Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

امی مجھ سے پیار کرتی ہیں

 
   
 
صبح سے امی جان روئے جارہی تھیں، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا اور امی جان تھیں کہ بس روئے جارہی تھیں۔
”اے بہو.... کاہے کو ہلکان ہوئی جارہی ہو، شعیب نے کچھ کہا ہے تو بتلاﺅ“۔ ساس نے بہو سے اپنے بیٹے کے متعلق پوچھا کہ کہیں میاں بیوی میں ان بن نہ ہوگئی ہو۔
”نہیں اماں.... یہ تو میرا بہت خیال رکھتے ہیں، بس ایسے ہی رونا آرہا ہے“۔ امی جان نے بڑی بے بسی سے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا۔
”تو بیٹی یقین کرو کہ تمہیں روتا دیکھ کر مجھے بھی رونا آرہا ہے، تم جانتی ہو کہ میں نے تمہیں کبھی بہو نہیں سمجھا، ہمیشہ بیٹی جانا اور کہا بھی بیٹی ہے۔ کیا تمہیں مجھ سے کوئی شکایت ہوگئی ہو“؟ اما گھبرانے لگیں۔
نہیں اماں کیسی باتیں کرتی ہیں آپ، آپ سب لوگ تو بڑے اچھے انسان ہیں، بس بات یہ ہے“۔
امی جان کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔
”ہاں ہاں.... بولو بیٹی، کہہ دینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوگا، ہوسکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد بھی کرسکوں“۔ بوڑھی اماں بی نے بہو کو تسلی دی۔
وہ.... وہ اماں بی.... اماں بی.... میں نے زین کی ڈائری پڑھ لی ہے“۔ اتنا کہہ کر امی جان پھر زار و قطار رونے لگیں، ساتویں جماعت میں پڑھنے والے اپنے پوتے‘ زین کی ڈائری کا سن کر تو وہ نہال ہوگئیں، جلدی سے خوشی اور مسرت بھرے لہجے میں بولیں:
”اے بیٹی تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے، اللہ سلامت رکھے، پھلے پھولے، ساتویں جماعت کا بچہ اگر اپنا رونا پیٹنا (ڈائری) لکھ رہا ہے تو یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے اور تم ہو کہ روئے جارہی ہو“۔
اماں بی مستقبل میں اپنے پوتے کو اعلیٰ افسر کے روپ میں دیکھ رہی تھیں۔
”ارے اماں بی.... پہلے پوری بات تو سن لیجئے“۔
امی جان نے ان کی خوشی گویا چھین لی۔
”ہاں ہاں بتاﺅ ڈائری میں کچھ لکھا ہوا تھا، تم بتلارہی تھیں“۔
جی ہاں، میں نے ڈائری پڑھی، اتفاق سے زین اپنے تکیے کے نیچے بھول گیا، اس میں لکھا ہوا تھا....“ اتنا کہہ کر امی جان نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے۔
”اس میں لکھا تھا اماں بی.... کہ میں بڑا بدنصیب بچہ ہوں، میری امی مجھ سے بالکل بھی پیار نہیں کرتیں، حسیب کیا، حسیب کی امی، نادر کی امی، اختر کی امی.... میرے سارے دوستوں کی امیاں تو ان سے اتنا پیار کرتی ہیں لیکن افسوس کہ میری امی مجھ سے بالکل بھی پیار نہیں کرتیں، صبح سویرے مجھے اسکول جانے کے لیے اٹھا دیتی ہیں، میرا دل چھٹی کرنے کو چاہے بھی تو زبردستی بھیجتی ہیں۔ ظہر کی نماز سے تو بچ جاتا ہوں لیکن عصر، مغرب اور عشاءکی نمازیں تو مسجد میں مجھے بھیجے بغیر انہیں چین ہی نہیں آتا، میں نیند میں جھوم رہا ہوتا ہوں مگر امی مجھے ہوم ورک کرواتی رہتی ہیں، کہتی ہیں تم ڈبل پروموشن ہو یعنی چھٹی پڑھے بغیر ساتویں میں آگئے ہو اس لیے سخت محنت کرو تاکہ کسی سے پیچھے نہ رہ جاﺅ۔
میرے جوتے اور یونیفارم ذرا سے گندے ہوجائیں تو امی خواہ کتنی ہی تھکی ہوئی کیوں نہ ہوں ان چیزوں کو چمکا کر رکھ دیتی ہیں اور میں جو اسکول شوز پہن کر احمد اور اختر کے ساتھ فٹ بال میچ کھیلنے کا سوچ رہا ہوتا ہوں.... دل مار کر رہ جاتا ہوں، امی میری ایک ایک بات ابو کو بتلاتی ہیں، ابو ان سے بہت خوش ہیں، دادی جان بھی امی کو بہت پسند کرتی ہیں، چاچو تو ہر وقت بھابھی جان سلام.... بھابھی جان سلام.... آتے جاتے ان سے یوں ڈرتے ہیں جیسے وہ میری نہیں، ان کی امی ہیں، آج میں تھک گیا، اب کل امی کی بہت سی باتیں اور لکھوں گا“۔
امی جان نے بہتے ہوئے آنسوﺅں کے درمیان تمام بات اماں بی کو بتلادی۔ ”ہوں“۔
تجربہ کار دادی نے سرہلایا، لمحوں میں ساری بات سمجھ گئیں۔
”اولاد اپنے لیے کی گئی آسانیوں کو سختیاں سمجھتی ہیں بیٹی‘ فرخندہ تم فکر نہ کرو۔ یہ ڈائری اسی طرح زین کے تکیے کے نیچے رکھ آﺅ اور شام کو جب شعیب دفتر سے آئیں تو انہیں لے کر عشاءکے بعد میرے کمرے میں آنا“۔
دادی جان نے گویا حکم دیا، وہ بہت گہری سوچ میں تھیں۔ ”جی بہتر اماں بی“۔
رات کو عشاءکی نماز اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر زین ماں باپ اور دادی کو ”شب بخیر“ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور جاتے ہی ڈائری نکال لی، ابو نے دادی جان کے منہ سے تمام بات سن کر چپکے سے زین کے کمرے میں جھانکا۔ وہ تیزی سے ڈائری لکھے جارہا تھا اور آہستہ آہستہ بڑبڑا بھی رہا تھا، امی بہت گندی ہیں، امی مجھ سے ذرا بھی پیار نہیں کرتیں“۔
شعیب صاحب نے یہ منظر دیکھ کر سر تھام لیا، انہیں اپنے سر میں شدید درد محسوس ہورہا تھا۔
وہ اپنے کمرے کی طرف پلٹے ہی تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی:
”ہیلو“۔
”ہیلو.... کون شعیب میں افتخار بات کررہا ہوں“۔
”اوہ.... کب آئے پاکستان“۔
”آج بلکہ دو گھنٹے پہلے اور سناﺅ گھر میں خیریت ہے“۔
”ہاں آں.... نن.... نہیں.... ہاں ہاں سب خیریت ہے“۔ شعیب صاحب گڑبڑا گئے۔
”بھائی کیا بات ہے؟ بھابھی اور بچہ تو ٹھیک ہیں،جلدی بتلاﺅ میں ابھی قبرستان سے اماں ابا کی قبروں پر فاتحہ پڑھ کر آیا ہوں، قبروں کی حالت ذرا ابتر ہورہی تھی، ایک گورکن سے انہیں مرمت کرنے کو کہا ہے، یہاں ہمارے ملک میں قبرستان کی حالت تو انتہائی خراب ہوتی ہے، میں ایک عرصے بعد پاکستان یہ سوچ کر آیا کہ اماں اور ابا کی قبریں جو پختہ کراکے گیا تھا، لڑکا ملازم رکھ کے گیا تھا کہ روزانہ قبروں کو پانی وغیرہ کا چھڑکاﺅ دے لیکن یہاں آکر تو....“ شعیب خاموش رہے۔
”ہیلو.... کیا بات ہے شعیب تم مجھ سے کچھ چھپارہے ہو“۔
افتخار نے پوچھا.... جواب میں شعیب نے زین سے متعلق ساری بات بتلادی۔
دوسری جانب سے افتخار کے ہنسنے کی آواز آئی۔
”کل تم ایک کام کرنا“۔ افتخار نے ہنستے ہوئے کہا۔
”کون سا بھلا؟“ شعیب نے کہا۔
”کل تم اپنے لڑکے کو میرے ساتھ قبرستان جانے دینا میرے والدین کی قبروں پر“۔
”لیکن.... لیکن.... اس کا زین کے مسئلے سے کیا تعلق ہے؟“ شعیب صاحب حیران رہ گئے۔
”تعلق ہے ناں بھائی“۔
”اچھا.... تو پھر میں بھی ساتھ چلا چلوں“۔
”ہاں ہاں کیوں نہیں“۔
٭....٭....٭
قبرستان میں بڑی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
افتخار نے ایک نظر ننھے زین کے چہرے پر ڈالی کہ کہیں وہ قبرستان میں آکر خوف زدہ تو نہیں ہے۔
”زین بیٹا.... آپ کو ڈر تو نہیں لگ رہا“۔
”جی نہیں انکل.... میں ابو کے ساتھ دادا جان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آتا رہتا ہوں اور پھر ہماری اسلامیات کی ٹیچر بتاتی ہیں کہ دنیا کی زندگی تو چند دنوں کی ہے، مرنے کے بعد تو سارے انسان ادھر ہی آئیں گے“
 شعیب اور افتخار اتنے سے بچے کے منہ سے ایسی عقل مندی کی بات سن کر حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔
”زین“۔ افتخار نے اسے پکارا۔
”جی انکل“۔
”زین.... تمہیں پتا ہے یہ قبر میری والدہ کی ہے“۔
”کون سی.... کون سی والی انکل“۔
”یہی جہاں سلیمہ بیگم لکھا ہے، یہ میری امی کا نام تھا“۔ افتخار صاحب نے اسے ایک قبر دکھلاتے ہوئے کہا۔ پھر نجانے ان کے دل میں کیا آئی کہ جیب سے ہزار ہزار کے نوٹوں کی گڈیاں نکالیں اور اپنی امی کی قبر پر رکھ دی۔
”لیجئے امی یہ میری تنخواہ میں سے تھوڑے سے پیسے آپ رکھ لیجئے!“ افتخار صاحب نے کہا۔
ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، زین اور شعیب انکل خاموش کھڑے تھے، تقریباً بیس پچیس ہزار روپے قبروں کی مٹی پر یوں ہی رکھے تھے اور افتخار صاحب برابر کہے جارہے تھے کہ ”لیجئے امی.... یہ پیسے لے لیجئے.... یہ آپ کا حق ہیں“۔
آخر کو زین سے ضبط نہ ہوسکا۔
بولا، لیکن انکل آپ کی امی یہ پیسے کیوں کر لے سکتی ہیں؟ وہ تو.... وہ تو۔ زین کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ کچھ کہے۔
”کیوں بیٹا.... کیوں نہیں لے سکتیں؟ جب انہوں نے مجھے پال پوس کر جوان کیا، میری ہر خوشی اور آرام کا خیال رکھا، اپنے آپ کو تکلیف دی لیکن مجھے ہر لمحہ آرام دیا، بچپن میں مجھے کبھی کبھی یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ میرے لیے سختیاں بو رہی ہیں لیکن ان کی تربیت ہی تو آج میرے کام آرہی ہے، زین بیٹا! میری امی میری اس قدر خیال رکھا کرتیں کہ مجھے یوں لگتا کہ وہ مجھ سے بالکل بھی محبت نہیں کرتیں، نماز، اسکول، ہوم ورک، کھیل کود، غرض ہر موقع پر انہوں نے میری تربیت کی تاکہ عملی زندگی میں مجھے کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پھر.... پھر.... میری امی اپنی محنت کا صلہ کیوں نہیں لیتیں؟ انہوں نے مجھ پر جو اتنی محنت کی اس کا معاوضہ کیوں نہیں لیتیں.... آج میں ہزاروں لاکھوں ان ہی کی محنتوں اور اعلیٰ تربیت کی وجہ سے کما رہا ہوں نا۔ تم بتاﺅ زین میاں! کیا میری خوشیوں میں ان کا حصہ نہیں ہے“۔
افتخار انکل باقاعدہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔
شعیب صاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو تیرنے لگے۔ زین بالکل خاموش کھڑا تھا۔
وہ اتنا چپ تھا کہ شعیب صاحب کا دل چاہ رہا تھا کہ اس فتنے کا گلا دبادیں جس کی سوچیں اس کی عمر سے اتنی بڑی اور اتنی باغی تھیں جو اپنی ہی ماں کو اپنا دشمن سمجھ رہا تھا۔
ذرا دیر بعد زین بڑے شرمندہ لہجے میں بولا:
”نہیں افتخار انکل.... آپ کی امی واقعی آپ سے پیار کرتی ہوں گی، جب ہی تو آپ کا اتنا خیال کرتی تھیں، مجھے دیکھئے.... میری امی تو زندہ ہیں، مجھ سے اتنا پیار کرتی ہیں اور میں اتنا بدنصیب ہوں کہ اس نعمت کو اپنے پاس پاتے ہوئے بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرتا“۔
٭....٭....٭
زین ماں کے پیٹ سے لگا زار و قطار رو رہا تھا، برابر ایک ہی بات کہے جارہا تھا۔
”مجھے معاف کردیجئے.... امی جان میں افتخار انکل کی طرح پچھتانا اور افسوس کرنا نہیں چاہتا۔ میں آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں جو آپ میری اس قدر خدمت کرتی ہیں“۔
فرخندہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں۔
”بیٹا.... ماں باپ کوئی صلے یا انعام کے لیے اولاد کی خدمت تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ یہ تو فرض ہے، اللہ تمہیں خوش رکھے کہ تمہیں احساس ہوگیا، صبح کو بھولا شامل کو گھر آجائے تو اسے کب کسی نے بھولا ہوا کہا ہے؟“ یہ کہتے ہوئے انہوں نے بھینچ کر زین کو گلے لگالیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close