Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

شہد کی مکھی

 
  محمد علی سید  
 
انسان کی تیار کردہ غذا تو ہم روزانہ کھاتے ہیں، ہم مختلف اداروں کے بنائے ہوئے بہت سے شربت بھی اکثر استعمال کرتے ہیں، ان غذاﺅں اور شربتوں کا ذائقہ، معیار اور ان میں موجود غذائیت کا دار ومدار ان میں استعمال ہونے والے اجزاءپر ہوتا ہے، یہ غذائیں اور مشروبات مختلف اشیاءسے مل کر تیار ہوتے ہیں، تیار کرنے والوں اور انہیں استعمال کرنے والوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ کون کون سی اشیاءکے اجزاءاستعمال کررہے ہیں۔
دو مشروبات بہرحال ایسے ہیں جنہیں ہمارے لیے انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات تیار کرتی ہیں۔ ان مخلوقات کے ذریعے اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے دو ایسے مشروبات کا اہتمام کیا ہے جنہیں تیار کرنے میں انسان کا عمل دخل بہت کم ہے، ان مشروبات میں ایک دودھ اور دوسرا شہد ہے، دودھ آپ کے لیے گائے، بھینس، بکریاں تیار کرتی ہیں جبکہ شہد جیسا شفاءبخش مشروب شہد کی مکھیاں تیار کرتی ہیں۔
شہد کھاتے وقت کوئی شخص اس کارخانہ کی وسعت و صلاحیت کا اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ جس کارخانے میں لاکھوں کارکن کام کرتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نادر و نایاب صلاحیتوں کی مدد سے انسانوں کے لیے یہ زندگی بخش مشروب تیار کرتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح اللہ کی قدرت سے یہ کام سر انجام پاتا ہے۔
غذا کی تلاش اور شہد تیار کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں مکھیاں صبح سورج کی روشنی پھوٹنے سے رات کا اندھیرا پھیلنے تک مسلسل مصروف رہتی ہیں، یہ مکھیاں اپنے چھتے سے پھلوں اور پھولوں تک ہزاروں چکر لگاتی ہیں، پھولوں کا مرکزی حصہ، جہاں زردی موجود ہوتی ہے، ان کی منزل ہوتا ہے۔
پھلوں کے رس اور زردانے کے اس خزانے تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو خصوصی بصارت عطا کی ہے، شہد کی مکھیاں روشنی کی ان لہروں کو بھی دیکھ سکتی ہیں جو انسانوں کو نظر نہیں آتیں، الٹروائلٹ شعاعوں کو دیکھ سکنے کی بناءپر شہد کی مکھیوں کو زرد پھول نیلا دکھائی دیتا ہے۔
اسی سبب سے شہد کی مکھیوں کو پھول کے اوپر وہ خصوصی اشارے یا نشانات نظر آجاتے ہیں، جو پھول کے اوپر اڑنے کے دوران شہد کی مکھیوں کی اس طرح رہنمائی کرتے ہیں، جس طرح ائیر پورٹ یارن وے کے سگنلز لینڈنگ کے وقت پائلٹ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ اسے کہاں لینڈ کرنا ہے اور پھر کس طرف جا کے ٹھہرنا ہے۔
پھولوں کا رس پینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو ٹیوب جیسی زبان عطا کی ہے جس طرح آپ اسٹرا کے ذریعے ٹھنڈی بوتل پیتے ہیں، اسی طرح شہد کی مکھیاں پھولوں سے آب حیات پیتی ہیں، آپ اسٹرا کو پھینک دیتے ہیں، جب کہ شہد کی مکھیاں اپنی اسٹرا کو تہہ کرکے منہ کے اندر رکھ لیتی ہیں، اسی دوران پھولوں کا زردانہ بھی ان کے جسم کے روئیں سے چپک جاتا ہے اور زردانے کو شہد کی مکھیاں اپنی پچھلی ٹانگوں پرلگی ہوئی ایک ٹوکری میں جمع کرلیتی ہیں، اپنے چھتے میں آنے کے بعد وہ پھولوں کے رس اور زردانے کی مدد سے شہد تیار کرتی ہیں، شہد کی مکھی جب تقریباً 100 پھولوں کا رس پی چکتی ہے تو اپنے چھتے میں واپس آکر اس میں الٹ دیتی ہے، پھر کارکن مکھیاں اس میں اپنا لعاب دہن شامل کرکے اسے شہد میں تبدیل کردیتی ہےں۔
پھولوں اور پھلوں کی ہزاروں اقسام پائی جاتی ہیں،شہد کی مکھیاں عام پھلوں اور پھولوں کے علاوہ سبزیوں کے پھولوں سے بھی رس حاصل کرتی ہیں اور ان کا زردانہ بھی جمع کرتی ہیں، کسی انسان کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ جو شہد کھا رہا ہے اس میں کتنے اقسام کے پھولوں کا کس قدر رس شامل کیا گیا ہے۔
قدرت نے انسان کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا ہے کہ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ شہد کی مکھیاں جب باغوں اور کھیتوں سے واپس اپنے چھتے میں پہنچتی ہیں تو سپاہی قسم کی مکھیاں انہیں باقاعدہ چیک کرتی ہیں کہ وہ اپنے ساتھ کسی قسم کا زہریلا مادہ تو نہیں لے کر آئیں، اگر کوئی مکھی مضر صحت اجزاءاپنے ساتھ لے آتی ہے تو چھتے کے سیکورٹی گارڈ اسے اسی وقت دو ٹکڑے کرکے نیچے پھینک دیتے ہیں، اگر ایسا انتظام موجود نہ ہو تو ممکن ہے کہ شہد میں بہت سے زہریلے مادے شامل ہوجائیں اور یہی شہد انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو۔
شہد کے ایک چھتے میں بیک وقت 80 ہزار مکھیاں ہوسکتی ہیں، ان کے مختلف گروپ‘ مختلف کام سرانجام دیتے ہیں، مثلاً چھتے کی تیاری کے لیے خام مال کی فراہمی، حیران کن ڈیزائن کے مطابق تمام خانے چھے پلو اور ایک سائز کے بنانا، غذا کی تلاش اور فراہمی، نئی پیدا ہونے والے مکھیوں کی پرورش، چھتے کی حفاظت، سردیوں اور گرمیوں کے مختلف درجہ حرارت کے باوجود چھتے کے اندرونی درجہ حرارت کو ایک مخصوص ٹمپریچر پر برقرار رکھنا، یہ سارے حیران کردینے والے کام بغیر ٹیم ورک کے ممکن نہیں ہوسکتے، جہاں ہزاروں کارکن کام کررہے ہوں، وہاں ایک دوسرے سے رابطہ ناگزیر ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو ایک منفرد قسم کا مواصلاتی نظام عطا کیا ہے جس کی مدد سے ہزاروں مکھیاں بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے اپنے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔
غذا کی تلاش کرنے والی مکھیاں صبح سویرے رزق کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہیں، پہلی مکھی کو جیسے ہی خوراک کا ذخیرہ نظر آتا ہے تو وہ تیزی سے اپنے چھتے کے قریب آتی ہے اور ایک خاص قسم کا رقص شروع کردیتی ہے، مکھی کے اس رقص کے ذریعے تمام مکھیاں سمجھ جاتی ہیں کہ غذا کا ذخیرہ کس سمت میں موجود ہے اور یہ جگہ چھتے سے کتنے فاصلے پر واقع ہے۔
اس مواصلاتی رقص کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں جب شہد کی مکھی مختصر گول دائرے میں گھومتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ غذا کا ذخیرہ کہیں قریب ہی موجود ہے، اس سگنل میں سمت کا اندازہ نہیں ہوتا اس لیے مکھیاں مختلف سمتوں میں پھیل جاتی ہیں، شہد کی یہ مکھی ایک مخصوص انداز سے گھومتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غذا کا ذخیرہ اتنے زاویے پر واقع ہے۔
شہد کی مکھی کے رابطے کے لیے اس کے سر پر لگے دو انٹینے بھی بڑا مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، شہد کی مکھیں سونگھنے کی حیران کن صلاحیت رکھتی ہیں، سیب کی خوشبو یہ دو میل دور سے بآسانی سونگھ سکتی ہے۔
شہد کی مکھی کی آنکھیں بھی قدرت کا انوکھا شاہکار ہیں۔ انسانی آنکھ میں دو عدسے ہوتے ہیں جبکہ شہد کی مکھی کی دو آنکھوں میں سے ہر آنکھ میں چھ ہزار عدسے موجود ہوتے ہیں، یعنی اس کی دونوں آنکھوں میں اللہ تعالیٰ نے مجموعی طور پر بارہ ہزار عدسے پیدا کیے ہیں، انہی کی مدد سے وہ بے شمار زاریوں میں دیکھ سکتی ہے، ہم تو پھولوں کی پنکھڑیوں، زردانے اور اس کے رنگ ہی کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب کہ شہد کی مکھی پھول کے مختلف حصوں کے ننھے سے ننھے خلیوں میں مضر اجزاءاور گردو غبار کے باریک ترین ذرے کا بھی تفصیل سے معائنہ کرسکتی ہے۔

چھتے کا درجہ حرارت

شہد کے چھتے کے گرد ہر وقت ایک گونج سی پھیل رہتی ہے، عام لوگ اس گونج کو مکھیوں کی آواز سمجھتے ہیں لیکن یہ گونج مکھیوں کی آواز نہیں ہوتی، یہ آواز دراصل مکھیوں کے پروں کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے، ہر مکھی کے جسم پر اللہ نے چار پر عطا کیے ہیں۔
یہ پر جس میٹریل سے بنائے گئے ہیں وہ بھی حیران کن طاقت رکھتا ہے، ایک مکھی ہر سیکنڈ میں پروں کو سینکڑوں بار حرکت دیتی ہے لیکن اس کثرت استعمال کے باوجود پر نہ کبھی خراب ہوتے ہیں اور نہ پھٹ کر الگ ہوتے ہیں، جب ارد گرد فضاءسخت گرم ہوتی ہے تو شہد کی مکھیاں اپنے پروں کو حرکت سے چھتے کے اندر درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکتی ہیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کا موم کا بنا ہوا گھر گرمی سے پگھل سکتا ہے۔
آپ نے دیکھا کہ آپ جو مزیدار شہد کھاتے ہیں اس شہد کے آپ تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسا زبردست کارخانہ لگا رکھا ہے، اس کارخانے میں کتنی اقسام کا خام مال کہاں کہاں سے لایا جاتا ہے اور لاکھوں کارکن کس طرح دن رات آپ کے لیے لذیز مشروب تیار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ شہد کی یہ ننھی منی مکھیاں انسانوں کے لیے شفاءبخش مشروب تیار کرنے میں کیوں کامیاب ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی اس مخلوق نے اپنے مقصد میں اس لیے کامیابی حاصل کی ہے کہ اللہ نے اسے جو ہدایت دی ہے، یہ اس سے بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہٹتی، یہ مخلوق اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کے احکامات کے مطابق بسر کرتی ہے، اسی لیے جو مشروب وہ اشرف المخلوقات یعنی انسان کے لیے تیار کرتی ہے، وہ مشروب نہ صرف خود ان کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ تمام انسانوں کے لیے شفا کا باعث بھی بنتا ہے۔
اگر ہم اور آپ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں تو یقینا ہمارے اعمال بھی خود ہمارے اور تمام انسانوں کے لیے خوش حالی، صحت، تندرستی اور شفا کا باعث بن سکتے ہیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close