Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مہلت چوبیس گھنٹے کی

 
   
 
کاشف اور آصف دادی اماں کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے، دونوں کو دادی اماں کہانی سنانے والی تھیں، جب کافی دیر تک انہوں نے کہانی شروع نہ کی تو کاشف بولا۔
دادی جان کہانی شروع کریں، آج بھی پہلے کی طرح کوئی اچھی سے کہانی سنائیے گا۔
میں ہر روز تمہارے لیے نئی نئی کہانیاں کہاں سے لاﺅں، بس ذرا سوچنے دو کوئی نہ کوئی کہانی ضرور یاد آجائے گی۔ دادی اماں کی بات سن کر کاشف نے کہا۔
دادی جان ہمیں نہیں پتا جہاں مرضی سے کہانی تلاش کریں اور ہمیں سنائیں۔ آپ نے کہانی نہیں سنائی تو نیند کیسے آئے گی، میرا دوست سلیم تو کہتا ہے کہ اس کی دادی جان کے پاس کہانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے، کیا آپ کے پاس کہانیوں کا خزانہ نہیں ہے۔
کہانیوں کا خزانہ تو میرے پاس بھی ہے میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ آج تمہیں کون سی کہانی سناﺅں اب ذرا دم لو۔ دیکھ لو آصف خاموش سے لیٹا ہوا ہے اسے علم ہے کہ جونہی مجھے اچھی سی کہانی یاد آئے گی میں سنانا شروع کردوں گی۔ یہ سن کر کاشف بھی خاموش ہوگیا۔ وہ بار بار دیوار پر لگے کلاک کی ٹک ٹک کرتی ہوئی سوئیوں کو دیکھ رہا تھا، نو بج چکے تھے مگر دادی جان ابھی تک خاموش تھیں۔ دونوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ آج کی رات بغیر کہانی سنے ہی سونا پڑے گا۔ دونوں ناامید ہوچکے تھے مگر اس وقت ان کے چہروں پر رونق آئی جب دادی جان نے انہیں مخاطب کیا۔
لو بچو، کہانی سننے کے لیے تیار ہوجاﺅ۔
ہم نے کون سا ہاتھی گھوڑے سجانے ہیں، بس آپ جلدی سے کہانی شروع کریں۔ آصف شوخ لہجے میں بولا۔
کسی ملک پر ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔
دادی جان بادشاہ ہمیں ظالم کیوں ہوتا ہے، کاشف دادی جان کی زبان سے پہلا جملہ سن کر بولا۔
بادشاہ، بادشاہ ہوتا ہے اسلیے ظالم ہوتا ہے، دادی جان جو کہانی بھی سناتی ہیں اس میں بادشاہ ضرور ہوتا ہے اور اس کا آغاز بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، آصف نے درمیان میں لقمہ دیاا۔
تمہارا تبصرہ ختم ہوچکا ہو تو کہانی آگے سناﺅں۔ دونوں نے ہاں میں سر ہلادیا۔
ظالم بادشاہ سے رعایا بہت تنگ تھی، اس نے حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی زبان کھولے اس کو قید خانے میں ڈال دو۔ کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے، بادشاہ کے ظلم کے وجہ سے رعایا اس کے خلاف ہوگئی تھی، ایک دن بھرے دربار میں ایک وزیر نے کہاا۔
بادشاہ سلامت رعایا پر اس قدم ظلم اچھی بات نہیں، رعایا کے ساتھ نرمی کا برتاﺅ کرنا چاہیے، یہ بات بادشاہ کو ناگوار گزری، وہ غصیلے لہجے میں بولا۔
مجھے مشورہ دیتے ہو۔
بادشاہ سلامت یہ مشورہ آپ کی بھلائی کے لیے ہے۔
اپنی زبان بند رکھو مجھے علم ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے، میرے سامنے زبان کھولنے کے جرم میں تمہیں ملک بدر کیا جاتا ہے۔
بادشاہ سلامت یہ ظلم ہے۔ وزیر نے التجا کی۔
ہم نے کہہ دیا ہے اور ہمارا کہا پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ تمہیں ہمارا حکم ماننا پڑے گا، میں تمہیں چوبیس گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں، تم نے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ملک نہ چھوڑا تو تمہیں قتل کروادوں گا۔ بادشاہ بولتا چلا گیا۔
وزیر نے تو ایسا خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کو بادشاہ سلامت ایسا حکم دیں گے، اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھانے لگا، وہ پریشانی کے عالم میں گھر پہنچا تو اس کی عقل مند بیٹی نے اس کے چہرے پر پریشانی کو بھانپ لیا۔
بابا آپ کچھ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
بات ہے ہی پریشانی والا۔ وزیر بولا۔
کونسی بات؟۔
بادشاہ سلامت نے مجھے چوبیس گھنٹے کے اندر ملک چھوڑے کا حکم دیا ہے۔
مگر کیوں؟۔ وزیر کی بیٹی نائلہ نے پوچھا۔
اس کے جواب میں وزیر نے ساری بات اپنی بیٹی کو بتادی۔ بابا جان آپ فکر نہ کریں۔
کیسے فکر نہ کرو، میں نے چوبیس گھنٹے میں ملک نہ چھوڑا تو بادشاہ مجھے قتل کردے گا، وزیر نے نائلہ کی بات بھی پوری نہ ہونے دی۔
میں نے کہا ناں آپ بالکل فکر نہ کریں میں سارا مسئلہ حل کردوں گی۔
مگر کیسے؟۔ مجھ پر بھروسہ کریں آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ میں نے مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہے، آپ بے فکر ہو کر آرام کریں۔ نائلہ کے لہجے میں یقین تھا۔
وزیر کو یقین تو تھا کہ اس کی بیٹی اپنی عقل مندی سے اس کی جان ضرور بچائے گی مگر اس کے باوجود موت کا خوف اس کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا، وہ اپنی بیٹی کے کہنے پر سو تو گیا۔ مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی، اس کو کسی بھی کروٹ چین نہ تھا۔ اس کی نظر مسلسل گھڑی پر تھی، ہر گزرنے والا لمحہ بادشاہ کی دی ہوئی مہلت میں سے کم ہورہا تھا، اسی پریشانی میں اس نے رات گزاری، جب صبح ہوئی تو ملک چھوڑنے کے لیے صرف بارہ گھنٹے رہ گئے تھے۔
بیٹی وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے،مجھے تو لگتا ہے کہ میں زندہ نہیں رہوں گا۔
بابا ایسی باتیں مت کریں۔ اللہ نے چاہا تو ہم اسی ملک میں عزت و وقار سے رہیں گے۔
دادی جان کہانی سنارہی تھیں کہ آصف بولا۔
دادی جان چوبیس گھنٹے تو خاصا وقت ہوتا ہے، وزیر ہوائی جہاز پر سوار ہو کر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چلا جاتا۔
بے وقوف اس زمانے میں ہوائی جہاز نہیں تھے، کاشف نے آصف کو گھورا۔
یہ جس زمانے کی کہانی ہے تب انسان اونٹ اور گھوڑوں کو سواری کے لیے استعمال کرتے تھے، جب چوبیس گھنٹے ختم ہونے کو آئے تو وزیر کا چہرہ خوف کے مارے زرد پڑ گیا۔ باپ کو خوف زدہ دیکھ کر نائلہ بولی۔
بابا جان آپ مسجد چلے جائیں۔
اس سے کیا ہوگا۔ وزیر نے پوچھا۔
بابا جان! گھبرائیں مت بس مسجد میں جا کر نماز ادا کریں۔
وزیر کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا، وہ ڈرتے ڈرتے مسجد میں داخل ہوا۔ وہ مدتوں بعد مسجد میں داخل ہوا تھا۔ وہ دنیا داری میں اس قدر لگا رہا تھا کہ مسجد میں جانے کی اس کے پاس فرصت ہی نہیں تھی۔ مسجد میں جا کر اس نے وضو کیا اور نفل نماز پڑھنے لگا۔ وہ مسجد میں ہی تھا کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ موذن نے خوش الحانی سے اذان دی۔ جب امام نماز پڑھانے کے لے آئے تو وزیر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، وزیر مسجد میں آکر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا، ادھر تو وزیر نماز پڑھنے میں مصروف تھا ادھر بادشاہ کے حکم پر سپاہی وزیر کے گھر موجود تھے، سپاہیوں نے گھر کی تلاشی لی مگر وزیر کو نہ پا کر ایک سپاہی نے پوچھا۔
اے لڑکی، تمہارا باپ کہاں ہے؟۔
میرے بابا نماز پڑھنے کے لیے مسجد گئے ہیں۔
یہ سن کر سپاہی مسجد پہنچے تو وزیر دیگر نمازیوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں مصروف تھا۔ سپاہی عجیب کشمکش میں مبتلا تھے، وہ نماز پڑھتے وزیر کو مسجد سے نہیں نکال سکتے تھے، سپاہی جب بادشاہ کے دربار میں پہنچے تو اس نے پوچھا۔
کیا وزیر نے ملک چھوڑ دیا ہے۔
”نہیں بادشاہ سلامت۔“ ایک سپاہی نے کہا۔
”وزیر اس وقت کہاں ہے؟“ بادشاہ چلایا۔
وزیر اس وقت مسجد میں نماز ادا کررہا ہے۔ سپاہی کی بات سن کر بادشاہ سلامت سوچ میں پڑگیا۔
بادشاہ سلامت اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ سپاہی نے نہایت ادب سے پوچھا۔
تم سب جاﺅ، بادشاہ بولا۔
سپاہیوں کے جاتے ہی بادشاہ نے علماءسے اس بارے میں رائے طلب کی تو ایک عالم بولے۔
وزیر نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔
وزیر نے کس طرح میرے حکم کی تعمیل کی ہے وہ تو اب تک ملک میں موجود ہے۔ بادشاہ نے کہا۔
آپ غلط کہہ رہے ہیں وزیر اس وقت آپ کے ملک میں نہیں ہے۔
سپاہی ابھی وزیر کو دیکھ کر آرہے ہیں۔
وزیر اس وقت آپ کے نہیں خدا کے ملک یعنی مسجد میں ہے، آپ نے وزیر کو اپنے ملک سے نکلنے کا حکم دیا ہے نہ کہ خدا کے ملک سے۔ وزیر نے آپ کا حکم مان لیا ہے۔
عالم نے بادشاہ کو لاجواب کردیا تھا، یہ بات سن کر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔
آپ نے درست کہا ہے کہ وزیر نے میرا حکم مان لیا ہے۔
میرے بچو! یوں مسجد میں جا کر نماز کی ادائیگی سے وزیر کی جان بچ گئی، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ ”نماز مومن کے لیے باعث رحمت ہے“۔ نماز واقعی وزیر کے لیے رحمت ثابت ہوئی تھی۔ پتا ہے اس کے بعد کیا ہوا“۔ دادی جان چند لمحوں کے لیے خاموشی ہوئیں تو کاشف جھٹ بولا۔
”مجھے پتا ہے اس کے بعد کیا ہوا تھا؟“۔
”بتاﺅ اس کے بعد کیا ہوا تھا؟“۔ آصف نے پوچھا۔
بادشاہ نے وزیر کی عقل مند بیٹی کو بلا کر اس کی عقل مندی پر انعام کے طور پر آدھی سلطنت اس کے نام کردی ہوگی اور وزیر سے معافی مانگی ہوگی۔ دادی جان یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ جو کہانی سناتی ہیں اس کے آخر میں بادشاہ اپنی آدھی سلطنت انعام کے طور پر کیوں دے دیتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے۔ کاشف مسکراتے ہوئے بولا۔
”اس کی وجہ ہے کہ تمہارا سر، کل سے کہانی بند“ اپنی دادی اماں کو ناراض دیکھ کر کاشف نے نعرہ بلند کیا۔
”دادی جان!“
”زندہ باد“ آصف نے پرجوش انداز میں نعرے کا جواب دیا۔ دادی اماں نے اپنے پوتوں کا نعرہ سن کر انہیں پیار سے اپنی آغوش میں چھپالیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close