Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > جانوروں کی کہانیاں
موت کا شکار
مخلص دوست
نااہل بادشاہ
نازک صاحب کا...
بھول بھلکڑ
اوئی چوہا
چور مینا
آنٹی ڈولی
سونڈ ہاتھی کی
محبت کا سبق
ہاتھی کی...
پنیر کا چاند
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہاتھی کی سائیکل

 
   
 
ننھا ہاتھی جنگل میں صبح کی سیر کے لیے نکلا تھا لیکن جب اس کی نظر ایک چھوٹی سی خوب صورت دو پہیوں والی سائیکل پر پڑی تو وہ سیر کو بھول کر سائیکل کی طرف لپکا۔ سائیکل بہت صاف اور چمک دار تھی۔ نئی معلوم ہوتی تھی۔ کسی نے اسے درخت کے تنے کے سہارے کھڑا کر رکھا تھا۔ سائیکل کے قریب پہنچ کر وہ اسے غور سے دیکھنے لگا، "واہ وا! کتنی خوبصورت سائیکل ہے"۔ ننھ ہاتھی دل میں سوچنے لگا، "بالکل ویسی ہی ہے جیسی اس دن ایک بچے کے پاس دیکھی تھی"۔
ننھا ہاتھی سائیکل کو ہر طرف سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش! ایسی سائیکل اس کے پاس بھی ہوتی۔ "یہ سائیکل کس کی ہے"۔
اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔ پھر خود ہی کہنے لگا۔ "اگر کوئی دیکھ نہیں رہا تو پھر یہ سائیکل میری ہوگئی"۔ یہ سوچ کر اس نے چاروں طرف دیھکا۔ جنگل سنسان پڑا تھا۔ "ہاں یہ سائیکل میری ہے"۔ یہ کہہ کر وہ خوشی خوشک اچک کر سائیکل پر بیٹھ گیا۔ اس نے آہستہ آہستہ پیڈل مارنے شروع کردیے۔ سائیکل چلنے لگی۔
مارے خوشی کے ننھے ہاتھی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ خوب ناچے، قہقہے لگائے۔ اب وہ سائیکل کو چوڑے راستے پر لے آیا اور تیز تیز پیڈل مارنے لگا، لیکن اس کا دل یکایک اداس ہوگیا۔ "یہ سائیکل بہت اچھی ہے لیکن میری تو نہں ہے۔ ہاں یہ سائیکل کسی اور کی ہے۔ تو کیا میں نے چوری کی  ہے۔ کیا میں چور ہوں۔ نہیں نہیں، میں چور نہیں ہوں، مجھے تو یہ سائیکل جنگل میں پڑی ملی ہے۔ اس لیے میری ہوگئی۔ ہاں یہ میری سائیکل ہے"۔
یہ سوچ کر ننھے ہاتھی نے سائیکل کی رفتار اور تیز کردی۔ اتنے میں اسے چوہا نظر آیا۔ چوہا ایک پرانے درخت کے کھوکھلے تنے میں بیٹھا کہانیوں کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ "کیا حال ہے بھائی چوہے"۔ ہاتھی نے ہاتھ لہرایا۔
پھر اس نے سائیکل روک دی اور بولا، "میں اپنی سائیکل پر صبح کی سیر پر نکلا ہوں"۔
چوہا حیرت سے بولا، "اپنی سائیکل پر۔ یہ سائیکل تمہاری کہاں سے ہوگئی"۔
ہاتھی نے جواب دیا۔ "ہاں، ہاں یہ میری سائیکل ہے، دیکھ نہیں رہے اسے میں ہی چلارہا ہوں"۔
چوہے نے کہا۔ "لیکن تمہارے چلانے سے یہ سائیکل تمہاری نہں ہوگئی۔ یہ اس بچے کی ہے جو جنگل کے ایک کونے میں چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے۔ میں نے خود اسے یہ سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہماری مس کہتی ہیں کہ کسی چیز پڑی ہوئی ملے تو اسے رکھ نہیںلیتے"۔
یہ سن کر ہاتھی نے فوراً سائیکل چلادی اور چوہے سے کہا، "جائو، جائو، اپنا کام کرو، یہ سائیکل میری ہے"۔
کہنے کو تو ہاتھی نے یہ بات کہہ دی تھی، لیکن وہ دل ہی دل میں ڈر رہا تھا کہ کہیں چوہا اس کی شکایت نہ کردے، اب وہ سائیکل تیز تیز چلانے لگا۔ اس نے سائیکل میں لگی ہوئی گھنٹی بجائی "ٹرن ٹرن"۔ گھنٹی بجانے میں اسے اتنا مزہ آیا کہ وہ بار بار گھنٹی بجانے لگا۔ خوشی سے اس نے ایک چنگھاڑ ماری اور پھر گھنٹی بجانے لگا۔
چوں چوں چڑیا اس وقت اپنے گھونسلے میں ناشتا تیار کررہی تھی، جب اس نے گھنٹی کی ٹرن ٹرن اور ننھے ہاتھی کی چنگھاڑ سنی تو بولی۔
"خیر تو ہے، اسکول نہ جانے پر جب ننھے ہاتھی کی پٹائی ہوتی ہے تو روز ہی چنگھاڑتا ہے مگر آج یہ گھنٹیاں کیوں بجا رہا ہے۔" اور جب اس کی نظر ننھے ہاتھی پر پڑی تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ ننھا ہاتھی ایک انتہائی چمچماتی، خوب صورت نئی سائیکل پر گھنٹی بجاتا گانا گاتا چلا آرہا ہے۔
"یہ ہاتھیوں کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آگیا کہ وہ اپنے بچے کو ایسی قیمتی سائیکل دلادیں۔ ہو نہ ہوا اس نے یہ سائیکل کہیں سے ہتھیائی ہے"۔ چوں چوں چڑیا بڑبڑائی۔
یہ سوچ کر چوں چوں چڑیا پھر زور سے اڑی تاکہ جنگل کے سب جانوروں کو یہ بتاسکے کہ ننھے ہاتھی کو کہیں سے سائیکل ہاتھ لگی ہے جس پر وہ بیٹھا چلا آرہا ہے۔ لیکن اس نے دیکھا کہ تمام جانور ایک جگہ جمع ہیں اور آپس میں مشورہ کررہے ہیں کہ یہ سائیکل کس کی ہے اور ننھے ہاتھی سے واپس کس طرح لی جائے۔ دراصل چوہے نے تمام جانوروں کو جمع کرکے انہیں ساری بات بتادی تھی۔ چوں چوں چڑیا بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی۔ سب جانوروں نے فیصلہ کیا کہ یہ سائیکل ننے ہاتھی سے واپس لے کر اس بچے کو دے دی جائے جو اس سائیکل کا مالک ہے۔
اتنے میں سائیکل کی ٹرن ٹرن سنائی دی اور ننھا ہاتھی سائیکل پر آتا دکھائی دیا۔ ننھے ہاتھی نے جب دیکھا کہ تمام جانور ایک جگہ جمعہ ہیں اور اسے غور سے دیکھ رہے ہیں تو وہ گھبراگیا۔ جیسے ہی اس کی سائیکل ان جانوروں کے پہنچی سب نے اسے گھیر لیا۔ "یہ سائیکل تم نے کہاں سے خریدی"۔ خرگوش نے سائیکل پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
"خریدے گا بھلا کہاں سے، کسی کو ڈرا دھمکا کر لے لی ہوگی"۔ چوہنے نے کہا۔
"نہیں، نہیں یہ سائیکل میں نے کسی سے چھینی نہیں ہے۔ یہ میری سائیکل ہے"۔ ننھے ہاتھی نے جواب دیا۔
"تو پھر بتائو کہاں سے آئی تمہارے پاس"۔ لومڑی نے اسے ڈانٹ کر کہا۔ "کہیں پڑی ہوئی ملی تھی تو اس کے مالک کو بھی ڈھونڈتے۔ بچہ جی چڑھ بیٹھے فوراً سائیکل پر اور ٹرن ٹرن سے سارا جنگل سر پر اٹھالیا"۔
ننھے ہاتھی نے جب دیکھا کہ اب اس کی خیر نہیں تو سامنے کھڑے ہوئے بندر کو ایک طرف دھکادیا اور سائیکل تیزی سے نکال لے گیا۔ سارے جانور چلائے:
"لینا، پکڑنا،دوڑو، جانے نہ پائے"۔
لیکن ہاتھی نے سائیکل کو بہت تیز چلایا اور کافی آگے نکلگیا۔ خرگوش نے کہا:
"میری رفتار تیز ہے، میں اسے پکڑ لوں گا"۔ یہ کہہ کر وہ ننھے ہاتھی کے پیچھےلپکا۔ لومڑی اور چوہا بھی اس کے پیچھے بھاگے۔ چوں چوں چڑیا بھلا کب پیچھے رہتی۔ وہ بھی اڑتی ہاتھی کے پیچھے گئی۔ ننھے ہاتھی نے جو مڑ کر دیکھا تو خرگوش، لومڑی، چوہے اور چڑیا کو اپنا پیچھا کرتا پایا۔ چناںچہ اس نے سائیکل کی  رفتار اور بڑھادی۔ اب سائیکل خطرناک حد تک تیز ہوچلی تھی اور ہاتھی کے قابو سے باہرہونے لگی تھی۔ اتنے میں ایک بڑا سا پتھر سائیکل کے راستے میں آیا۔ اس سے ٹکرا کر سائیکل جو اچھلی تو ہاتھی اسے سنبھال نہ سکا اور سائیکل کے ساتھ اڑا اڑا ڑا دھم، زمین پر آرہا، ہاتھی کے سر پر شدید چوٹ آئی اور بے ہوش ہوگیا۔
ہاتھی کو جب ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھا۔ اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ سارے جانور جمع تھے۔ ممی ہاتھی اور پتا ہاتھی بھی اس کے پلنگ کے پاس کھڑے تھے۔ ہاتھی کو ہوش آیا تو ممی ہاتھی نے کہا۔
"دیکھو بیٹا اگر کوئی چیز کہیں پڑی ملے تو وہ ہماری نہیں ہو جاتی۔ تم نے کسی کی چیز لے لی اور پھر جھوٹ بھی بولا کہ یہ میری ہے۔ تمہیں اس کی سزا ملی ہے"۔
ننھے ہاتھی نے کہا، "امی مجھے سے غلطی ہوگئی۔ مجھے معاف کردیجئے"۔
پپا ہاتھی نے کہا، "تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، یہ بہت اچھی بات ہے، ہم تمہارے لیے ایک ایسی ہی سائیکل لے آئیں گے، لیکن وعدہ کرو آئندہ کوئی اچھی چیز لینے کو چل چاہے تو ہم سے کہو گے، ہم تمہیں دلائیں گے"۔
"وعدہ، ابو وعدہ!"۔ ننھا ہاتھی جلدی سے بولا۔ سب جانوروں نے باری باری اسے مبارکباد دی اور چوں چوں چڑیا پھر جلدی سے اڑگئی تاکہ جنگل میں یہ خبر سب کو سنادے کہ ننھے ہاتھی نے اپنی غلطی مان لی ہے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close