Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > جانوروں کی کہانیاں
موت کا شکار
مخلص دوست
نااہل بادشاہ
نازک صاحب کا...
بھول بھلکڑ
اوئی چوہا
چور مینا
آنٹی ڈولی
سونڈ ہاتھی کی
محبت کا سبق
ہاتھی کی...
پنیر کا چاند
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

اوئی چوہا

 
   
 
مسٹر چوہے روز لوگوںسے بھری ہوئی بس کو سڑک پر فراٹے بھرتے دیکھتے، ان کا بھی جی چاہتا کہ وہ بس کی سیر کریں، لیکن چھوٹے پاﺅں ہونے کی وجہ سے اتنی لمبی چھلانگ نہ لگاسکتے تھے کہ پائیدان پر جا چڑھیں۔
سردیوں کے دن تھے، چوہے صاحب سڑک پر بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے اور بس میں سیر کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے کہ بس کھڑی ہونے کی وجہ سے ایک عورت اور مرد آن کر کھڑے ہوئے، عورت نے لمبا کوٹ پہن رکھا تھا، چوہے کے ذہن میں جھٹ ایک ترکیب آگئی، عورت کے پیچھے پہنچ کر آہستہ سے اس کے کوٹ پر چڑھنے لگے، عورت مرد باتوں میں اس قدر محو تھے کہ ان کو چوہے کی کارگزاری کا علم نہ ہوا اور چوہے صاحب بڑے اطمینان سے کوٹ کی جیب میں بیٹھ گئے۔
اتنے میں بس آگئی اور دونوں اس میں سوار ہوگئے، چوہے صاحب بھی ان کے ساتھ بس کے اندر پہنچ گئے۔
ڈرائیور نے کہا۔ اپنا کرایہ اس صندوقچی میں ڈال دیں۔
چوہے نے دیکھا کہ پہلے مرد نے اور پھر عورت نے کچھ نقدی صندوقچی میں ڈال دی، چوہے صاحب سوچنے لگے کہ یہ کرایہ کیا بلا ہے جب عورت نشست پر بیٹھی تو وہ جیب سے نکل کر باہر آگئے۔
اب چوہے نے سوچا کہ شریفانہ طریقہ تو یہی ہے کہ میں ڈرائیور سے کہہ دوں کہ میں پہلی بار بس پر چڑھا ہوں، میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا کرایہ بھی دینا پڑتا ہے، اگر میں جانتا تو تھوڑی بہت رقم جیب میں ضرور لاتا۔
وہ ڈرائیور کے پاﺅں کے پاس جا کھڑے ہوئے اور کئی دفعہ کوشش کی کہ ڈرائیور سے کچھ کہیں، انہوں نے ڈرائیور کو اپنی طرف متوجہ بھی کیا لیکن ڈرائیور بس کو چلاتا رہا اور چوہے صاحب کی طرف بالکل توجہ نہ کی۔
چوہے نے سوچا یہ تو سنتا ہی نہیں کیوں نہ اس کی ٹانگوں پر چڑھ کر گھٹنے پر چلاجاﺅں پھر تو میری بات سنے گا۔
جب چوہے صاحب نے اس تجویز پر عمل کیا تو ڈرائیور نے ان کو الٹے ہاتھ سے اس طرح اچھالا کہ وہ ایک موٹی عورت پر جاکر پڑے، وہ ایک دم چلائی اوئی چوہا اور کھڑی ہو کر ناچنے لگے، چوہے صاحب جھٹ بھاگ کر نشستوں کے نیچے جا چھپے، لیکن عورتوں میں بھاگڑ مچ گئی، ڈرائیور نے گاڑی کھڑی کرلی۔
کیا ہے؟
تمام عورتیں بول اٹھیں، چوہا۔
اب سب لوگ چوہے صاحب کو تلاش کرنے لگے، مگر وہ ایسی جگہ چھپے بیٹھے تھے کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑ سکی تھی۔ جب سب لوگ بیٹھ گئے تو چوہے صاحب نے اطمینان کا سانس لیا اور دل میں کہنے لگے، چوہوں کو بس میں سفر نہ کرنا چاہیے۔ ڈرائیور نے بس چلادی، اب چوہے صاحب دروازوں سے جھانک جھانک کر باہر دیکھنے لگے مگر کسی چیز کو اچھی طرح نہ دیکھ سکے، انہوں نے نشستوں کے نیچے چل پھر کر جس سے باہر کا نظارہ کرسکیں لیکن کامیابی نہ ہوئی، صرف مسافروں کے پاﺅں نظر آتے ہیں، اتنے میں چوہے صاحب نے ایک چمکیلی سلاخ دیکھی جو بس کے اندر چھت تک لگی ہوئی تھی، دل میں کہنے لگے، یہ ٹھیک رہے گی، اس کے سہارے میں چھت پر چڑھ جاﺅں گا۔ چنانچہ وہ چھت پر چڑھ گئے۔
چھت پر بیٹھ کر چوہے صاحب کو باہر کی ہر چیز دکھائی دینے لگی، دفعتہ بس ایک موڑ پر مڑی جس سے دھچکا لگا، چوہے صاحب خود کو لڑھکنے سے نہ بچاسکے اور گھنٹی کی زنجیر پر آرہے، وہ نہیں جانتے تھے کہ گھنٹی کی زنجیر ہے، کیوں کہ پہلی ہی دفعہ بس پر سوار ہوئے تھے۔
گھنٹی بجنی شروع ہوئی اور بجتی ہی چلی گئی، ڈرائیور نے خیال کیا، کوئی مسافر اترنا چاہتا ہے، اگلے موڑ پر بس کھڑی کردی گئی اور چوہے صاحب اچھل کر پہلی جگہ پر جابیٹھے۔ گھنٹی بجنی بند ہوگئی، جب کوئی نہ اترا تو ڈرائیور نے پھر موٹر چلادی، لیکن وہ دھچکے سے چلی.... چوہے صاحب پھر گھنٹی کی زنجیر پر آرہے اور ٹن ٹن کرکے گھنٹی پھر بجنے لگی۔
چوہے صاحب نے سوچا۔ شاید ڈرائیور مجھے پریشان کرنے کے لیے بار بار گھنٹی بجا رہا ہے۔
ڈرائیور نے اگلے موڑ پر پھر گاڑی کھڑی کردی، چوہے صاحب زنجیر سے چھلانگ لگا کر پھر سلاخ پر چڑھ گئے، گھنٹی بجنی بند ہوگئی، جب کوئی نہ اترا تو ڈرائیور نے بس چلادی۔
اب چوہے صاحب کے کان کے پیچھے خارش سی ہوئی اور انہوں نے کھجانے کے لےے اپنا پاﺅں اٹھایا، لیکن خود کو سنبھال نہ سکے اور ایک بار پھر زنجیر پر گر پڑے، گھنٹی بجنے لگی، چوہے صاحب نے خیال کیا یہ بھی عجیب بس ہے۔ ڈرائیور نے پھر موڑ پر بس روکی لیکن کوئی نہ اترا، چوہے صاحب دل میں کہنے لگے، بڑی سست رفتار بس ہے، اس سے زیادہ تیز تو میں پیدل چل سکتا ہوں،اگلے موڑ پر اتر جاﺅں گا۔
چنانچہ جب ڈرائیور نے اگلے موڑ پر بس روکی تو وہ چمکتی ہوئی سلاخ سے نیچے اترآئے اور پچھلے دروازے سے چھلانگ لگا کر باہر نکل گئے۔
نیچے اتر کر چوہے صاحب نے ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اسے مفت میں بس کی سیر کرادی لیکن ڈرائیور نے کچھ بھی نہ سنا اور بس چل پڑی۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close