Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

آخری کلمہ

 
  صبا خان  
 
شتیلہ کیمپ پر آج اسرائیلی طیاروں کی جانب سے ہونے والی یہ تیسری بمباری تھی۔ لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، ان کی چیخ و پکار نے دس ہزار افراد کی آبادی والے کیمپ میں قیامت برپا کردی تھی۔ ہراساں وحشت زدہ مائیں اپنے ننھے منے بچوں کو سینے سے چمائے کسی محفوظ مقام کی تلاش میں تھیں۔ ہر طرف آگ کی بارش ہورہی تھی اور بے شمار جسم خاک و خون میں لتھڑے ہوئے تڑپ رہے تھے۔
اسرائیلی طیارے پانچ منٹ تک تباہی پھیلانے کے بعد چلے گئے اور کچھ دیر کے لیے ہر طرف سناٹا چھاگیا۔ پھر ادھر ادھر سے زخمیوں کی کراہیں بلند ہونے لگیں۔
بارہ سالہ قاسم کیمپ کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا ان بچوں کو ٹک ٹک دیکھے جارہا تھا، جو اپنی مائوں کی آغوش میں کتنے مزے میں تھے، اسے اپنی ماں کی محفوظ اور مہربان آغوش شدت سے یاد آرہی تھی اور وہ چاروں طرف اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے بہت خوفزدہ ہو۔
اسی اثناء میں اس کے دوست عبداللہ کی ماں ادھر سے گزری تو اس کی نظر کونے میں سہم کر اکڑوں بیٹھے ہوئے قاسم پر پڑی اور وہ لمحہ بھر ٹھٹکنے کے بعد بے اختیار قاسم کی طرف دوڑ پڑی۔
اے میرے پاک پروردگار، مجھے معاف کردے۔۔۔۔ میں اس یتیم کو بھول گئی۔۔۔آ۔۔۔۔ قاسم میرے پاس آ۔۔۔ تو بھی تو میرے عبداللہ جیسا ہی ہے، یہ کہہ کر اس نے قاسم کو اپنے بازوئوں کے حلقے میں لے کر بھینچ لیا۔ بے آسرا قاسم کو یوں محبت ملی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔
فلسطینی مہاجرین کی بستی شتیلہ، لبنان سے فلسطینی مجاہدین کے نکلنے کے بعد یہودی فوجیوں کے قبضے میں آگئی تھی اور ان فوجیوں نے شتیکہ کیمپ پر قبضہ کے بعد بستی میں ہر طرح کے امدادی سامان کی آمد پر پابندی عائد کردی تھی، غذا، دودھ، پھل فروٹ، کھانے پینے کی اشیاء غرض یہ کہ وہ ساری چیزیں جو زندہ رہنے کے لیےضروری ہوتی ہیں ان کا داخلہ اس کیمپ میں منع تھا، اس پابندی کو آج بارہ دن ہوچکے تھے۔ کیمپ میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی اور اب بچے، بوڑھے، جوان عورتیں کئی روز سے بھوکے تھے۔ ان کے پیٹ کی پسلیاں باہر کو نکل آئی تھیں، ان کے چہروں پر زردی اور آنکھوں کے گرد سیال حلقے پڑ چکے تھے۔ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے، لیکن زندہ کیسے رہتے۔ ان میں سے کئی ایک دم توڑ چکے تھے، لیکن غذا پہنچنے پر پابندیاں نرم ہونے کے بجائے روز بہ روز سخت ہوتی جارہی تھیں۔
پھر کچھ اور وقت گزر گیا اور بالآخر آسمان نے اس کیمپ میں وہ نظارے دیکھا کہ اگر وہ ستونوں پر قائم ہوا ہوتا تو ضرور ٹوٹ کر گرجاتا۔ بھوک سے بے حال ہو کر لوگوں نے شتیلہ کیمپ کے کتوں اور بلیوں کو مار مار کر کھانا شروع کردیا صیہونی فوجی جب  لوگوں کو کتے یا بلی کے پیچھے بھاگتے دیکھتے تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی، ایک ایسی مسکراہٹ جو قطعی طور پر غیر انسانی تھی اور وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس دیتے یا پھر زمین پرتھوک دیتے، ایسے لمحے ایک دن میں کئی بار آتے۔
رفتہ رفتہ شتیلہ کیمپ میں کتے اور بلیاں بھی ناپید ہونے لگے اور لوگ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے دوسروں کی زندگیوں پر حملہ آور ہونے لگے۔
قاسم کئی روز سے اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کی نظروں کو بدلا ہوا محسوس کررہا تھا۔ ابھی کل ہی جب وہ نقاہت کے باعث نیم بے ہوشی کے عالم میں ایک ٹوٹے ہوئے گھر کے فرش پر پڑا تھا تو سعد اور نور اس کے پاس آکر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی آمد پر جب قاسم نے آنکھیں کھول کر ان کی جانب دیکھا تو فوراً ہی بغیر کچھ کہے بدحواس ہو کر وہاں سے بھاگ نکلے تھے اور قاسم نے اٹھ کر بڑی حیرت سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ قاسم عبداللہ کی ماں کے پاس لیٹا ہوا جاگنے کی کوشش کررہا تھا کہ یکایک اسے عبداللہ کی ماں کی مدہم آواز سنائی دی۔ وہ یاسر کی ماں سے کہہ رہی تھی۔
خدا رحم کرے۔ سنا ہے کچھ لوگوں نے فتویٰ دے دیا ہے کہ اگر زندگی بچانے کے لیے ضروری ہو تو۔۔۔۔، اس کے آگے قاسم کچھ نہ سن سکا کیوں کہ اسی وقت صیہونی فوجیوں نے قریب کی کسی گلی میں زبردست فائرنگ شروع کردی تھی۔ فائرنگ تھوڑی دیر تک جاری رہی اور پھر اس کے بعد ہر طرف مانوس سی خاموشی نے اپنے پر پھیلا دیے۔
قاسم سو چکا تھا۔ عبداللہ کی ماں کچھ دور فرش پر لیٹی ہوئی بھوک کی شدت کے باعث نیم بے ہوشی کے عالم میں ادھر ادھر کروٹیں بدل رہی تھی۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
یکایک چہروں پر نقالب ڈالے ہوئے تین افراد اس ٹوٹے ہوئے گھر کے آنگن میں نمودار ہوئے اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے قاسم کے پاس آگئے۔ ان میں سے ایک شخص نے آگے بڑھ کر قاسم کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھ دیا۔ ہاتھ کا دبائو اتنا شدید تھا فوراً ہی قاسم کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اس ہاتھ کی گرفت سے نکلنے کے لیے جھٹکے کے ساتھ اٹھنا چاہا۔ تبھی وہاں موجود دوسرے دو افراد میں سے ایک نے اس کے دونوں پائوں کسی چیز سے کس کر باندھ دیے اور قاسم بے بس ہو کر رہ گیا۔ تبھی قریب کی کسی گلی میں صیہونیوں نے ایک مرتبہ پھر فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کی آواز سے تھوڑے فاصلے پر لیٹی ہوئی عبداللہ کی ماں یا خدا خیر کہتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ اس نے قریب ہی مدہم سا شور سن کر ادھر توجہ کی اور پل بھر میں سب کچھ سمجھ کر چیختی ہوئی اس سمت دوڑ لیکن اس سے پہلے کہ وہ وہاں پہنچتیدو مضبوط ہاتھوں نے اس کو ایک طرف دھیکیل دیا۔
خدا کے لیے اسے چھوڑ دو ظالمو۔
قاسم نے عبداللہ کی ماں کی آوازیں سن کر ایک مرتبہ پھر اس مضبوط ہاتھ سے نکلنے کی کوشش کی۔ اب تک اس کی سمجھ میں سب کچھ آچکا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے عبداللہ کی ماں نے یاسر کی ماں سے جس فتویٰ کا ذکر سنا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ وہ انسانی گوشت کھانے کے سلسلے میں ہے۔
یکایک قاسم نے اپنے گلے کی نرم کھال پر کسی آلے کی تیز دھار کو محسوس کیا۔۔۔۔۔ اسی وقت آنگن کے کونے میں دو مضبوط بازوئوں کی گرفت میں جکڑی عبداللہ کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی وہ چیخ کر کہہ رہی تھی۔
کلمہ پڑھو میرے لعل۔۔۔۔۔ کلمہ پڑھو۔۔۔۔
اور ننھے قاسم نے دل ہی دل میں کلمہ شہادت پڑھنا شروع کردیا۔
لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close