Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

احساس

 
  عبدالصمد مظفر  
 
بھائی اب اٹھ بھی جاﺅ....!! دیکھو سورج سر پر آرہا ہے، تم نے تو دوسری شفٹ میں اسکول جانا ہوتا ہے، مگر میں نے تم کو ناشتہ دے کر کالج جانا ہوتا ہے۔“ یہ زریں گل کی آوازیں تھیں، جو اسے روزانہ صبح اپنے چھوٹے بھائی کو جگانے کے لیے د ینا پڑتیں، دو کمروں پر مشتمل چھوٹے سے گھر میں پانچ افراد رہتے تھے، میاں جی اپنے تینوں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا کر اچھے عہدوں پر فائز دیکھنا چاہتے تھے، مگر وہ تو اپنے تمام ارمان اور خواب دل میں لے کر اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔
اب گھر کا سارا بوجھ ان کے بڑے بیٹے عمر گل کے کندھوں پر آپڑا تھا۔ وہ اپنی پڑھائی بھی مکمل نہ کرسکا اور اپنے باپ کے خواب کی تعبیر کے لیے ائیر کنڈیشنڈ اور فریج کا کام سیکھنے لگا، ماں نے اسے کئی مرتبہ کہا کہ بیٹا! تم پہلے اپنی تعلیمی مکمل کر لو، پھر شام کو گھر میں اپنی دکان کھول لینا، مگر گھر کا واحد کفیل ہونے کے احساس نے اسے مزید پڑھنے کا موقع نہ دیا، وہ اپنے کالج کا سب سے ہونہار او قابل طالب علم تھا، مگر تقدیر کے ہاتھوں مجبور تھا، حالاں کہ وہ جانتا تھا کہ انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے مگر جن حالات کا سامنا اسے کرنا پڑرہا تھا وہ مجبور تھا کہ تقدیر کے لکھے پر راضی رہے، اب اس نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد چن لیا تھا کہ اپنے چھوٹے بہن بھائی کو مکمل تعلیم یافتہ بنا کر انہیں کسی اچھے عہدے پر دیکھے، وہ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دن رات محنت سے کام کررہا تھا۔
زریں گل کالج سے واپس آکر اپنی ماں کے ساتھ گھر کے تمام کاموں میں ان کا پورا ساتھ دیتی تھی، صرف فخر گل ہی لاپروا اور ضدی تھا، وہ رات کو اکثر دیر تک جاگتا رہا اور پھر اگلے دن اسکول جانے کے لیے بڑی مشکل سے اٹھتا اور تیاری کرتا تھا، میٹرک کے سالانہ امتحان بھی نزدیک تھے، مگر وہ اس سے بے خبر ہو کر نہایت ڈھٹائی سے بری عادتوں کو اپنائے ہوئے تھا، فخر گل میں احساس نام کی کوئی چیز ہی نہ تھی، وہ بچپن کے بے جا لاڈ پیار سے لاپروا ہوچکا تھا، اسکول سے واپس آکر گھنٹہ بھر بے دلی سے کتاب کھول کر پڑھتا، پھر فوراً محلے میں واقع انٹرنیٹ کیفے میں چلا جاتا، جہاں سے رات کو دیر سے واپس گھر آتا تھا، عمر گل نے اس کو کئی مرتبہ ذمہ داری کا احساس دلایا، مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا، بلکہ اب تو وہ اپنے بڑے بھائی کے سامنے بھی نہیں آتا تھا کہ کہیں اسے کوئی نصیحت سننی نہ پڑجائے، وہ ان نصیحتوں سے بیزار ہوچکا تھا۔
عمر گل صبح سویرے اٹھ کر نماز پڑھتا اور ناشتہ کرکے اپنی پرانی موٹر سائیکل پر سمن آباد چلا جاتا، جہاں اس کے استاد کی دکان تھی، گرمیوں کے دن تھے اور آج کل ائیر کنڈیشنڈ اور فریج کی مرمت کروانے والوں کا ہجوم رہتا تھا، عمر گل کو اپنی پرانی موٹر سائیکل سے بہت محبت تھی، وہ اسے بہت عزیز رکھتا تھا کیوں کہ یہ مرحوم میاں جی کی نشانی تھی، اس کی ٹینکی پر بیٹھ کر وہ میاں جی کے ساتھ سفر کرتا تھا اور کبھی کبھی سوچتا کہ وہ کب اتنا بڑا ہوجائے گا کہ اس کو خو چلالیا کرے گا؟ اب وہ اپنے بچپن کی ایسی باتیں سوچتا تو اکیلے میں مسکرادیتا، اس موٹر سائیکل کے ساتھ اسے جنون کی حد تک پیار تھا۔
دکان پر دلچسپی اور اپنے اوپر آنے والی ذمہ داریوں کے احساس نے عمر گل کو چند ماہ میں ہی ہنر مند بنادیا تھا، پھر یہ دکان کم اور ورکشاپ زیادہ تھی، معیاری کام کی وجہ سے لاہور بھر سے لوگ اسی دکان پر آتے تھے اور تسلی بخش کام سے مطمئن ہو کر جاتے تھے، جب سے عمر گل نے یہاں آنا شروع کیا تھا ہر گاہک اس کے کام کو سراہتا تھا، دکان کا مالک ملک نعمان بھی اس کا بہت خیال رکھتا تھا، مگر وہ کام پورا کرواتا تھا، عمر گل صبح نو بجے سے رات نو بجے تک اپنے کام میں مگن رہتا تھا، اس کی اپنے کام سے زیادہ کوئی اور ترجیح نہیں تھی، اگر کبھی اس کی ماں کوئی کام کہہ دیتی تو وہ کام کی زیادتی کی وجہ سے نہ کرپاتا، وہ دکان پر سے کام کے بتائے کام پر جانے لگتا تو کوئی نہ کوئی ائیر کنڈیشنڈ یا فریج ٹھیک ہونے کے لیے آجاتا، اسے اپنی ماں کے کام کا خیال تو رہتا مگر اپنے چھوٹے بہن بھائی کو تعلیم یافتہ بنانے کا خواب پورا کرنے کے لیے رک جاتا اور کام میں مگن ہوجاتا تھا۔
رات کو جب عمر گل گھر آتا تو ماں کے سامنے شرمندہ ہوجاتا اور تھکن سے چور آواز میں کہتا ”ماں! آج کام بہت زیادہ تھا، کہیں جانے کا وقت نہیں ملا“۔ زریں گل سیکنڈ ائیر کے امتحان دے رہی تھی، وہ اکثر بڑے بھائی سے کسی اسکول میں نوکری کرنے کا کہتی تو وہ ناراض ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہتا ”میری بہنا! تم دونوں میاں جی کے خواب پورے کرنے کے لےے اپنی پڑھائی مکمل کرلو، پھر جہاں چاہے نوکری کرلینا، ارے پگلی، میں جو سارا دن کام کرتا ہوں، وہ تم دونوں کو پڑھانے کے لیے ہی تو کرتا ہوں نا....“ یہ کہہ کر اس کی آنکھوں میں نمی آجاتی تھی۔
چند دنوں سے فخر گل موبائل فون اور کمپیوٹر لینے کا مطالبہ کرنے لگا تھا، اسکول سے گھر آکر اپنی ماں سے بحث و تکرار کرتا رہتا کہ مجھے موبائل اور کمپیوٹر لے کر دیں، اگر دونوں چیزیں نہیں تو صرف کمپیوٹر ہی لے دیں، جماعت میں سب لڑکوں کے پاس کمپیوٹر ہے، آج کل یہ ہر طالب علم کی ضرورت بن چکا ہے، مجھے بھی اس کی ضرورت ہے۔
رات کو جب عمر گل گھر آیا تو ماں جی نے فخر گل کا مطالبہ اس کے سامنے بیان کردیا، وہ اپنی ماں کی بات سن کر خاموش ہوگیا، ابھی وہ اپنی ماں کی بات پوری کرنے کا سوچ ہی رہتا تھا کہ زریں گل نے چھت سے آواز دیں۔ ”بھیا! اماں.... فخر گل نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کرلیا ہے اور رو رہا ہے، کہتا اہے کہ اگر میاں جی زندہ ہوتے تو میری خواہش ضرور پوری کرتے۔ اے اللہ مجھے بھی ان کے پاس لے جا۔“ عمر گل کو یہ سن کر شدید دھچکا لگا، وہ یہ الفاظ سننے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس نے تو اپنی پڑھائی، مستقبل اور اپنا سب کچھ ان دونوں کے لیے وقف کردیا تھا، مگر اب صورتحال واقعی سنگین تھی، عمر گل اور اس کی ماں جلدی سے چھت پر گئے اور فخر گل کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اس نے دروازہ نہ کھولا۔ آخر عمر گل نے زور لگا کر اندر سے لگی چٹخنی اکھاڑ لی اور جب وہ اندر گئے تو فخر گل اپنے بستر پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا، اس کا تکہ آنسوﺅں سے تر تھا۔ روتے روتے وہ بے ہوش ہوچکا تھا، عمر گل نے جلدی سے اسے اٹھایا اور قریبی ہسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے کوشش کرکے اسے جلد ہوش دلایا مگر ہسپتال میں دو دن رہنے کا کہا تاکہ ذہنی کیفیت معمول پر آجائے۔
تین دن بعد جب فخر گل گھر لوٹا تو اپنے کمرے میں گیا جہاں کمرے کے ایک طرف بالکل نیا کمپیوٹر اور موبائل فون پڑا تھا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا، وہ دوڑ کر کمپیوٹر کے پاس چلاگیا اور اسے آن کرنے لگ گیا۔ عمر گل نے میاں جی کی نشانی موٹر سائیکل جو اسے بہت پیاری تھی اسے بیچ دیا تھا تاکہ چھوٹے بھائی کو باپ کی کمی جو احساس ہوا ہے، وہ آئندہ کبھی نہ ہو۔
رات کو جب دکان سے عمر گل گھر آیا تو آتے ہی چارپائی پرلیٹ گیا، زریں گل اور ماں بھاگ کر اس کے قریب آئے، اماں نے اس طرح آکر لیٹ جانے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا ماں! آج طبیعت بہت اداس ہے، پھر وہ سارے کام گننے لگا جو اس کی ماں نے اسے کہے تھے، پھر کہنے لگا ”ماں! کل دکان سے چھٹی کروں اور تمہارے سارے کام کروں گا“۔ پھر اس نے زریں گل سے پوچھا۔ ”بہنا تم کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟ اگر ضرورت ہو تو ضرور بتانا، کیوں کہ آج تنخواہ میں اضافہ بھی ہوا ہے اور پھر موٹر سائیکل بیچ کر کمپیوٹر اور موبائل خریدنے کے بعد کچھ روپے بچ گئے ہیں“۔ یہ کہہ کر وہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر بولا ”ماں! یہاں سینے میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہورہا ہے“۔ ماں نے کہا بیٹا! تم آرام کرو اور اپنی صحت کا خیال کرو۔ زیادہ نہ سوچا کرو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بعد تمہارا ہی سہارا ہے“۔ ماں نے عمر گل کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا اور اس کے سینے پر ہلکا ہلکا مساج کرنے لگی، عمر گل نے ماں سے پوچھا ”ماں! اب آپ کی صحت کیسی ہے؟ صبح آپ بھی ڈاکٹر کے پاس جانا اور اچھی سی دوائی لکھوا لانا اور ہاں.... ماں! فخر گل دونوں چیزیں لے کر خوش تو ہے نا؟ بس ماں! آپ دعا کریں کہ میں اپنے بہن بھائی کو پڑھا کر بہترین مستقبل دے سکوں“۔
ماں بیٹا ابھی باتیں کرہی رہے تھے کہ عمر گل کے سینے میں اٹھنے والا درد شدید ہوگیا، وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر کھانسنے لگ گیا، ماں نے فخر گل کو جلدی سے آواز دی کہ وہ بھاگ کر ڈاکٹر کو بلالائے یا بھائی کو ہسپتال لے جائے، مگر وہ تو کمپیوٹر پر گیم کھیلتے ہوئے موبائل فون کی ہینڈ فری کانوں میں لگائے گانے سن رہا تھا، اتنی دیر میں عمر گل اپنے بہن بھائی کو پڑھانے اور باپ کی کمی کا احساس نہ ہونے کا خواب لیے ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close