Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > لوک کہانیاں
اورنگزیب...
شیر شاہ سوری
قینچی اور...
اب میں خوش ہوں
سب سے زیادہ...
چالاک ہرن...
گھر پیارا گھر
ایک کوڑی اور...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   Back
 

اورنگزیب عالمگیر

 
   
 
شہنشاہ ہندوستان اورنگزیب عالمگیر آج بھی دنیا جس کو عدل و انصاف کے نام سے جانتی ہے۔ سولہ سو انیس میں پیدا ہوئے۔ وہ بڑے خوش اخلاق، بے باک، نڈر اور بہادر تھے۔ ایک دفعہ شاہ جہان اپنے بیٹوں کے ساتھ ہاتھیوں کی لڑائی کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں ایک ہاتھی نے بے قابو ہو کر تماشائیوں کا رخ کیا اور دوسرا ہاتھی اس کے پیچھے بھاگا۔ تمام تماشائی بدحواس ہو کر بھاگے لیکن اورنگزیب عالمگیر خود گھوڑا لے کر مقابلے کے لیے سامنے آگئے۔ اتنے میں دوسرے آدمیوں نے ہاتھی کو روک لیا، شاہجہان نے اس موقع پر بہت سارا زر اور جواہر تقسیم کیے۔
عالمگیر کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت کی حدیں دور دور تک پہنچ گئیں۔ وہ ایک سچے مسلمان اور بہت بڑے منظم تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں کئی اصلاحات کیں، انہوں نے تمام غیر شرعی ٹیکس معاف کردیے۔ دربار میں رائج تمام غیر اسلامی رسمیں بند کردیں۔ انہوں نے استادوں کے لیے جاگیریں اور امدادی رقمیں مقرر کیں۔ طلبہ کو وضائف دیے۔
عالمگیر ذاتی طور پر بہت سادہ پرہیزگار اور نیک دل انسان تھے۔ وہ اسلام کے اصولوں پر سختی سے کار بند تھے۔ ابھی آپ شہزادے ہی تھے کہ بلخ کے حکمرانوں کے خلاف جنگ میں ششریک ہوئے۔ جنگ زوروں پر تھی کہ نماز کا وقت آگیا۔ آپ نے گھوڑے سے اتر کر وہیں نماز ادا کی۔ اس بات کا دشمن پر بڑا اثر ہوا۔ آپ دینیات اور اسلامی قانون کے عالم بھی تھے۔ اس کے علاوہ آپ کو عربی، فارسی، ترکی اور ہندی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔
فارسی زبان میں لکھے گئے آپ کے خطوط آج بھی فارسی زبان کا بہترین نمونہ سمجھے جاتے ہیں۔
آپ نے اپنی تمام زندگی عوام کی خدمت میں گزاری۔ رعایا کی طرف سے پیش کی گئی درخواستیں آپ خود پڑھ کر حکم جاری کرتے تھے۔ سلطنت کے امور کی بطور خاص خود نگرانی کرتے۔
آپ کے دور میں مغلیہ سلطنت بہت وسیع و عریض تھی۔ اس زمانے میں برصغیر میں امن و امان کا دور دورہ تھا۔ اورنگزیب عالمگیر اکثر نوجوانوں کی سپہ سالاری خود کیا کرتے تھے اور زندگی بھر اس فرض کو انجام دیتے رہے۔
اورنگزیب عالمگیر نے سترہ سو سات میں دکن میں وفات پائی۔ خلد آباد میں دفن ہوئے۔
لاہور میں ایک عمارت آج تک عالمگیر کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یہ یہاں کی شاہی مسجد ہے جس کو اورنگزیب عالمگیر نے خود تعمیر کرایا تھا۔ اس پر شکوہ مسجد کے مینار بہت بلند اور شاندار ہیں۔ اس مسجد کا شمار شاندار مساجد میں ہوتا ہے۔ مسجد کے سامنے قلعہ لاہور کا عالمگیر دروازہ ہے۔ اسے بھی عالمگیر نے ہی بنوایا تھا۔
اورنگزیب عالمگیر کا دور حکومت مغلیہ دور حکومت کی ایک اہم بات ہے۔ تاریخ میں اورنگزیب حلیم الطبع اور نیک سیرت حکمران کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا۔
 
اگلا   Back

Bookmark and Share
 
 
Close