Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

حاتم طائی

 
   
 
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ یمن میں طے نامی ایک قبیلہ آباد تھا۔ اس قبیلے کے سردار کا نام حاتم طائی تھا۔ حاتم طائی اپنی سخاوت اور خدمت خلق کی وجہ سے مشہور تھا،اس کی سخاوت کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے، اس زمانے میں عرب کا حکمراں نوفل تھا۔ نوفل نے جب دیکھا کہ ہر طرف حاتم کے ہی چرچے ہیں، ہر کوئی اس کی نیکی اور اچھائی کے گن گاتا ہے، ہر ضرورت مند مدد کے لیے حاتم کے ہی پاس جاتا ہے تو وہ حاتم کا دشمن بن گیا۔ دشمنی کی وجہ صرف یہ تھی کہ بادشادہ کے بجائے ہر کوئی حاتم کی تعریف کرتا تھا۔ حاتم کی سخاوت کے قصے بیان کرتا تھا۔ وہ حاتم سے جلتا تھا کہ بادشا ہوتے ہوئے بھی حاتم کی شہرت اس سے زیادہ ہے۔بادشاہ نے حسد کا شکار ہو کر حاتم کو ختم کرنے کا پروگرام بنایا اور اس نے اپنی فوج کے ساتھ حاتم کے علاقے پر حملہ کردیا۔
حاتم کو یہ جان کر دکھ ہوا کہ بادشاہ نے ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ اس کے علاقے پر حملہ کردیا ہے۔ حاتم نے یہ سوچ کر کہ اس کی وجہ سے خون خرابا ہوگا، بے گناہ لوگ مارے جائیں گے، اس نے اپنا شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ حاتم اپنا شہر چھوڑ کر پہاڑوںمیں جا کر چھپ گیا۔ بادشاہ اپنی فوج کے ساتھ جب شہر میں داخل ہوا تو کسی نے اس کی فوج کامقابلہ نہ کیا، کیوں کہ حاتم طائی شہر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بادشاہ نے حاتم کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔ اس کے ساتھ ہی بادشاہ نے یہ اعلان کرادیا کہ جو شخص حاتم کوڈھونڈ کر لائے گا، اس کو بہت بڑا انعام دیا جائے گا۔
حاتم نے پہاڑ کی ایک کھوہ میں پنا لے رکھی تھی، ایک روز اسی کھوہ کے قریب ایک بوڑھا لکڑہارا اور اس کی بیوی لکڑیاں کاٹ رہے تھے، وہ بہت غریب تھے اور مشکل سے زندگی بسر کررہے تھے۔ روز روز کی محنت و مشقت سے تنگ آئی ہوئی لکڑ ہارے کی بیوی حسرت سے بولی۔ کاش حاتم طائی ہمارے ہاتھ لگ جاتا تو ہم اسے بادشاہ کے حوالے کرکے انعام پالیتے اور ہمیں روز روز کی اس مصیبت سے نجات مل جاتی۔
لکڑہارا بولا: فضول بات مت سوچ، ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حاتم ہمارے ہاتھ لگ جائے اور ہم انعام حاصل کرکے آرام سے زندگی بسر کرسکیں۔ ہمارے نصیب میں تو یہی لکھا ہے کہ ہم جنگل سے لکڑیاں کاٹیں، سر پر رکھ کرشہر لے جائیں اور ان کو فروخت کرکے اپنا پیٹ بھرلیں۔
حاتم طائی کھوہ کے اندر بیٹھا یہ باتیں سن رہا تھا۔ یہ سوچ کر حاتم دل میں خوش ہوا کہ چلو، اس بے سروسامانی کی حالت میں بھی کسی کے کام آسکتا ہوں۔چناں چہ وہ کھول سے باہر آیا اور بوڑھے میاں بیوی سے بولا، میں ہی حاتم ہوں، مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو اور اس کے حوالے کرکے انعام حاصل کرلو، جلدی کرو، اگر کسی اور نے مجھے دیکھ لیا تو پھر تم ہاتھ ملتے رہ جاﺅ گے۔
حاتم کی باتیںسن کر لکڑہارا بولا: بھائی، تمہارا بہت شکریہ، بے شک ہم غربت کے ستائے ہوئے ہیں،مگر ہم اتنے ظالم نہیں کہ تمہیں بادشاہ کے حوالے کرکے انعام حاصل کریں، ہم اسی طرح محنت مزدوری کرکے زندگی کے دن کاٹ لیں گے،اپنے آرام کی خاطر ہم یہ ظلم نہیں کریں گے۔
حاتم نے کہا، ارے بھائی، یہ ظلم نہیں،تم مجھے زبردستی پکڑ کر تو نہیں لے جارہے ہو، میں تو اپنی خوشی سے تمہارے ساتھ جانے کو تیا رہوں،میرے اوپر تمہارا یہ احسان ہوگا کہ تم مجھے نیکی اور خدمت کا موقع دو گے۔
حاتم نے ان کو آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن لکڑہارا کسی صورت تیار نہ ہوا تو حاتم نے اس سے کہا، اگر تم میری بات نہیںمانتے تو میں خود بادشاہ کے پاس جاتا ہوں اور اسے بتاتا ہوں کہ اس بوڑھے نے مجھے چھپایا ہوا تھا، پھر بادشاہ تمہیں سزا دے گا۔
لکڑہارا اور حاتم اس بحث میں مصروف تھے کہ کچھ اور لوگ حاتم کو تلاش کرتے ہوئے ادھر آنکے، انہوں نے حاتم کو پہچان لیا اور اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے، بوڑھا اور اس کی بیوی بھی ان لوگوں کے پیچھے چل پڑے، بادشاہ کے دربار میں پہنچ کر ہر شخص یہ دعوہ کررہا تھا کہ حاتم کو اس نے پکڑا ہے، وہی انعام کا مستحق ہے، بہت سارے دعوےداروں کی وجہ سے بادشاہ کے لیے فیصلہ کرکنا مشکل ہوگیا تھا کہ حاتم کو پکڑنے والا کون ہے۔
آخر بادشاہ نے حاتم سے کہا: حاتم، تم ہی بتاﺅ کہ تمہیں پکڑ کر لانے والا کون ہے، تاکہ اسے انعام کی رقم دی جائے۔
حاتمبولا، حضور والا، سچ تو یہ ہے کہ مجھے پکڑنے والا بوڑھا لکڑہارا ہے، جو چپ چاپ پیچھے کھڑا یہ تماشا دیکھ رہا ہے، باقی لوگ انعام کے لالچ میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
لکڑا ہارا بولا، حضور والا، سچ تو یہ ہے کہ میں بھی حاتم کو پکڑ کر نہیں، بلکہ یہ خود آیا ہے، پھر لکڑہارے نے بادشاہ سلامت کو تفصیل سے بایا کہ کس طرح لکڑیاں کاٹتے وقت اس کی بیوی نے کہہ دیا تھا کہ اگر حاتم ان کو مل جائے تو وہ اسے بادشاہ کے حوالے کرکے انعام پائیں اور مصیبت کی زندگی سے نجات پائیں، حاتم ہماری باتیں سن کر پہاڑ کی کھوہ سے نکل آیا اور اصرار کرنے لگا کہ ہم اسے بادشاہ کے پاس لے جائیں اور انعام پائیں۔ ہم جب حاتم کو کسی طرح بھی لانے پر تیار نہ ہوئے تو وہ خود ہی آپ پاس آنے کے لیے چل پڑا۔ دوسرے لوگ تو ویسے ہی چل پڑے تھے، اب یہ سب انعام کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں۔
بادشاہ کو جب حقیقت معلوم ہوئی تو اس نے حاتم سے کہا: حاتم، میں تمہاری شہرت سے تمہارا دشمن بن گیا تھا، مجھے اپنے کیے کا افسوس ہے، تم واقعی عظیم انسان ہو، جو ہر حال میں دوسروں کی مدد اور خدمت کے لیے تیار رہتے ہو، میں تم سے اپنے کیے کی معافی مانگتا ہوں۔
اس کے بعد بادشاہ نے لکڑہارے کو انعام دیا اور جھوٹے دعویداروں کو سزا دی اور حاتم کا سارا علاقہ اسے واپس کرنے کا اعلان کیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close