Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

عظمت کے مینار

 
   
 
رات کا وقت تھا، ہر طرف گہری خاموش چھائی ہوئی تھی۔ رات تاریک بھی تھی اورسرد تھی، مدینہ کے نواحی علاقے میں کچھ خیمے لگے ہوئے تھے، ان میں بھی سناٹا تھا لیکن ایک خیمہ سے بچوں کے رونے اور بلبلانے کی آواز آرہی تھی، بچوں کے ساتھ ایک افسردہ اور پریشان حال عورت تھی جو غالبا ان کی ماں تھی، وہ انہیں بہلانے کی کوشش کرہی تھی لیکن بچے تھے کہ مسلسل روئے جارہے تھے، عورت نے چولہے پر ایک ہنڈیا چڑھا رکھی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی چیز پکار رہی ہے، بچے بار بار ہنڈیا کی طرف اشارہ کرتے اور کھانے کو مانگتے، ماں انہیں بہلا پھسلا کر سونے کا کہتی لیکن وہ بھوک کی وجہ سے سو نہیں پارہے تھے۔
اسی اثناءمیں خیمہ کے باہر ایک دراز قد اور باوقار و بارعب شخص اپنے غلام کے ساتھ گزر رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ گشت پر ہے، بچوں کی آوازیں سن کر وہ شخص رک گیا اور خیمہ کے مکینوں کا حال دریافت کرنے لگا۔
یہ بچے رو رہے ہیں آپ انہیں چپ کیوں نہیں کراتیں۔
یہ کئی وقتوں کے بھوکے ہیں، عورت غمزدہ لہجے میں بولی۔
یہ ہنڈیا میں کیا پکا رہی ہیں۔ اس شخص نے دوبارہ سوال کیا۔ اور جلدی سے انہیں پکا کر کیوں نہیں دیتیں۔
میرے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، ہنڈیا میں صرف پانی اور پتھر ہیں۔
عورت نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ جو انہیں بہلانے کے لیے چولہے کے اوپر چڑھا رکھی ہے۔ رو دھو کے چپ ہو کر سوجائیں گے تو ہنڈیا بھی اتاردوں گی۔
عورت کا جواب سن کر نوارد کے چہرے پر غم کے آثار چھاگئے، تکلیف دہ جواب سن کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ شخص ابھی رو دے گا۔ پورے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی، اسی وقت تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے مدینہ پہنچے، اسی وقت بیت المال کھلوایا، آٹا، گھی، کھجوریں اور کھانے کا دیگر سامان ایک بوری میں ڈالا اور اپنے خادم سے کہا کہ بوری میری پیٹھ پر لاد دو، خادم نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضور میں اٹھالیتا ہوں۔ جواب میں اس شخص نے کہا کہ قیامت کے دن تم میرا بوجھ نہیں اٹھاﺅ گے، یہ میرا بوجھ ہے اسے میں ہی اٹھاﺅں گا اور پھر بوری اپنی پیٹھ پر لاد کر اچھا خاصا فاصلہ طے کرکے اسی خیمے تک پہنچے، عورت کے سامنے سارا سامان ڈھیر کرکے کہا کہ یہ کھانے پینے کی چیزیں لو اور فوراً پکا کر ا پنے بچوں کو کھلاﺅ۔
عورت نے ہنڈیا دوبارہ چڑھا کر اس میں گوشت پکانا شروع کردیا اور پھر آٹا گوندھ کر روٹیاں پکائیں، اسی دوران وہ شخص چولہا پھونکتا جاتا تھا، تھوڑی دیر میں کھانا پک کر تیار ہوگیا تو عورت نے بچوں کو کھلایا، بچوں کے پیٹ بھر گئے تو وہ خوشی سے اچھلنے کودنے لگے، ان کی خوشی دیکھ کر اس شخص کے چہرے پر بھی خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
عورت نے خوش ہو کر جذبہ تشکر سے کہا۔
اے اجنبی! اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے اور اپنی رحمتوں سے نوازے، خلیفہ ہونے کا لائق تو ہے نہ کہ عمر بن الخطاب۔
عورت کی یہ بات سن کر وہ شخص خاموش ہو کر آگے بڑھ گیا کیوں کہ یہ شخص کوئی اور نہیں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی تھے جو اپنی رعایا کی خبر گیری کرنے کے لیے راتوں کو مدینہ اور گرد و نواح کی گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے۔ ایک اور دفعہ کا ذکر ہے کہ دارالخلافہ مدینہ منورہ کے باہر ایک قافلہ آکر رکا۔ رات کا وقت تھا۔ قافلہ کے لوگ تھکے ہوئے تھے اس لیے فوراً ہی محو خواب ہوگئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی رعایا کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے ادھر گشت کررہے تھے، اسی دوران ایک خیمے سے ایک شیر خوار بچے کے رونے کی آواز آئی۔ بچے کے رونے کی آواز سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رک گئے اور بچے کی ماں سے کہا کہ بچے کو بہلائے اور اسے چپ کرائے۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا تو انہیں دوبارہ بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو قدرے غصہ آیا اور انہوں نے بچے کی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، تو بڑی بے رحم ماں ہے کہ بچے کو رلائے جارہی ہے اور اسے چپ نہیں کراتی۔
عورت جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ناواقف تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کو اجنبی سمجھ رہی تھی، کہنے لگی۔
اے شخص اپنی راہ لو اور مجھے بار بار پریشان نہ کرو۔ میں اس بچے کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں لیکن یہ ضد کرتا ہے اور روتا ہے۔
لیکن ان کی عمر تو ایک سال بھی نہیں لگتی اور تو دودھ چھڑانے میں کیوں جلدی کرتی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حیرت سے پوچھا۔
اس لیے کہ خلیفہ کا حکم ہے کہ بچے کا وظیفہ دودھ چھڑانے کے بعد مقرر کیا جائے گا، ہم ضرورت مند ہیں ہمیں وظیفہ کی ضرورت ہے اس لیے وقت سے پہلے میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں تاکہ وظیفہ مل سکے۔
یہ جواب سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر رقت طاری ہوگئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نہایت نرمی اور تسلی کے انداز میں عورت سے کہنے لگے۔
اس ننھی جان پر ظلم نہ کر۔ اسے دودھ پلا، کل ان شاءاللہ اس کا وظیفہ لگ جائے گا۔
اگلے روز نماز فجر کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ حکم نامہ جاری کرتے ہیں کہ جس دن کوئی بچہ پیدا ہوگا اسی دن سے اس کا وظیفہ مقرر کردیا جائے گا۔ اس کے دودھ چھڑانے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
یہ تھے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ.... آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنی عدی سے تھا۔والد کا نام خطاب اور دادا کا نام نفیل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب آٹھویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے والد خطاب انساب عرب یعنی عربوں کے نسب ناموں کے ماہر تھے اور مکہ کے معززین میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ مکہ میں مقدمات کے فیصلے کروانا اور سفارت کے فرائض بنی عدی کے سپرد تھے۔ یعنی قریش کو کسی دوسرے قبیلے سے کوئی معاملے طے کرنا ہوتا تو بنی عدی سفارت کے فرائض سرانجام دیتا۔ اس لیے ان لوگوں کے اندر تقریر اور فصاحت کی خوبیاں، مردم شناسی اور معاملہ فہمی کے اوصاف بخوبی موجود تھے۔ یہ جوہر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ورثہ میں ملے تھے اور ان کے اندر یہ ساری صلاحیتیں موجود تھیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پیدائش واقعہ فیل کے تیرہ سال بعد ہوئی جو تقریباً سن 582ءبنتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ ستائیس سال کے تھے۔ جوان ہوئے تو مکہ کے عام دستور کے مطابق اونٹ چرائے، سارا سارا دن اونٹ چرایا کرتے۔ جوانی کی حدود سے نکل کا عالم شباب میں ایک بلند قامت، طاقتور، سرخ و سپید اور جوان رعنا کی صورت میں لوگوں کے سامنے آئے، جب کسی مجمع میں کھڑے ہوتے تو سب سے نمایاں ہوتے، سپہ گری، شہسوار،پہلوانی اور خطابت کی صفات ان کے اندرموجود تھیں۔ مکہ میں جن چند افراد کو پڑھنا لکھنا آتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کا کلمہ بلند کیا تو پورے مکہ میں ایک ہلچل مچ گئی اور قریش کے سرداروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کانوں میں جب یہ نئی آواز پڑی تو آپ رضی اللہ عنہ بھی مضطرب ہوئے اور چاہا کہ اس قصہ کو ختم کردیں لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close