Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > جانوروں کی کہانیاں
موت کا شکار
مخلص دوست
نااہل بادشاہ
نازک صاحب کا...
بھول بھلکڑ
اوئی چوہا
چور مینا
آنٹی ڈولی
سونڈ ہاتھی کی
محبت کا سبق
ہاتھی کی...
پنیر کا چاند
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مخلص دوست

 
   
 
ایک پتھر درخت کی سب سے بالائی شاخ پر بیٹے ہوئے طوطے کو لگا اور وہ پھڑپھڑاتا ہوا شاخ سے گر کر نیچے زمین پر آن گرا.... اسے تڑپتا دیکھ کر ندیم کی آنکھوں میں چمک سی آگئی، ہونٹوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی۔
نشید سے یہ منظر دیکھا نہیں گیا، وہ دور کھڑا ندیم کی حرکات کو کافی دیر سے دیکھ رہا تھا، تیز تیز قدم بڑھا کر ندیم کے قریب پہنچ کر کچھ کہنا ہی چاہ رہا تھا کہ ندیم بول اٹھا، نشید دیکھا تم نے میرا نشانہ، اب دیکھو میں اس اڑتے ہوئے کبوتر کو کیسے اپنے نشانے پر لیتا ہوں، کہتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑی غلیل تان لی۔
ندیم بس کرو، ایک مسلمان ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے کو یہ حرکت زیب نہیں دیتی، کہتے ہوئے نشید نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، کیوں، خیریت تو ہے کوئی چڑیا گھر کھولنے کا پلان بنالیا ہے تم نے۔ ندیم نے عجیب انداز میں منہ بناتے ہوئے سوال کیا۔
ندیم، یہ مذاق نہیں ہے، میں کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں تم بے زبان، معصوم پرندوں کو نشانہ بنا کر ان کی زندگی سے کھیل رہے ہو، ان معصوم پرندوں کو ہلاک کرکے تمہیں ملتا کیا ہے، نشید نے نرم انداز میں کہا۔
ارے یار، آج تم بہت سنجیدہ نظر آرہے ہو، ندیم نے بات کو ٹالنے کے انداز میں کہا۔
میں واقعی مذاق نہیں کررہا ہوں، اگر میری تم سے دوستی نہ ہوتی تو میں۔۔۔۔ کہتے کہتے نشید نے اپنا جملہ نامکمل چھوڑد یا، دوستی نہیں ہوتی تو پھر کیا کرلیتے تم۔ ندیم تنک کر بولا، میں نے پرندوں کو ہی تو مارا ہے، تمہارا کوئی ذاتی نقصان تو نہیں کیا، یہ پرندے کیا تم نے خرید رکھے ہیں، اس نے جارحانہ انداز میں کہا۔
میں نے انہیں خرید نہیں رکھا ہے مگر ان معصوم پرندوں نے تمہارا کیا بگاڑا، کیا نقصان کیا ہے جو ان سے ان کی زندگی چھین رہے ہو، نشید نے نرمی سے سمجھانے کے سے انداز میں کہا، پھر ذرا ٹھہر کر بولا، اپنی ذرا دیر کی خوشی کے لیے اپنی تفریح کے لیے کسی کی جان لے لینا اچھی بات نہیں ہم مسلمان ہیں، اسلام سلامتی کا مذہب ہے، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کا ہم کلمہ پرھتے ہیں، سارے جہانوں کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے، ہم ان کی امتی ہو کر وہ کام کریں جو ہمیں کرنا ہی نہیں چاہیے، ایک اصول ہے وہ یہ کہ اگر تم کسی کو وہ چیز نہیں دے سکتے تو اس سے تمہیں لینا بھی نہیں چاہیے، زندگی دینے اور لینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، نشید نے بڑی نرمی سے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ایک مسلمان کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ کسی پر ظلم ہوتا دیکھے تو اسے ظلم کرنے سے روک لے، اگر وہ ظالم کو ظالم کرنے سے روک نہیں سکتا تو اسے اپنے دل میں برا ضرور سمجھے، میں تمہاری بھلائی کے لیے سمجھا رہا ہوں، نشید نے کہا۔
بس، بس رہنے دو میری بھلائی،میں خود سمجھتا ہوں ا پنی بھلائی اپنی برائی کو،تم اپنے کام سے کام رکھو بس، ندیم نے اسی طرح تنکتے ہوئے کہا۔
نشید نے کیا۔ ٹھیک ہے، ابھی تو میں جارہا ہوں مگر میری یہ بات یاد رکھنا، آئندہ کسی معصوم پرندے کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا تو ٹھیک نہیں ہوگا، یہ کہہ کر نشید نے جانے کے لیے جیسے ہی اپنا قدم آگے بڑھایا ندیم نے ایک اور کبوتر کو نشانہ بنا کر اس کی جان لے لی، نشید یہ دیکھ کر اس پر جھپٹا اور اس کے ہاتھ سے غلیل چھین لی، ندیم اپنی غلیل اس سے واپس لینے کے لیے بھپرے ہوئے انداز میں جھپٹا مگر نشید جھکائی دے کر تیزی سے ایک طرف ہٹ گیا، نہ جانے کیسے ندیم کا پیر پھسلا، وہ ڈگمگایا، سنبھلنے کی کوشش کی مگر اوندھے منہ زمین پر گرپڑا، جس جگہ وہ گرا تھا وہیں ایک بڑا نوکیلا پتھر پڑا ہوا تھا جو اس کی پیشانی میں بری طرح چھب گیا اور پیشانی سے خود کی دھار بہہ نکلی، نشید نے یہ دیکھا تو واپس پلٹا، اس نے ندیم کو اٹھایا اور اپنا رومال اس کے زخم پر رکھ کر خون روکنے کی کوشش کرنے لگا، مگر جب ناکام رہا تو اسے ساتھ لے کر قریبی کلینک لے گیا، ڈاکٹر نے دیکھا زخم گہرا تھا، پوچھا یہ کیسے لگا تو نشید نے ساری بات بتادی۔
ڈاکٹر نے کہا۔ بیٹے شکر کریں، یہ قدرتی سزا ہے، اللہ کی طرف سے آپ کے ظلم کی، آپ کو ایک اچھا دوست ملا ہے جو آپ کو غلط کام سے روکنا چاہتا ہے، آپ نے قرآن مجید پڑھا ہے، ندیم نے اقرار میں سر ہلادیا۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس کی سورة الزلزال یاد ہے آپ کو، ندیم نے پھر اقرار میں سر ہلادیا، شاباش یہ تو بہت اچھی بات ہے ذرا سنائیے تو سہی، ڈاکٹر صاحب نے ندیم سے بڑے ہی دوستانہ انداز میں کہا، ندیم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سورة الزلزال سنادی۔ ماشاءاللہ، آپ کو اچھی طرح یاد ہے، اور پڑھتے بھی بہت پیارے انداز میں ہیں اب ذرا یہ بتائیں آپ کو اس کا ترجمہ بھی آتا ہے، اس پر ندیم نے انکار میں سر ہلادیا۔ ارے بھائی، یہ کیا بات ہوئی، آپ نے قرآن مجید پڑھا، سورت بھی یاد کی مگر اس کا ترجمہ نہیں معلوم آپ کو، پھر ایک گہری سانس لیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ترجمہ جاننے سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ قرآن مجید کی یہ سورة مدنی ہے اور اس میں سات آیات ہیں، پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: جب زمین اپنی پوری شدت سے ہلا ڈالی جائے گی اور دوسری آیت میں کہا ہے اور انسان کہے گا یہ کیا ہورہا ہے پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس روز وہ اپنے اوپر گزرتے ہوئے حالات بیان کرے گی کیوں کہ تیرے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا، اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں پھر آخری دو آیات میں سے ایک آیت میں کہا ہے کہ پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور دوسری آخری آیت میں کہا ہے کہ جس نے ذرا برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ پھر ایک گہری سانس لیتے ہوئے آگے کہا بیٹے میں نے پہلے کہا تھا یہ قدرتی سزا ہے جو آپ کو اسی وقت مل گئی یہ آپ کے ظالم کی جو بے زبان، معصوم پرندوں کی جان لے کر کرتے ہیں کی ملی ہے، پھر آپ کا دوست اپنی دوستی، اپنی اسلامی تعلیم اور اسلامی اخوت، محبت کا خیال کرتے ہوئے آپ کو میرے کلینک تک لے آیا، یہ بھی اللہ کی طرف آپ کے دوست کے دل میں ڈالی گئی بات ہے۔ ذرا سوچیے وہ آپ کو زخمی حالت میں وہیں پڑا چھوڑ کر اپنے گھر چلا جاتا تو بروقت طبی امداد نہ ملنے پر آپ کے زخم کی نوعیت کیا ہوتی کی زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ کمزوری محسوس نہ کرتے اور ندیم ڈاکٹر صاحب کی کسی بھی بات کا کوئی جواب نہیں دے سکا۔
اس کی گردن ندامت سے جھکی ہوئی تھی، وہ اپنے عمل پر شرمسار تھا اور دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے کرم کا شکر ادا کررہا تھا جس نے نشید کی صورت میں ایک اچھا مخلص دوست اور ڈاکٹر صاحب کی صورت میں ایک اچھا رہنما، جب وہ نشید کے ساتھ کلینک سے باہر نکلا تو دل ہی دل میں فیصلہ کرچکا تھا کہ آئندہ وہ کسی بھی پرندے کو کسی بھی کمزور کو ناحق اپنے ظلم کا نشانہ نہیں بنائے گا۔
ایک دن ندیم نے صبح سویرے مٹھی بھر باجرے کے دانے اپنے آنگن میں ڈال دیے، دانے دیکھ کر کئی کبوتر اور دوسرے پرندے دانہ چگنے صحن میں آگئے، ندیم کو دانہ چگتے ہوئے پرندے بہت اچھے لگ رہے تھے آج اسے احساس ہورہا تھا کہ ظلم وہ ہے جس سے دل و دماغ میں چھبن ہی محسوس ہو اور نیکی وہ جس سے دل و دماغ میں خوشی، سکون اور اطمینان کا احساس پیدا ہو۔ اب ندیم وہ پہلے والا ندیم نہیں رہا تھا۔
اس کا ہر فعل، ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہوگیا تھا، اس کی سوچ کا عمل بالکل بدل چکا تھا، نشید اب اس کا سب سے مخلص دوست تھا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close