Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > جانوروں کی کہانیاں
موت کا شکار
مخلص دوست
نااہل بادشاہ
نازک صاحب کا...
بھول بھلکڑ
اوئی چوہا
چور مینا
آنٹی ڈولی
سونڈ ہاتھی کی
محبت کا سبق
ہاتھی کی...
پنیر کا چاند
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

آنٹی ڈولی

 
  سیدہ قراة العین ضیا  
 
ایک تھی بی چیونٹی۔ نام تھا ان کا آنٹی ڈولی۔ ان کا گھر ڈاکٹرانکل کے گھر کی پچھلی دیوار کے نیچے ایک سوراخ تھا۔ وہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی تھیں۔ خاموش،چپ چاپ۔پتا نہیں کیوں انکی پڑوسن چیونٹیوںسے بھی بالکل دوستی نہیںتھی۔ شاید وہ تھوڑی سی مغرورتھیں۔
جون کی ایک چلچلاتی ہوئی دوپہر میں وہ خوراک تلاش کرنے کے لیے باہر نکلیں تو انہیںچینی کا ایک دانہ نظرآیا۔ خوب موٹا سا۔ ان کے منھ میں پانی بھر آیا۔ کیوں کہ انہیں میٹھا بہت پسندتھا۔ وہ اسے دھکیلتی ہوئی اپنے گھر کی طرف لانے لگیں۔ لیکن اتنا بڑا چینی کا دانہ اور اوپر سے چلچلاتی ہوئی دھوپ۔ بے چاری بوڑھی آنٹی ڈولی ہانپنے لگیں،لیکن وہ چینی کے دانے کو کسی صورت میں چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھیں۔ اچانک انہیں سامنے پڑوسن چیونٹی کے دو ننھے منے بچے اچھلتے کودتے ہوئے اپنی جانب آتے دکھائی دیے۔ وہ منو اور چنو تھے۔ چیونٹیوں میں بہت اچھا رواج ہے کہ وہ جب ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو سلام کرتی ہیں۔ چاہے بچے ہوں یا بڑے، پھر بڑے بچوں کے سروں پر ہاتھ بھی پھیرتے ہیں۔
چنو منو جانتے تھے کہ آنٹی ڈولی ان کے سلام کو کبھی جواب نہیں دیںگی۔ لیکن انہیں اپنی امی کی نصیحت اچھی طرح یاد تھی کہ بڑا ہو یا چھوٹا، آپ کو سب کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ چناں چہ چنو منو نے آنٹی ڈولی کو ادب سے سلام کیا۔
آنٹی ڈولی نے منھ بنا کر کہا: ”اونہہ“۔ اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ آگے چل پڑیں اور بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگیں۔ ”سلام کے بہانے میرا چینی کا دانہ لینے کے چکر میں تھے“۔
آنٹی ڈولی ہر ایک سے بدگمان رہتی تھیں۔ ابھی آنٹی تھوڑی دور ہی گئی تھیں کہ ان کا پیر مڑ گیا اور موچ آگئی۔ درد کے مارے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بیچ راستے میں وہ اپنے چینی کے دانے پر چڑھ کر بیٹھ گئیں۔ بہت ساری چیونٹیاں وہاں سے گزریں۔ انہوں نے آنٹی ڈولی کو سلام بھی کیا، لیکن کسی کو پتا نہ چلا کہ ان کے پیر میں موچ آگئی ہے اور وہ رو رہی ہیں، کیوں کہ عام دنوں میں بھی ان کا چہرہ ایسے ہی لگتا تھا۔ غرور اور نفرت سے بھرا ہوا۔ وہ درد کی وجہ سے روتی رہیں، یہاں تک کہ شام ہوگئی۔
چنو منو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کر واپس آرہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ آنٹی ڈولی اپنے چینی کے دانے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا اور آگے جانے لگے، لیکن ان کے کانوں میں رونے کی آواز آئی۔ دونوں نے گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا۔ پھر منو کی نظر آنٹی ڈولی پر پڑی اور ان کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو نظر آئے۔ منو نے چونک کر کہا: ”ارے آنٹی آپ رو رہی ہیں؟“ وہ دونوں بھاگ کر ان کے پاس آئے۔
آنٹی نے روتی آنکھوں اور سڑ سڑ کرتی ہوئی ناک کے ساتھ بتایا: ”میرے پیر میں موچ آگئی ہے“۔
چنو جلدی سے بولا: ”اچھا آنٹی آپ یہیں ٹھیریں، ہم اپنے امی ابو کو لے کر ابھی آتے ہیں۔“ وہ دونوں اپنے گھر کی طرف بھاگے۔ کچھ ہی دیر میں وہ دونوں اپنے امی، ابو، برابر والی خالہ اور ان کی بہن کو لے کر آگئے۔ ان سب نے آنٹی کو سہارا دیا اور گھر لے کر جانے لگے۔ پیچھے چنو منو چینی کے دانے کو دھکیلنے لگے۔ آنٹی کو بڑے آرام سے بستر پر لٹایا گیا۔ انہیں دوا پلائی گئی۔ وہ بہت شرمندہ نظر آرہی تھیں۔ انہوں نے سب سے اپنے رویے کی معافی مانگی۔ سب نے انہیں معاف کردیا۔ چنو منو چینی کے دانے کو لے کر پہنچ گئے اور بولے: ”لیں آنٹی! آپ کا چینی کا دانہ۔“
آنٹی ڈولی نے دونوں کو پیار کیا اور کہا: ”یہ اب تم دونوں کا ہے۔“
دونوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اور بولے: ”شکریہ آنٹی! آئیے‘ اسے ہم سب مل کر کھائیں۔“
پھر وہ دونوں چینی کے دانے پر ٹوٹ پڑے۔ آنٹی ڈولی ہنستی ہوئی ان دونوں بچوں کو دیکھ رہی تھیں۔آج انہیں سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ وہ خوب ہنس رہی تھیں۔ آج انہیں معلوم ہوگیاتھا کہ اچھے اخلاق اور ملنساری میںبہت فائدہ ہے۔ غرور میں کچھ نہیں رکھا۔ غرور کرنے والے کو تو اللہ تعالی بھی پسند نہیںکرتے۔
 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close