Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بہادر نوجوان

 
   
 
 بہت زمانے کی بات ہے کہ ایک غلام قوم میں ایک بچہ پیدا ہوا جب یہ بچہ جوان ہوا تو اس نے دیکھا کہ برابر والی سلطنت کا بادشاہ زبردستی ان کی قوم سے خراج وصول کرتا ہے کیوں کہ اس کے پاس بہت بڑا لشکر تھا اور وہ بادشاہ ظالم بھی بہت تھا، طاقت کی بنیاد پر وہ اس نوجوان کی قوم سے بہت سی رقم، غلہ اور دوسری چیزیں حاصل کرلیا کرتا تھا، آخر کار اس نوجوان سے رہا نہ گیا اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اس بادشاہ کے آدمیوں کو خراج دینا بند کردو، لوگوں نے جب یہ بات سنی تو نوجوان کا خوب مذاق اڑایا اور کہا کہ ابھی ناتجربہ کار ہے اسے کیا معلوم کہ خراج روک لیا تو بادشاہ ہمارے ملک پر چڑھائی کردے گا اور ہمیں برباد کردے گا، نوجوان نے لاکھ سمجھایا کہ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لیکن لوگ ایک نہ مانے، آخر نوجوان نے خاموشی اختیار کرلی، وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ قوم صرف اس لیے بزدل ہوگئی ہے کہ یہ اپنی طاقت پر بھروسہ کرتی ہے اور طاقت دینے والے خدا پر اس کا اعتماد کمزور ہوچکا ہے لہٰذا اس نے ایک پروگرام بنایا کہ وہ پہلے ان لوگوں کو اس بات پر راضی کرے گا کہ خدا پر ایمان لایا جائے، چنانچہ نوجوان نے اس کام پر اپنی ساری محنت لگادی، وہ لوگوں کو جمع کرکے نصیحتیں کرتا اور سمجھاتا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت صرف اللہ کی طاقت ہے، وہ اگر چاہے تو چیونٹی سے ہاتھی جیسے بھاری بھرکم جانور کو ہلاک کرادے۔
بچو! نوجوان کی محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ آہستہ آہستہ اس کی بات پر یقین کرنے لگے اور اللہ پر ایمان لانے لگے، پھر رفتہ رفتہ ایمان لانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور کچھ ہی سالوں میں ایک بہت بڑی جماعت بن گئی، اب جو ظالم بادشاہ کے آدمی خراج وصول کرنے کے لیے آئے تو اس جماعت نے خراج دینے سے صاف انکار کردیا۔ بادشاہ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اور اس نے دھمکی بھجوادی کہ میں تمہاری قوم سے جنگ کرنے آرہا ہوں تیار ہوجاﺅ، جب نوجوان کی قوم کو جنگ کا پیغام ملا تو وہ گھبرائے لیکن نوجوان نے ہمت بندھائی اور کہا کہ اس وقت تمہارے پاس ایمان کی قوت ہے اور اللہ تمہاری حمایت کرنے والا ہے تم سب جنگ کے لیے تیار ہوجاﺅ، تمام بستی والے جنگ کے لیے تیار ہوگئے جوں ہی اس ظالم بادشاہ نے ان کے ملک میں فوج داخل کرنا چاہی تو انہوں نے اسے للکارا اور مقابلے پر آگئے اور جنگ شروع کردی۔
ظالم بادشاہ کے آدمی اس جنگ کے لیے تیار نہ تھے وہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ بزدل ہیں بھاگ جائیں گے، لیکن جب زبردست حملہ ہوا تو بادشاہ کے آدمی واپس بھاگے لیکن اس قوم نے دور تک ان کا تعاقب کیا، آخر کار ان کے ملک کو فتح کرلیا اور ظالام بادشاہ کو ہلاک کردیا۔
اب یہ نوجوان اپنی قوم کو لے کر آگے بڑھا اور مغربی حصے کو آخری کونے تک فتح کرلیا وہاں بھی ایک کافر قوم آباد تھی، نوجوان نے اس قوم کو بھی اللہ کا پیغام سنایا اور لوگوں کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ لوگ راضی ہوگئے، وہاں مسجد تعمیر کی گئی اور خدا کی عبادت شروع ہوگئی، اس کے بعد یہ نوجوان اپنے لشکر کو لے کر پرچم لہراتا ہوا چین تک چلاگیا، یہاں پہنچا تو کیا دیکھا کہ پہاڑ کے دامن میں ایک غریب قوم آباد ہے، اس قوم نے فریاد کی کہ یہاں یاجوج ماجوج نامی دو ظالم قومیں آباد ہیں جس کے افراد ہر سال ہماری قوم میں آکر لوٹ مار کرتے ہیں، فصلیں تبادہ کردیتے ہیں، غلہ اٹھا کر لے جاتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو قتل کردیتے ہیں، ہمیں ان سے نجات دلادیں، ہم آپ کو بہت سی دولت جمع کرکے پیش کریں گے، نوجوان نے ان کی فریاد سنی تو کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دیا ہے، تم میرے ساتھ مل کر راستے میں ایک پتھر کی دوار قائم کرو، سب سے مل کر دیوار قائم کی، کئی مہینے بعد جب بستی کے چاروقں طرف دیوار بن گئی تو نوجوان نے کہا لوہے کی چادریں لاﺅ اور انہیں خوب آگ میں تپاﺅ، چنانچہ تمام بستی سے لوہے کی چادریں جمع کرکے آگ پر خوب تپائی گئیں یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئیں تو کہا چادریں دیوار پر ڈال دو، وہ ظالم ہرگز اسے نہیں توڑ سکیں گے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، کچھ مہینے کے بعد وہاں ایک بہت بڑی مضبوط دیوار تعمیر ہوگئی تو ظالم یاجوج ماجوج پھر اس قوم کی طرف نہ آسکے۔
بچو! یہ نوجوان اللہ کے بندے اور نبی ذوالقرنین علیہ السلام تھے جنہیں دولت کی پروا نہ تھی بلکہ وہ توحید پرچم بلند کرنے کی غرض سے دور دراز تک علاقوں کو فتح کرتے چلے گئے تھے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close