Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > جانوروں کی کہانیاں
موت کا شکار
مخلص دوست
نااہل بادشاہ
نازک صاحب کا...
بھول بھلکڑ
اوئی چوہا
چور مینا
آنٹی ڈولی
سونڈ ہاتھی کی
محبت کا سبق
ہاتھی کی...
پنیر کا چاند
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   Back
 

موت کا شکار

 
   
 
اس دن صبح سے ہی ماحول پر سخت دھند اور کہر کا پرچم لہرا رہا تھا۔ رات کو شبنم بھی خوب پڑی تھی۔ سردی کے شدید اثر کی وجہ سے گاﺅں کے کنارے گیڈر بھی رات بھر شور مچاتے رہے تھے۔ پہاڑی برفانی علاقہ ہونے کی وجہ سے جنوری کے پورے ہی مہینے گاﺅں سردی کے اثر کا شکار رہتا تھا۔ دن ہو یا رات سرد ہوائیں جسم میں کپکپاہٹ پیدا کردیتی تھیں۔ ان سرد لہروں کی وجہ سے فصلوں کو تو نقصان پہنچتا ہی تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں جنگلی جانور بھی موت کی آغوش میں سما جاتے تھے۔
میرا بستر سے اٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر نماز فجر کی ادائیگی کا خیال مجھے بستر چھوڑنے پر مجبور کررہا تھا۔ میرے لیے یہ احساس ہی کافی تھا کہ قیامت کے دن اعمال میں پہلی پرسش نماز کے ہی سلسلے میں ہوگی۔ میں بستر سے اٹھا جوائج ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کیا اور قریبی مسجد سے فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد حسب معمول تلاوت کرکے صبح کی ہوا خوری کے لیے جنگل کی طرف میرے قدم اٹھ گئے۔ میرے ساتھ جنگل کی طرف جاتے ہوئے حفاظتی نکتہ نظر سے ہاتھ میں ایک لاٹھی اور جیب میں شکاری چاقو ضرور ساتھ رہتا تھا۔ اس دن بھی یہ دونوں چیزیں میرے پاس موجود تھیں۔ وہ سپاہی کیا، جو ہتھیار کے بغیر میدان میں کود پڑے۔ میں اپنی مخصوص نپی تلی رفتار سے جنگل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرے گھر سے مسجد کا فاصلہ چند ہی میٹر تھا جبکہ مسجد سے جنگل کا راستہ بمشکل تمام سو یا ڈیڑھ سو میٹر ہوگا۔ صبح کا وقت ماحول مرغوں، مور اور دوسرے پرندوں کی دلفریب چہچہاہٹ سے گونج رہا تھا۔ درختوں کے پتوں سے ٹپکتی شبنم کی بوندیں جنگل کے حسن میں اضافہ کررہی تھیں۔ ایک خصوصی قسم کے چھوٹے پتوں والے درخت کی شاخوں پر منڈلانے والی خوبصورت نازک تتلیوں کا منڈلانا ایسا محسوس ہورہا تھا گویا وہ تتلیاں نہیں بلکہ رنگ برنگے خوبصورت خوش رنگ پھول ہوں.... جنگل میں بہنے والا چھوٹا سا آبشار ماحول میں اپنا دلاویز راگ سنا رہا تھا۔ میں زیر لب سورہ یٰسین کی تلاوت کرتا ہوا اپنی طے کردہ منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھ سے تقریباً بیس میٹر کے فاصلے پر مغربی سمت میں ایک بھیڑیا کھڑا مجھے گھور رہا تھا۔ میرے کچھ قدم اور آگے بڑھنے پر ایک لومڑی قریب کی جھاڑیوں سے باہر نکلی اور سامنے کی جھاڑیوں میں گھس کر غائب ہوگئی۔ میرے لیے جنگلی جانوروں کی یہ للگا چھپی کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ معمول کا ایک حصہ تھی۔ میں اپنا نصف سفر طے کرچکا تھا۔ اپنی مخصوص منزل سے میں صرف دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا کہ مجھے بھیڑیوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ اور ایسے جھنڈ تو عموماً دیکھنے میں آتے ہی رہتے تھے مگر ان سب میں الگ ایک بہت ہی تند و مند بھیڑیا اپنا بھاری جسم ایک درخت کے تنے سے رگڑ رہا تھا، شاید وہ اس طرح اپنے بدن میں پیدا ہونے والی خارش سے نجات حاصل کررہا تھا۔ میں ابھی اس سے کافی پیچھے تھا مگر اچانک ہی نجانے کیا سوچ کر تنے سے اپنی خارش مٹانے کے عمل کو چھوڑ کر وہ میرے سامنے راستے میں بالکل بیچوں بیچ کھڑا ہوگیا جیسے مجھے آگے بڑھنے سے روکنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کا انداز، اس کے تیور دیکھ کر سوچا کہ طرح دے کر نکل جاﺅں، لیکن پھر خیال آیا، یہ تو کوئی بات نہ ہوگی کہ جنگل کنارے آباد گاﺅں کا باشندہ ہوتے ہوئے بھیڑیے کو طرح دے کر آگے نکل جاﺅں، دل میں یہ خیال آتے ہی لاٹھی پر میری گرفت مضبوط ہوگئی، میں لاٹھی حملے کی صورت میں اٹھائے ہوئے آگے بڑھا۔ میں یہ سوچ کر کچھ خوفزدہ ضرور تھا کہ عموماً بھیڑیے انسان کو دیکھ کر خود ہی کترا کر ادھر ادھر ہوجاتے ہیں جبکہ یہ خود میرے راستے میں آکر کھڑا ہوگیا ہے اور اس کے تیور بھی خطرناک نظر آرہے تھے جبکہ دوسرے بھیڑیے آگے بڑھ گئے تھے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کہیں یہ بھیڑیا پاگل تو نہیں ہوگیا ہے۔ لیکن دوسری طرف میری ہمت مجھے اکسا رہی تھی۔ تم مرد ہو۔ اللہ نے تمہیں اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا ہے۔ یہ بھیڑیا تو تمہاری لاٹھی پر پریشانی کیا معنی، میں نے اس کے قریب پہنچ کر لاٹھی کو فضا میں بلند کرتے ہوئے ہشکارا، وہ میرے ہشکارے کی آواز سن کر کسی بے ضرر پالتو جانور کی طرح راستے سے ہٹ کر ایک طرف ہوگیا لیکن جیسے ہی میں نے اس کے کھڑے ہونے کی جگہ کو عبور کیا وہ پھر واپس مڑ کر راستے پر آگیا اور میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔
یہ کیا مصیبت میرے پیچھے پڑگئی ہے۔ میں نے سوچا اور ایک بار پھر رک کر کھڑا ہوگیا۔ اب میں اسے بھگانے کا موڈ بنا چکا تھا۔ میرا خیال تھا کہ لاٹھی سے ڈرا کر اسے کچھ دور تک بھگادوں گا تو میرے راستے سے ہٹ جائے گا اور میرا پیچھا چھوڑ دے گا۔ اب میں لاٹھی کو فضا میں لہراتے ہوئے اسے بھگادینے کے خیال سے آگے بڑھا مگر وہ ذرا بھی خوفزدہ ہو کر پیچھے نہیں ہٹا۔ جسے اس نے میرا چیلنج قبول کرلیا تھا۔ یہ دیکھ کر میں نے پوری طاقت سے اس پر لااٹھی کا وار کیا۔ مگر یہ کیا، اس نے میری لاٹھی کو اپنے جبڑے میں دبوچ لیا۔ میں نے جھٹکادے کر اپنی لاٹھی اس کے جبڑے سے نکالی اور پھرتی کے ساتھ فوراً ہی پوری قوت سے اس کی پیٹھ پر جمادی جس کا اثر اس پر ذرا بھی نہیں ہوا۔ اب میرے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا۔ اس سے پیچھا چھڑانے کا اور وہ یہ کہ میں ہی میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاﺅں۔ یہی سوچ کر میں نے جھیل یعنی چشمے کی طرف اپنے قدم بڑھادیے۔ وہ خطرناک بپھرا ہوا بھیڑیا اب بھی میرے پیچھے آرہا تھا۔ چشمے کے قریب پہنچ کر میں نے سوچا کیوں نا اسے چکر میں ڈال کر چشمے کے کنارے کنارے آگے نکل جاﺅں، یہ خیال آتے ہی میں فوراً اس طرف مڑ گیا لیکن اب کیا ہوگا یہ خیال بھی مجھے پریشان کررہا تھا، میں جتنا آگے بڑھتا۔ اتنا ہی گاﺅں کی آبادی سے میرا فاصلہ بڑھتا جاتا۔ قریب ہی کوئی محفوظ جگہ بھی نظر نہیں آرہی تھی جس جگہ پہنچ کر اس کے خطرے سے بچا جاسکے۔ پھر اچانک ہی میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں ناں میں چشمے کے کنارے آڑ میں چھپ جاﺅں، وہ دھوکے میں آکر مجھے ڈھونڈتا رہ جائے اور میں پھر آگے نکل جاﺅں، اپنے اسی خیال پر عمل کرتے ہوئے میں چشمے کے کنارے جھاڑیوں میں سمٹ کر بیٹھ گیا مگر اس ظالم نے مجھے چھپتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اب میرے پیاس پانی میں کود کر اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا لیکن وقت کی نزاکت اور اتنی ٹھنڈ کہ میں برفیلے پانی میں کود جانا بھی کم خطرناک بات نہیں تھی، دوسرے لفظوں میں آپ اسے بھی براہ راست موت کے جبڑے میں جانے سے تعبیر کرسکتے ہیں مگر میرے لیے تو دوسری طرف بھیڑیے کی صورت میں بھی موت ہی تھی۔ چشمے کے دوسرے کنارے تک پہنچتے پہنچتے میں بالکل ہی بے دم ہوگیا۔ اب تو مجھس ے ایک قدم بھی آگے برھنا دو بھر ہورہا تھا مگر میرے لیے سستانے یا آرام کرنے کا خیال تک دل میں لانا ممکن نہ تھا۔ چشمے کے پانی سے نکل کر میں لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ پانی سے نکل آنے پر میں نے سکون محسوس کیا تھا۔ اب میں تیزی کے ساتھ گھر واپس پہنچ جانے کی فکر میں تھا اور آبادی کی طرف جانے والے راستے پر میرے قدم آگے بڑھ رہے تھے۔ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہا تھا۔ جان بچ جانے پر۔
ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ قریب کی جھاڑیاں ہلنے لگیں، یا اللہ خیر، میں نے دل میں دعا مانگی۔ کسی نئی مصیبت کے خیال سے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے جھاڑی میں سے وہی بھیڑیا پھر میرے سامنے آگیا۔ وہ مجھ پر حملہ کرنے ہی والا تھا کہ میں نے سوچا، اب کیا کروں۔ ۔بھاگانے کی سکت نہیں رہ گئی تھی۔ ٹھنڈے پانی کے اثر سے جسم پہلے ہی سن ہو کر رہ گیا تھا۔ مگر جان تو بچانے تھی ہی ساری قوت جمع کرکے دوڑ لگادی۔ شاید بھیڑیا اس بار زیادہ موقع دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اس کے اور میرے درمیان بمشکل تمام پندہ سولہ میٹر کا فاصلہ تھا۔اسی لمحے میری نظر ایک درخت پر پڑی اور میں کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس درخت پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اللہ کی مدد میرے ساتھ شامل حال تھی۔ میں درخت پر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا۔ اب میں ایک موٹی مضبوط شاخ پر بیٹھا گہری گہری سانسیں لے رہا تھا اور وہ ظالم موذی بھیڑیا نیچے بیٹھا مجھے گھور رہا تھا، جیسے ابھی میں پکے ہوئے پھل کی طرح نیچے ٹپکوں گا اور وہ مجھے اپنے جبڑے میں دبوچ لے گا۔
مجھے درخت کی شاخ پر پناہ لیے ہوئے صبح سے دوپہر ہوچلی تھی۔ تھکن کے ساتھ ساتھ بھوک بھی تنگ کررہی تھی۔ میں نے درخت کی کئی شاخیں توڑ کر اس کی طرف نیچے پھینکیں۔ مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ شاید یہ طے کرچکا تھا کہ میری جان لے کر ہی وہاں سے واپس جائے گا۔ اچانک میرا ہاتھ جیب میں رکھنے شکاری چاقو سے ٹکرایا۔ جیب سے باہر نکالتے ہی میرا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا۔ میں نے درخت کی ایک موٹی اور لمبی شاخ توڑی اور ایک سرے کو چھیل کر پنسل کی طرح اس کی نوک بنانے لگا۔ یہ کام کرتے ہوئے بھیڑیا برابر مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی سرخ انگارے میں دہکتی آنکھیں مجھ پر ہی جمی ہوئی تھیں۔
نصف گھنٹے کی محنت کے بعد وہ شاخ ایک سرے پر سے باریک پنسل کی نوک کی شکل اختیار کرچکی تھی اب اگلا مرحلہ تھا ایک اچھے نپے تلے نشانے کا ایسا بھرپور نشانہ جو مجھے اس ظالم بھیڑیے سے نجات دلائے۔ میں نے ایک ہاتھ سے درخت کی شاخ کو پکڑ کر اپنا توازن قائم کیا اور دوسرے ہاتھ سے پنسل کی نوک کی طرح تراشی ہوئی شاخ کو بڑی احتیاط اور قوت سے نشانہ لے کر اسے بھیڑیے کی طرف پھینک دیا۔ اللہ کا کرام ہوا۔ نشانہ ٹھیک لگا۔ پنسل کی طرح تراشی ہوئی نکیلی شاخ بھیڑیے کے دل کے قریب اس کے جسم میں پیوست ہوگئی اور ماحول اس کی دردناک فلک شگاف چیخ سے گونج اٹھا۔ اس کی آواز اس قدر دردناک اور تیز تھی کہ آس پاس کے درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے بھی شاخوں سے اڑ کر فضا میں تیرنے لگے۔ بھیڑیا زخم کی تکلیف سے چیختا ہوا ایک طرف کو بھاگ کھڑاہوا۔ دیر تک اس کی چیخیں جنگل میں سنائی دیتی رہیں۔ پھر خاموشی چھاگئی۔
 
اب میں آہستہ آہستہ درخت سے نیچے اترا اور گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی رحمت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔
اس حادثے کے دو دن بعد یعنی تیسرے دن اس خطرناک بھیڑیے کی لاش ایک جگہ پڑی ہوئی لوگوں نے دیکھی۔ مجھے خبر ملی تو میں بھی اسے دیکھنے گیا۔ اس وقت بھی پنسل کی طرح تراشی ہوئی نکیلی شاخ اس کے جسم میں پیوست تھی۔ اس کی لاش دیکھ لینے کے بعد میرا خوف دور ہوگیا اور میں نے معمول کے مطابق صبح نماز فجر اور نصف پارہ تلاوت کرنے کے بعد ہوا خوری کے لیے پھر گاﺅں سے نکل کر جنگل کی طرف جانا شروع کردیا۔ سچ کہا جب تک کسی بھی جاندار کی زندگی کے دن پورے نہ ہوئے ہوں اسے کوئی مار نہیں سکتا اور جب اس کا وقت پورا ہوگیا ہو تو اسے کوئی بچا نہیں سکتا۔ میری زندگی باقی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ظالم بھیڑیے کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے سے بچالیا اور اس بھیڑیے کی زندگی پوری ہوچکی تھی وہ میرے ہاتھوں موت کا شکار ہوگیا۔
 
اگلا   Back

Bookmark and Share
 
 
Close