Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

شکریہ

 
  مظہر یوسف زئی  
 
وہ میرے دفتر میں بڑی بے نیازی سے داخل ہوا۔ وہ کوتاہ قد تھا۔ جسمانی ساخت مخنی تھی۔ بال الجھے ہوئے تھے۔ کپڑے بھی کوئی خاص نہ تھے مگر اس کی آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ آتے ہی اس نے با آواز بلند السلام علیکم کہا اور کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا۔ میں نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرادیا۔ میں نے کہا ”فرمائیے؟“ بغیر کوئی تمہید باندھے وہ کہنے لگا: ”آپ مجھے سو روپے دے دیجئے۔ میں شام کا اخبار خرید کر نیچے چوراہے پر بیچا کروں گا۔ ایک ہفتے میں آپ کے پیسے واپس کردوں گا۔ اس عرصے میں جو پیسے کماﺅں گا۔ اس سے یہ کاروبار جاری رکھوں گا“۔
میں نے کہا۔ ”میاں صاحبزادے! نہ جان نہ پہچان۔ میں سو روپے تمہیں کیسے دے دوں۔ کسی جاننے والے سے مانگو“ وہ کہنے لگا: ”جاننے والوں میں رحم دلی ختم ہوگئی ہے۔ ان کے پاس نشترزنی رہ گئی ہے۔ اب تو ہمدردی اور درد مندی نہ جاننے والوں میں پائی جاتی ہے۔ اسی لیے میں نے آپ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ جانے کے لیے کھڑا ہونے لگا
میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا: تم نے دورازہ کب کھٹکھٹایا تھا؟ تم تو میرے دفتر میں گھسے چلے آئے۔“ ”دل نے کہا تھا۔ اس دفتر میں چلو۔ سو میں آگیا۔“ اس نے بڑی پروائی سے جواب دیا۔
”تمہارے والد صاحب کوئی کام کاج نہیں کرتے کیا؟“ میں نے یوں ہی کھوج لگانے کے لیے پوچھ لیا۔
”کام کاج کرتے ہوتے تو میں آپ کے سامنے دست سوال دراز کرتا!“ اس کے لہجے میں مایوسی تھی۔
میں نے اپنے سوال کی چبھن کو زائل کرنے کے لیے اس سے کہا: گفتگو سے تم تہذیب یافتہ معلوم ہوتے ہو۔ زبان بھی فصیح و بلیغ استعمال کرتے ہو“۔
”زبان تو کہیں گھر کی لونڈی ہوتی ہے اور کہیں اسے ماں کا رتبہ دے کر اس کی بڑائی کا احترام کیا جاتا ہے۔ ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اس کے پیروں تلے تو جنت ہوتی ہے۔ یہ ماں ہی ہے جس کی وجہ سے میں آپ کے دفتر میں چلا آیا اور بغیر سوچے سمجھے آپ سے سوال کر بیٹھا“۔ یہ کہتے ہوئے اس نے آنکھیں نیچی کرلیں۔ میں نے گھنٹی بجائی اور ایک گلاس پانی اور چائے منگوائی_´
چائے پیتے ہی اس نے توانائی محسوس کی۔ بتلانے لگا: گھر سے کھائے پیئے بغیر نکل آیا تھا۔ دراصل میرے باپ نے میری ماں کا وہ سہارا بھی بیچ دیا جس سے گھر کی دال روٹی چلتی تھی۔ ماں کے پاس سلائی مشین ہی بچی تھی جس سے وہ کپڑے سی کر خرچہ چلاتی تھی“۔ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد اس نے بتایا۔ ”میرے والد کو منشیات کی لت پڑگئی ہے۔ گھر کی ہر چیز اونے پونے بیچ کر اپنا نشہ پورا کرتے ہیں۔ میری ماں کی خواہش تھی کہ میں اپنے ماموں کی طرح اردو میں ایم اے کروں مگر گھر کے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ میں میٹرک کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ تعلیم قسمت کی دین ہوتی ہے“۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ اسی اثنا میںفون کی گھنٹی بجی اور میں فون سننے لگا۔ فون بند ہوا تو میں نے کہا۔ ”صاحبزادے! یہ کس نے بتایا کہ تعلیم قسمت کی دین ہے؟ نہیں بھئی! تعلیم قسمت کی دین نہیں بلکہ یہ لگن اور جدوجہد کے نتیجے میں ملتی ہے۔ کراچی میں تو ایسے تعلیمی ادارے کھلے ہوئے ہیں کہ رات میں تعلیم حاصل کیجئے اور پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے امتحان دیجئے۔ اس شہر میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں نے ایف اے سے ایم اے تک پرائیویٹ طور پر تعلیم حاصل کی اور بعد میں ”پی۔ ایچ۔ ڈی“ کی ڈگری بھی لے ڈالی“۔ میں نے بٹوے سے سو روپے کا نوٹ نکالا اور اسے دیتے ہوئے کہا۔ ”میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے نیک مقصد میں کامیاب و کامران کرے“۔
خوشی کے مارے اس کی باچھیں کھل گئیں اور سو روپے کے نوٹ کو تھامتے ہی وہ کٹی پتنگ کی طرح لہراتا ہوا نیچے اتر گیا۔ اس کے جانے کے بعد مجھے خیال ہوا کہ اس کا نام پوچھنا تو بھول ہی گیا۔ پھر ایک خیالِ فاسد نے مجھے آگھیرا۔ ”شاطر لڑکا تھا۔ اپنا ہاتھ صاف کرگیا“۔
ٹھیک ایک ہفتے کے بعد دفتر کے ایک رکن نے مجھے ایک لفافہ دیا اور بتایا کہ ایک لڑکاآیا تھا۔ یہ لفافہ دے کر کہنے لگا۔ ”نام تو معلوم نہیں مگر وہ صاحب اس کمرے میں بیٹھے ہیں۔“ لفافے میں سو روپے کا نوٹ تھا۔ میں یہ سوچ کر ہنسنے لگا کہ چلو اسے بھی میرا نام نہیں معلوم۔
بات آئی گئی ہوگئی اور بات کچھ ایسی اہم بھی نہ تھی کہ اسے یاد رکھا جاتا۔ ہمارا دفتر بھی دوسری جگہ منتقل ہوگیا۔ بہت سے راتیں بدلیں اور کئی سال آنکھ جھپکتے ہی گزر گئے۔ ہر برس ساون بھادوں کے مہینے بھی آئے اور یوں ہی خشک گزر گئے مگر اس سال جو ساون آیا تو اس نے تو صحرا تھرپار کر تک کی پیاس بجھادی۔ کراچی شہر کی سڑکیں اور گلی کوچے جل تھک ہوگئے۔ بسیں اور منی بسیں چلنا بند ہوگئیں۔ ٹیکسی اور رکشے بھی غائب ہوگئے اور کوئی ٹیکسی نظر بھی آتی تو چھلاوے کی طرح اوجھل ہوجاتی یا پھر منہ مانگے دام پر تکرار ہوتی۔
میں سواری کے انتظار میں کھڑا ہوا تھا کہ غیبی امداد ہوئی۔ ایک ٹیکسی میرے قریب آکر رک گئی۔ میں نے پوچھا۔ ” ٹی گراﺅنڈ“ چلو گے۔ ڈرائیور نے مجھے دیکھے بغیر خاموشی سے پچھلا دروازہ کھول دیا۔ اب جو ٹیکسی چلی ہے تو چلتی ہی چلی گئی۔ گھومتے گھماتے اور گہرے پانی سے بچتے بچاتے ایک فرسنگ کا فاصلہ دس کلو میٹر جاپہنچا۔ میں یہ سوچ کر خاموش رہا کہ کبھی یہ تو ٹیکسی والوں کا عام وتیرہ ہے۔ کبھی میٹر تیز رکھتے ہیں اور کبھی لمبا چکر کاٹتے ہیں۔ بہرحال میں خیریت سے گھر پہنچ گیا۔ بوندا باندی اب بھی ہورہی تھی۔ میری بیوی اور بچے آہنی دروازہ کھولے بے چینی سے میرا انتظار کررہے تھے۔ میں ٹیکسی سے اتر کر چھجے کے نیچے آیا۔ بٹوہ کھولتے ہوئے میں نے پوچھا۔ ”کیا پیش کروں بھائی؟“ ڈرائیور نے میری بات سنی ان سنی کی اور ٹیکسی ”اسٹارٹ“ کرکے یہ جا وہ جا۔ گلی کے نکڑ سے ٹیکسی نکلنا چاہتی تھی کہ سامنے سے ایک گاڑی آگئی اور ٹیکسی رک گئی۔ میں نے چلا کر اپنے بیٹے سے کہا۔ ”بھاگ کر جاﺅ۔ ٹیکسی والے نے پیسے نہیں لیے۔ اس میںمیرا بیگ تو نہیں رہ گیا وہ اسے لے کر تو نہیں بھاگ رہا“۔ میرے بیٹے نے اسے جا لیا۔ میری چھوٹی بیٹی نے ہنس کر کہا۔ ”ابّا آپ کا بیگ تو آپ کے ہاتھ میں ہے اس بیچارے پر کیوںشبہ کررہے ہیں“۔
ٹیکسی ڈرائیور نے میرے بیٹے کو بتایا۔ ”میں بہت جلدی میں ہوں۔ میں اپنی ماں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس فرشتہ صفت شخص کا میں نے شکریہ ادا کردیا ہے جس نے سو روپے مجھے قرض حسنہ دئیے تھے۔ جس کی بدولت یہ ٹیکسی میری ہے۔ دستکاری کا سکول وہ چلارہی ہے اور میں پرائیویٹ بی اے کرچکا ہوں۔ میری ماں آئے دن مجھ سے پوچھتی تھی۔ ”اے! تو نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کیا کہ نہیں“۔
 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close