Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

وطن کشمیر

 
   
 
”فضلو بابا نہ جائیں نا آپ! گاﺅں میں کیا رکھا ہے۔ آپ اب صرف میرے فضلو بابا ہیں، دیکھیں میں روٹھ جاﺅں گا“۔ ننھے شاہان نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔ مجھے پتا ہے آپ نے داد ابو سے کیا بات کی تھی۔ میں ہرگز آپ کو نہیں جانے دوں گا۔ یہ کہتے ہوئے اس نے فضلو بابا کا دامن پکڑلیا۔
چھوٹے صاحب، سمجھو بھی نا میری بات! دیکھو جی میں کوئی ہمیشہ کے لیے تھوڑی جارہا ہوں۔ آج گیا، کل نہیں تو پرسوں ترسوں واپس آجاﺅںگا آپ کے پاس، ہاں تو مجھے بتاﺅ کیا کیا چیزیں لاﺅں تمہارے لیے۔ فضلو بابا نے شاہان کو سمجھاتے ہوئے کہا مگر شاہان میاں ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔
”ارے کیا بات ہے بھئی، کیا ہورہا ہے فضلو میاں“۔ دادا ابو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔ فضلو یہ کیا، شانی میاں کیوں منہ بسورے بیٹھے ہیں۔ بڑے صاحب یہ جو چھوٹے صاحب ہیں نا، بڑے ہی ضدی ہیں، مجھے چھوڑ ہی نہیں رہے۔ کہتے ہیں گاﺅں نہیں جاﺅ۔ آپ خود ہی بتائیں میں کیا کروں۔
تو پھر نہ جاﺅں نا فضلو، تمہیں معلوم ہے شانی میاں اداس ہوجایا کرتے ہیں، دادا ابو نے چھڑی ایک طرف رکھی اور صوفے پر نیم دراز ہو کر بولے۔ آخر گاﺅں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے تمہیں۔ مدت ہوگئی تمہیں شہر آئے ہوئے، ہر طرح کا آرام ہے تمہیں، ہمارے پاس رہنے کو اچھی جگہ ہے۔ دونوں بچے پڑھ رہے ہیں، معقول تنخواہ ہے۔ گاﺅں میں اب کیا رکھا ہے تمہارے لیے۔ دادا ابو نے فضلو بابا کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ دادا ابو کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے شاہان بھی چہکا۔جی ہاں دادا جانی کیا ضرورت ہے انہیں گاﺅںجانےھ کی، اب یہ میرے فضلو بابا ہیں، انہیں کہیں کہ یہ کہیں نہ جائیں۔ ننھے شانی نے کہنے کو تو بات کہہ دی مگر اسے کیا اندازہ کہ فضلو بابا کیوںگاﺅںجانا چاہتا ہے، جب معاملہ بگڑتا ہوا محسوس کیا تو فضلو رنجیدہ سا ہوگیا۔ فرش پر بیٹھ گیا اور آہستہ آہستہ دادا ابو کے پاﺅں دبانے لگا۔
فضلو شاہان کے دادا ابو یعنی سردار توفیق علی خان کا دیرینہ خادم ہے۔ ہمیں تو معلوم نہیں، یہ کب یہاں آیا تھا البتہ شاہان کے ابو، سردار حسن علی خان نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ فضلو بچپن ہی میں گاﺅں چھوڑ کر ان کے ہاں ملازم ہوگیا تھا، ملازم کیا وہ تو گھر ہی کا فرد تھا۔ اچھا کھانا، پینا،اچھی رہائش اچھا لباس، سردار توفیق علی خان کو ایک زمانہ جانتا ہے۔ ملتان کے پورے علاقے میں ان کا بڑا نام ہے، نام کیوں نہ ہو، ان جیسا رحم دل اور خدا ترس انسان شاید ہی کوئی اور ہو۔ سردار توفیق علی خان اب حویلی ہی میں رہتے ہیں اور فضلو جسے گھر کے سب لوگ اب فضلو بابا کہتے ہیں، ہر دم ان کی خدمت پر مامور رہتا ہے۔
دیکھا جائے تو فضلو بابا ہے بھی بڑا نیک اور سچا خدمت گار، بڑا ہی وفادار انسان ہے، شاہان میاں کی تو فضلو بابا سے بڑی پکی دوستی ہے۔ فضلو بابا بھی شاہان کا بے حد خیال رکھتے ہیں، وہ بھی ہر وقت فضل بابا ہی کے ساتھ نتھی ہوا رہتا ہے، بچے تو پیار ہی کی زبان سمجھتے ہیں نا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب بھی کبھی فضلو بابا نے گاﺅں جانے کی اجازت چاہی، ننھے شاہان کا موڈ خراب ہوگیا۔
دادا ابو کو اس کے گاﺅں جانے پر اعتراض تو نہیں تھا مگر انہیں حیرانی ضرور تھی کہ آخر اسے گاﺅں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے، انہوں نے فضلو بابا سے پوچھ ہی لیا، دادا ابو کی بات پر پہلے تو وہ کچھ پس و پیش کرتا رہا تاہم سردار صاحب کے تیور دیکھ کر آہستہ سے بولا۔
بڑے صاحب جی آپ کو ایک پرانا قصہ سناتا ہوں، شاید اسی سے آپ کے سامنے پوری بات آجائے۔ چلو بھئی تم وہ قصہ ہی سنا دو، کیوں شانی ٹھیک ہے نا!۔ دادا ابو نے مسکراتے ہوئے شاہان کی طرف اشارہ کیا۔
فضلو بابا کو ذرا ہمت ہوئی اور سردار صاحب کے پاﺅں دباتے ہوئے بولا، صاحب جی! پرانے وقتوں میں ایران کے بادشاہ کے پاس ایک تاجر نے بڑی نایاب سنہری چڑیا تحفے کے طور پر بھیجی، اس چڑیا کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بڑی میٹھی زبان میں باتیں کرتی ہے، بادشاہ نے اس چڑیا کو ایک بڑے ہی خوبصورت سونے کے بئے ہوئے پنجرے میں ڈالا اور شاہی محل میں ایک نمایاں جگہ پر لٹکادیا۔ چڑیا کو وہاں طرح طرح کی چیزیں کھانے پینے کو میسر تھیں اور آرام بھی بہت تھا مگر کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ تو اس نے کوئی گیت گایا اور نہ ہی کوئی بات کی۔ بادشاہ بڑا حیران تھا۔ وہ تو سنہری چڑیا کی باتیں سننے کا منتظر تھا مگر چڑیا تھی کہ ہر وقت اداس بیٹھی رہتی، آخر ایک دن اس نے اسے پنجرے سے آزاد کردیا اور ساتھ ہی اپنے درباریوں سے تاکید کی کہ وہ معلوم کریں کہ یہ چڑیا اڑ کر کہاں جاتی ہے۔
چڑیا کا پنجرہ جونہی کھولا گیا، وہ اڑی اور محل سے نکل کر دور کھلی فضا میں تیرنے لگی، بادشاہ کے درباری چپکے چپکے سے اس کا پیچھا کرتے رہے، انہوں نے دیکھا کہ سنہری چڑیا دور پہاڑی وادید میں ایک ویران درخت پر جا بیٹھی، بڑی خوشی میں پر پھڑپھڑائے اور میٹھی سریلی آواز میں بولی۔ ”وطن کشمیر“۔ بادشاہ کو اس ساری بات کا پتا چلاا تو وہ سمجھ گیا کہ سنہری چڑیا کیوں اداس اور خاموش تھی۔
یہ کہتے ہوئے فضلو بابا نے بڑی لجائی ہوئی نظروں سے سردار صاحب کی طرف دیکھا اور پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا، صاحب جی، اس چڑیا کے لیے وہ چھوٹا موٹا درخت ہی وطن کشمیر تھا، شاہی آرام و آسائش اور سونے کا پنجرہ بھی اس کے دل سے وطن کی محبت محو نہ کرسکا۔ صاحب جی، مجھے بھی میرا وطن بہت یاد آرہا ہے، وطن کی محبت تو ایمان کا حصہ ہے ناں، گاﺅں کے کچے پکے مکان، گندی مندی گلیاں اور اس کی کھلی فضا جہاں میں نے آنکھ کھولی، وہ سب کچھ مجھے بہت یاد آتا ہے۔
ننھا شاہان یہ ساری باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا، یکدم اپنے دادا ابو سے کہنے لگا۔ دادا ابو، یہ ٹھیک ہے، فضلو بابا کو اپنے گاﺅں ضرور جانا چاہیے، وہ بھی تو ان کے لیے وطن کشمیر ہی ہے نا، ہاں بیٹا وطن کی محبت بڑی چیز ہے۔ سردار صاحب کسی گہری سوچ میں تھے، کہنے لگے، کاش ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھی آزادی میسر آئے، آج ہزاروں لاکھوں کشمیری نہ صرف وطن سے دور پردیس میں زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ ہر روز آزادی کی خاطر جانوں کے نذرانے بھی پیش کررہے ہیں۔
صاحب جی، ان مظلوموں کی قربانی رائیگاں ہرگز نہیں جائے گی، ہمارے کشمیری بھائی ایک نہ ایک دن ضرور آزاد ہوں گے، ہمیں معلوم ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے، ہم ہر طرح سے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں، وہ دن دور نہیں جب وہ بھی آزاد فضاﺅں میں خوشی کے گیت گائیں گے۔ ان شاءاللہ ان شاءاللہ، دادا ابو نے کہا۔
”ہاں بھئی فضل، ہمارے کشمیری بھائی سالہا سال سے غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں، قیام پاکستان سے پہلے ہی کشمیر کے عوام نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہر صورت میں پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے مگر عیار دشمن نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ ظالم حکمرانوں نے ہندوﺅں کے ساتھ سازباز کرکے بھارتی حکومت سے گٹھ جوڑ کرلیا اور یوں مظلوم کشمیری غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجگئے، مگر شاباش کہ وہاں کے غیور عوام نے کسی بھی صورت غاصب حکمرانوں سے سمجھوتا نہیں کیا بلکہ ہر حال میں آزادی کی جدوجہد جاری رکھی، آزادی کی خاطر لاکھوں کشمیری جان کی قربانی دے چکے ہیں، آزادی جیسی انمول نعمت کچھ یونہی نہیں مل جاتی۔ ایک نہ ایک دن وہاں آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا اور ہمارے مظلوم کشمیری بھائی آزاد فضاﺅں میں وطن کشمیر کے گیت گا سکیں گے۔ اللہ کرے وہ دن جلد آئے۔
یہ کہتے ہوئے دادا ابو کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے اور اللہ رب العزت کے حضور ان کا سر جھک گیا۔ دادا ابو کے ساتھ ساتھ شاہان نے بھی اپنے ننھے منے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا دیے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close