Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > جانوروں کی کہانیاں
موت کا شکار
مخلص دوست
نااہل بادشاہ
نازک صاحب کا...
بھول بھلکڑ
اوئی چوہا
چور مینا
آنٹی ڈولی
سونڈ ہاتھی کی
محبت کا سبق
ہاتھی کی...
پنیر کا چاند
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

محبت کا سبق

 
   
 
جنگل کے ایک درخت کی شاخ پر شہد کی مکھیوں کا بڑا سا چھتہ لگا ہوا تھا۔ بندر اس شہد کو کھانے کی فکر میں تھا۔ آخر اسے دور سے ریچھ آتا دکھائی دیا۔ بندر نے ایک ترکیب سوچی اور جیسے ہی ریچھ قریب پہنچا وہ درخت کے پیچھے سے نکلا اور اس کے قریب جا کر کان میں چلایا:
"السلام علیکم! بھالو بھائی"۔
ریچھ ڈر کر اچھل پڑا اور بندر کو دیکھا تو کہنے لگا: "وعلیکم السلام بھائی! تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔ کہاں سے ٹپک پڑے اچانک"۔
"ٹپکوں گا بھلا کہاں سے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ذرا ٹہلنے نکلا تھا کہ تم نظر آگئے تمہاری شکل پربارہ بج رہے تھے۔ میں نے سوچا ہو نہ ہو آج بھالو بھائی ضرور کسی پریشانی میں ہیں"۔ بندر نےکہا۔
"کہہ تو سچ رہے ہو۔ بڑی عجیب پریشانی ہے"۔ ریچھ نے جواب دیا۔
"وہ کیا بھلا"۔ بندر نے پوچھا۔ "ہمیں بتائو تو سہی۔بھالو بھائی تم پریشانی ہوتے ہو تو اپنی بھی نیند اڑ جاتی ہے، سچ کہہ رہا ہوں"۔ بندر نے جھوٹ موٹ کی ہمدرد جتائی۔
"بات یہ ہے کہ آج میری سالگرہ ہے اور میں کیک لینے جارہاہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیک کہاں سے خریدوں۔ کیا جنگل میں کہیں کیک ملتا ہے"۔ ریچھ نے پوچھا۔
"واہ! واہ! یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے سالگرہ مبارک ہو۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو بھالو بھائی"۔ بندر تالیاں بجاتے ہوئے بولا۔ لیکن وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ریچھ کو کس طرح بے وقوف نا کر شہد حاصل کیا جائے۔ آخر کار اس نے کچھ سوچ کر کہا: "لیکن ایک بار میں ضرور کہوں گا بھالو بھائی"۔
"وہ کیا"۔ ریچھ نے کہا۔
"آپ کے بال بہت بڑھے ہوئے ہیں۔ آپ کی سالگرہ میں جو جانور آئیں گے وہ یہی کہیں گے کہ ریچھ نے بال نہیں کتوائے"۔ بندر نے کہا۔
"اچھا!"۔ ریچھ پریشان ہو کر بولا۔ "پھر میں کیا کروں"۔
"میری مانیے تو حجامت بنوالیجئے"۔ بندر نے ریج کو پٹی پڑھائی۔
"حجامت۔ لیکن جنگ میں کون میرے بال کاٹے گا"۔ ریچھ نے منہ لٹکا کر کہا۔
"ارے کیسی باتیں کرتے ہیں آپ بھالو بھائی۔ میں جو حاضر ہوں آپ کی خدمت کے لیے۔ آپ کو کہیں جانے کی کیا ضرورت ہے۔ ایسےا چھے بال کاٹوں گا کہ بالکل امیتابھ بچن نظر آئیں گے"۔ بندر نے مکاری سے کہا۔
"امیتھابچن"۔ ریچھ نے حیرت سے کہا۔ "کیا یہ کوئی نیا جانور آیا ہے جنگل میں"۔
اس کی بات سن کر بندر کی ہنسی چھوٹ گئی لیکن ضبط کرکے بولا۔" اس جنگل میں تو نہیں البتہ میرے دادا ابو کہتے ہیں کہ یہاں سے بہت دور ایک بڑا جنگل ہے۔ اس میں اس جیسے کئی جانور پائے جاتے ہیں"۔
"اچھا تو چلو جلدی سے میری حجامت بناڈالو"۔ ریچھ نے کہا۔
"ہاں ہاں کیوں نہیں۔ ابھی لیجئے۔ لیکن آپ کو میرا ایک چھوٹا سا کام کرنا ہوگا"۔ بندر نے کہا۔
"کون سا کام"۔ ریچھ نے معصومیت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
"بس ذرا سا شہد چاہیے مجھے۔ بہت دیر سے دل چاہ رہا تھا۔ ویسے تو میں خود رخت پر چڑھ کر اتار لیتا لیکن آج میرے پائوں میں درد ہےاور درخت پر چڑھ نہیں سکتا۔ شہد کا چھتہ زیادہ اوپر ہے۔ آپ ہاتھ بڑھا کر اتارلیں گے"۔
ریچھ نے آئو دیکھا نہ تائو۔ ہاتھ بڑھا کر شہد کی مکھیوں کا چھتہ درخت کی شاخ سے نو چلی۔ بندر خطربھانپ کر ایک طرف بھاگا اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر دیکھنے لگا کہ ریچھ کی کیا درگت بنتی ہے۔ اس کا منصوبہ یہی تھا کہ کسی طرح شہد کھایا جائے لیکن مکھیوں کے ڈنگ سے خوف زدہ ہو کر اس نے سوچا کہ کسی ترکیب سے شہد اس طرح حاصل کیا جائے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
بے چارہ بھولا بھالا ریچھ اس کی باتوں میں آگیا اور سالگرہ کے لیے بال کٹوانے کے شوق میں شہد کی مکھیوں کا چھتہ نوچ بیٹھا۔ مکھیاں بھلا ریچھ کو کب چھوڑنے والی تھیں۔ کاٹ کاٹ کر ریچھ کا برا حال کردیا۔ بے چارہ چیخیں مارتا ہوا ادھر ادھر بھاگنے لگا اور غصے میں آکر چھتے کو بالکل ہی پچکاڈالا۔
بندر یہ دیکھ کر آگے بڑھا اور کیلے کے درخت کا ایک پتہ لے کر چھتہ اس میں لپیٹ لیا۔ پھر کئی پتے اور درخت کی شاخیں جمع کرکے ان کو آگ لگادی۔ آگ سے جب دھواں اٹھا تو مکھیاں گھبرا کر بھاگ گئیں۔ ریچھ بے چارہ ایک طرف نڈھال پڑا تھا۔ بندر نے کیلے کا پتہ کھولا اور سارا شہد چٹ کرگیا۔
آخر ریچھ ہمت کرکے اٹھا اور بولا:
"بندر بھائی! اب ذرا جلدی سے میرے بال کاٹ دو۔ سالگرہ کا وقت ہونےو الا ہے اور مجھے ابھی کیک لینے بھی جانا ہے"۔
بندر نے جلدی سے منھ صاف کیا اور کہنے لگا۔ "ہاں ہاں، کیوں نہیں آئو"۔
یہ کہہ کر بندر اسے اپنے گھر لے گیا۔ وہاں پہنچ کر بندر نے قینچری، کنگھی، استرا اور ایک بڑا سا سفید کپڑا نکالا۔ سفید کپڑا بندر نے ریچھ کی گردن کے اردگرد باندھ دیا اور قینچی نکال لی۔
ریچھ نے جو یہ سارا سامان دیکھا تو کیا، " آپ کے پاس تو حجامت کا پورا سامنا موجود ہے۔ آپ حجام کی دکان کیوں نہیں کھول لیتے"۔
بندر بہت عرصے سے جنگل میں حجامت کی دکان کھولنے کا ارادہ کررہا تھا لیکن سوچتا تھا کہ پہلے کسی جانور کی حجامت مفت میں بنا کر ہاتھ صاف کرلے اور ذرا مہارت ہوجائے تو باقاعدہ دکان کھول لے۔
ریچھ کی حجامت بنانے سے نہ صرف اسے شہد مل گیا بلکہ حجامت بنانے کی مشق بھی ہوجاتی لیکن ریچھ کے سامنے وہ یہ بات ظاہر کرنا نہیں چاہ رہا تھا اس لیے وہ ریچھ کی بات کا کوئی الٹا سیدھا جواب سوچ ہی رہا تھاکہ اتنے میں وہاں سے خرگوش گزرا۔ مکھیوں کے کاٹنے کی وہ سے ریچھ کا منہ جگہ جگہ سے سوجا ہوا تھا اور بے چارے کے ایک آدھ جگہ سے خون بھی نکل رہا تھا۔
جب خرگوش نے ریچھ کو اس حال میں گردن پر سفید کپڑا باندھے بال کٹواتے دیکھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
خرگوش کی چیخ سن کر بندر ایسا ڈرا کہ اس نے گھبراہٹ میں قینچی ریچھ کے بالوں کے بجائے اس کے کان پر چلادی اور ریچھ کا کان ذرا سا کٹ گیا۔ اس پر ریچھ نے ایک ایسی زوردار چنگھاڑ ماری کہ بندر تھر گھر کانپنے لگا۔ ریچھ کے کان سے خون بہہ رہا تھا۔
تم نے میرا کان کاٹ ڈالا!" ریچھ چلایا۔
"اس خرگوش کے بچے نے مجھے ڈرادیا تھا"۔ بندر نے کہا۔
"اب کیا ہوگا"۔ مجھے ابھی کیک لینے بھی جانا ہے۔ آج میری سالکگرہ ہے اور سارے جانور دعوت میں پہنچنا شروع ہوگئے ہوں گے اور میں۔۔۔۔۔۔ میں یہاں بیٹھا ہوں کٹا ہوا کان اور سوجا ہوا منہ لیے"۔ ریچھج رو دیا۔
"آپ فکر نہ کریں بھالو بھائی"۔ بندر نے کہا۔ "آپ کی خدمت کے لیے۔۔۔۔۔۔"۔
"تم چپ رہو"۔ ریچھ بندر کی بات کاٹ کر نہایت غصے سے بولا۔ "تم نے ہی مجھے اس حال تک پہنچایا ہے"۔
خرگوش جو اتنی دیر سے چپ کھڑا تھا، بول پڑا۔ "میری مانو تو پہلے اپنا کان سلوالو درزی سے"۔
"بے وقوف! بھلا درزی بھی کان سیتا ہے"۔ بندر نے ڈانٹ کر کہا۔ "چلو ڈالر کے پاس چلتے ہیں"۔
اب ریچھ کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بندر کے ساتھ چلے۔ تینوں ڈاکٹر ہمدرد کے پاس پہنچے، ڈاکٹر ہمدرد ایک نہاہت ہنس مکھ، مہربان اور ہوشیار ڈاکٹر تھے۔ وہ کئی سال سے جنگل میں ایک جھوٹے سے مکان میں اکیلے رہتے تھے اور اکثر جانور ان کے پاس علاج کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہ تینوں جب ڈاکٹر ہمدرد کے پاس پہنچے تو لومڑی ڈاکٹر صاحب کے پاس آئی ہوئی تھی۔ اس کے پائوں میں کانٹا چبھ گیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کانٹا نکال چکے تھے اور پٹی باندھ رہے تھے، ان کو دیکھتے ہی ڈاکٹر ہمدرد نے کہا۔
"اوہو! بھالو میاں! بھئی یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے"۔
ریچھ بے حال تو تھا ہی ڈاکٹر صاحب کی ہمدردی پا کر زور زور سے رونے لگا اور سارا قصہ سنایا۔
ڈاکٹر صاحب بندر پر خفا ہوئے۔ بندر کان دبائے چپ چاپ سنتا رہا۔ آخر ڈاکٹر نے بھالو بھائی کی مرہم پٹی شروع کی۔
لومڑی، جو ریچھ کی ساری بات سن چکی تھی، ڈاکٹر صاحب کے ہاں سے نکلتے ہی سیدھی ریچھ کے گھر پہنچی جہاں سارے جانور ریچھ کی سالگرہ میں شریک ہونے کے لیے جمع ہوچکے تھے۔ لومڑی نے جاتے ہی سارا ماجرہ کہہ سنایا۔ سارے جانور لومڑی کی بات سن کر غصے میں آگئے۔
"بندر کی شرارتیں تو روز بروز بڑھتی جارہی ہیں اسے سبق سکھانا اب ضروری ہوگیا ہے"۔ مور نے کہا
"کم بخت میرے سامنے آجائے تو پنجہ مار کر اس کا پیٹ پھاڑ دوں"۔ شیر نے غصے سے کہا۔
"نہیں بھئی! اتنا غصہ اچھا نہیں"۔ دریائی گھوڑے نے کہا۔ "اسے ذرا سختی سے سمجھادیں گے شاید مان جائے ورنہ پھر کچھ تدبیر سوچیں سے"۔
"میرا خیال ہے سب ڈاکٹر ہمدرد کے گھر چلیں۔ بندر بھی وہیں ہوگا"۔ ہرن نے تجویز پیش کی۔
سب راضی ہوگئے اور ڈاکٹر ہمدرد کے ہاں پہنچے۔ بندر نے جو ان کو آتے دیکھا تو کھڑی سے کود کر بھاگ گیا۔
ادہر ڈاکٹر ہمدرد ریچھ کی پٹی کرچکے تھے اور باورچی خانے میں کچھ کام کررہے تھے۔ ریچھ آرام کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ تمام جانوروں نے اس کا حال پوچھا اور اسے سالگرہ کی مبارکباد دی۔
"میرےد وستوں! ایسی کیا بات ہے"۔ ڈاکٹر ہمدرد کی آواز آئی۔ وہ باورچی خانے سے نکل رہے تھے اور سب ن دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا خوب صورت کیک تھا"۔ میں اتنی دیر میں تمہاری سالگرہ کے لیے بڑا مزیدار فروٹ کیک بنایا ہے۔ یہ دیکھو۔" ڈاکٹر صاحب نے کیک آگے کردیا جس پر بالائی سے لکھا ہوا تھا۔ "سالگرہ مبارک ہو بھالو بھائی"۔
ریچھ نے کیک کاتا اور سب جانوروں نے تالیاں بجا کر "ہیپی برتھ ڈے ٹو یو بھالو بھائی"۔ گایا ۔ ریچھ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ پھر کچھ سوچ کر بولا۔
"آپ سب لوگوں اور ڈاکٹر صاحب کا شکریہ لیکن کاش! بندر بھی یہاں ہوتا اور سالگرہ کا کیک کھاتا"۔
"ارے! اس نے تمہارے ساتھ اتنا برا سلوک کیا لیکن پھر بھی تم اسے یاد کررہے ہو"۔ چوہے نے حیرت سے کہا۔
"ہاں ہاں کیوں نہیں۔ آخر وہ ہے تو تمہارا بھائی نا۔ اس سے غلطی ہوگئی تو کیا ہوا۔ میں نے اسے معاف کردیا ہے"۔ ریچھ نے کہا۔
بھالو میاں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں"۔ ڈاکٹر ہمدرد بولے۔ "اچھے لوگ وہی ہوتے ہیں جو دوسروں کو معاف کردیتے ہیں اور اپنے دل میں برے لوگوں کے لیے بھی جگہ رکھتے ہیں۔ یہ بڑے حوصلے اور بڑی بہادری کی بات ہے"۔
اب ذرا بندر کی سنیے! ڈاکٹر صاحب کے گھر سے بھاگ کر جب وہ جنگل میں اس جگہ پہنچا جہاں اس نے ریچھ کو بہلا پھسلا کر شہد چاٹا تھا تو شہد کی مکھیوں نے اسے گھیر لیا۔ اس نے بھاگنے اور جان بچانے کی بہت کوشش کی لیکن توبہ کیجئے صاحب! مکھیوں نے کاٹ کاٹ کر اس کے پورے جسم کو سجادیا۔ آخر گرتا پڑتا روتا چلاتا مرہم پٹی کرنے ڈاکٹر ہمدرد کے پاس واپس آیا اور جاتا بھی کہاں۔
جیسے ہی وہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں داخل ہوا سارے جانور چپ ہوگئے اور اسے دیکھنے لگے۔ ریچھ آگے بڑھا اور اسے سہارا دے کر بٹھایا۔ ڈاکٹر صاحب نے جلدی جلدی اس کے زخموں پر دوا لگائی اور پٹی باندھی۔ ریچھ نے اسے کیک کا ایک بڑا ٹکڑا دیا۔ یہ دیکھ کر بندر رونے لگا اور کہا:
"تم کتنے اچھے ہو اور میں کتنا برا ہوں۔ مجھے معاف کردو"۔
ریچھ نے جاب دیا۔
"میں تو تمہیں پہلے ہی معاف کرچکا ہوں۔ بس تم وعدہ کرو کہ آئندہ کسی کو تنگ نہیں کرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سزا دی ہے"۔
"میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب کسی کو تنگ نہیں کروں گا"۔ بندر نے کہا
تمام جانوروں نے تالیاں بجائیں اور ریچھ نے بندر کو گلے لگالیا۔ بندر نے ریچھ کے کان میں کیا۔
"ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ بھالو بھائی۔ وہ شہد بہت مزے دار تھا لیکن مہنگا پڑا"۔
"اب اگر تمہیں شہد چاہی تو مجھ سے صاف صاف کہہ دینا۔ حجامت بنوانے کا جھانسا مت دینا۔ "ریچھ نے کہا اور دونوں زور زور سے ہنسنے لگے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close