Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

غریب ہی اچھا

 
   
 
ایک آدمی دولت کمانے کی خواہش پوری کرنے کے لیے ہالینڈ گیا۔ وہ ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم پہنچا، اس شہر میں ادھر ادھر گھومتے پھرتے اس نے ایک بہت عالی شان عمارت دیکھی، بہت دیر تک وہ عمارت کو دیکھتا اور سوچتا رہا کہ یہ کس شخص کا مکان ہے۔ کون خوش قسمت شخص اس میں رہتا ہوگا، وہ کتنا مالدار ہوگا، ایک آدمی قریب سے گزر رہا تھا۔ مسافر نے اس آدمی سے پوچھا کہ یہ کس کا مکان ہے تو اس آدمی نے کہا: کے نی ٹو ورس ٹن۔
ہالینڈ کی زبان میں اس کا مطلب ہے، میں آپ کی بات نہیں سمجھا لیکن مسافر یہ زبان نہیں جانتا تھا، اس لیے اس نے سمجھا کہ شاید یہ مکان مالک کا نام ہے۔
اس آدمی کی خواہش اور بھی بڑھ گئی کہ چھوٹی موٹی نوکری یا محنت مزدوری کرنے کے بجائے کوئی بڑا کام کرے، خوب کمائے اور بہت ساری دولت جمع کرے، اس فکر میں اس نے اور زیادہ کوشش شروع کردی۔ ایک دن وہ سمندر کے کنارے پہنچا، اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا جہاز گودی پر لگا ہوا ہے اور ہزاروں مزدور سامان اتار رہے ہیں۔ مسافر نے ایک آدمی سے پوچھا۔
”یہ جہاز کس کا ہے؟“۔
جواب ملا: کے نی ٹو ورس ٹن (میں آپ کی بات نہیں سمجھا) مسافر نے پھر یہی سمجھا کہ یہ جہاز کے مالک کا نام ہے۔ وہ دل میں سوچنے لگا کہ ”کے نی ٹو ورس ٹن“ کتنا بڑا رئیس ہے جو چیز دیکھو اسی کی ہے۔
کچھ دن بعد مسافر نے دیکھا کہ ایک جنازہ جارہا ہے، ہزاروں آدمی جنازے کے جلوس میں شریک ہیں۔ سیاح سمجھ گیا کہ کوئی بڑا آدمی مرگیا ہے، اس نے سوچا کہ اس آدمی کا نام معلوم کرنا چاہیے، جب اس نے کسی سے پوچھا تو وہی جواب ملا۔ کے نی ٹو ورس ٹن۔
سیاح کو بہت رنج ہوا۔ وہ سوچنے لگا کہ دیکھو، کوئی آدمی کتنا ہی بڑا ہو، کتنی ہی دولت اور جائیداد کا مالک ہو، موت سے نہیں بچ سکتا۔ تو پھر مال و دولت اکھٹا کرنے سے کیا فائدہ، اب اس آدمی کو دیکھو، سارا مال و متاع دوسروں کے لیے چھوڑ کر رخصت ہوگیا، میں خواہ مخواہ دولت کمانے کی فکر میں ملکوں ملکوں گھوم رہا ہوں، مال دار بننے کی خواہش نے مجھے پریشان کررکھا ہے،
نہیں، اب میں لالچ نہیں کروں گا اور جو کام بھی کروں گا، محنت سے کروں گا اور بس اتنا کماﺅں گا کہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکوں اور عزت سے رہ سکوں۔ محنت اور ایمانداری سے کما کر کھانے میں ہی زندگی مزے سے گزرتی ہے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close