈ میں دے دیں، میڈیا والوں نے کھچا کھچ کئی تصویریں لیں اور چلے گئے۔
یہ تم نے کیا کیا.... اتنا سامان دینے کی کیا ضرورت تھی۔ مسٹر جہانگیر نے اپنا سر پکڑتے ہوئے کہا۔
اونہہ، آپ کو نہیں پتا، میں نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں، پرانے کپڑے اور سامان جو دیا ہے اس کے بدلے نیا سامان اور کپڑے لیں گے، دوسرا جب میری فوٹو اخبار میں چھپے گی تو میری سہیلیاں سڑ کے سواہ ہوجائیں گی۔ وہ خوش ہوتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
شام کے سائے گہرے ہونے لگے، روشنی مدھم پڑنے لگی اور تاریکی نے سر اٹھانا شروع کیا۔ لوگوں نے دیکھا، راجو گلیوں میں لگی پاکستانی پرچم کی جھنڈیاں اتار رہا تھا، کسی نے اسے روکا اور پھر کسی نے اسے پکڑ کر مارنا شروع کریا، اس کے بعد دور دور سے لوگ راجو کو مارنے آئے۔
جہانگیر، بادشاہ، حاجی صاحب، سبھی نے اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالا، مشہور مصنف آواز کائناتی دور بیٹھ کر اس واقعے پر ایک اور کہانی لکھنے کی سوچ رہا تھا حتیٰ کہ رات گہری ہوگئی اور مثالی ٹاﺅن کے مکین اپنے اپنے گھروں میں جادبکے اور فوارے والے چوک پر وہ دونوں ہر رات کی طرف پھر سے نمودار ہوئے۔
آٓج میں بہت اداس ہوں۔ دائیں جانب والے نے کہا۔
وہ کیوں۔ بائیں جانب والے نے پوچھا۔
اس مثالی ٹاﺅن میں صرف ایک شخص ہی ایسا تھا، جو نیک کام کرتا تھا تو میں لکھتا تھا، لیکن آج اس نے بھی ایک عجیب حرکت کر ڈالی، جانتے ہو اس نے کیا کیا؟
ہاں، اس نے گلیوں میں سجی جھنڈیاں اتار پھینکیں۔ بائیں جانب والے نے کہا۔
یہ اتنا پیارا ملک ہے.... اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، اوپر سے آج کل یہ آزمائش سے دوچار ہے، لیکن پھر بھی یہاں! چلے چہروں والے لوگ اندر سے اتنے کالے کیوں ہیں، ہر کوئی اپنا اپنا مفاد کیوں چاہتا ہے؟ دائیں جانب والا بولا۔
تمہیں کیا لگتا ہے، جن علاقں میں سیلاب آیا ہے،وہاں کے لوگ آزمائش میں مبتلا ہیں۔“
توکیا نہیں؟۔
نہیں.... آزمائش ان لوگوں کی ہے جو اس آفت سے محفوظ ہیں، قدرت دیکھنا چاہتی ہے کہ یہ لوگ اپنے دکھی اور مصیبت میں مبتلا بھائیوں کی مدد کیسے کرتے ہیں، مثالی ٹاﺅن والوں کی بھی آج آزمائش تھی، جس میں سوائے راجو کے کوئی بھی پورا نہیں اترا“۔ بائیں جاب والے نے کہا۔
ہاں اس نے اپنا ایک سوٹ امداد کے لیے دینا چاہتا تھا“۔ دائیں جانب والا بولا۔
صرف اتنا نہیں تم اس کی وہ نیکی کیوں نہیں لکھتے، جس پر اسے اتنی مار پڑی؟
جھنڈیاں اتارنے والی، کیا اسے اپنے ملک سے پیار نہیں ہے۔
ہے بہت ہے.... تبھی تو اس نے یہ کیا، تمہیں یاد نہیں آج شام جب اس نے گلیوں میں سجی جھنڈیوں میں سے چند ایک ہوا کی وجہ سے ٹوٹ کر نالیوں میں گرتی دیکھیں، تبھی تو وہ ساری جھنڈیاں اتارنا چاہتا تھا تاکہ ان کی بے حرمتی نہ ہو.... یہ اس کی ایک بڑی نیکی ہی تو تھی“۔ بائیں جانب والے نے کہا تو دائیں جانب والا مسکرادیا۔
ہاں واقعی.... تم نے سچ کیا.... لیکن کھڑے کیوں ہوگئے ہو.... ابھی تو رات شروع ہوئی ہے اور تم جانے کی تیاری کررہے ہو“۔ وہ یک لخت چونک کر بولا۔
پارک میں لیٹا زخمی راجو اور حاجی صاحب کے یتیم بھانجے رو رہے ہیں، مجھے ان کے ہر آنسو اور تکلیف کی لہر کے بدلے مثالی ٹاﺅن میں رہنے والوں کے نامہ اعمال میں گناہ لکھنے ہیں، شاید ساری رات.... اس لیے میں تو چلا، خدا حافظ۔ بائیں جانب والے نے کہا اور غائب ہوگیا، دائیں جانب والا سپیدہ سحر ہونے تک اللہ کی تسبیح کرتا رہا اور سورج کی اولین کرن کے ساتھ ہی غائب ہوگیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close