Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پیغمر کی ماں

 
  ڈاکٹر سید فرحت حسین  
 
قمری سال کا آخری مہینہ حج کا ہے۔ حض حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، اسی لیے حج کے دوران کیے جانے والے بعض ارکان کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کے واقعات سے ہے۔ ان میں حج کے دوران صفاو مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی شامل ہے۔ سعی کے معنی دوڑنا اور کوشش کرنا ہیں۔ اس کا تعلق اس مامتا سے ہے جو ایک ماں کو اپنے بچے سے ہوتی ہے۔
حضرت بی بی ہاجرہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کی اکلوتی اولاد تھے۔ جب وہ پیدا ہوئے تو انتہائی حسین و جمیل اور خوب صورت تھے، آنکھیں روشن اور پرنور۔ بہت دعائوں اور تمنائوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلی اولاد عطا کی تھی اور حضرت ہاجرہ کو ایک پیغمبر کی بیوی کے علاوہ ایک پیغمبر کی ماں ہونے کا شرف عطا کیا تھا۔ باپ انتہائی مسرور تھے اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ماں ان پر جان نچھاور کرتی تھیں ور ان کو دیکھ کر جیتی تھیں۔ پیغبر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بی بی ہاجرہ کو ایک امتحان اور آزمائش سے گزارا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بی بی ہاجرہ اور نومولود اسماعیل کو بیت المقدس سے دور عرب کے ویران ریگستان میں چھوڑ آئیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا، اس لیے اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا فرض تھا۔ انسان ہونے کے ناتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دکھ ہوا۔ مگر اللہ کی رضا کے لیے اپنی خوشیاں قربان کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔ اصل خوشی اللہ کو راضی رکھنا ہے۔ چناں چہ انہوں نے اپنے بیٹے اور بیوی کو ساتھ لیا۔ ماں، بیٹے کو ایک الگ اونٹ پر سوار کرایا، خود دوسرے اونٹ پر بیٹھے اور نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ کئی روز تک سفر کرتے رہے۔ آخر لمبے سفر کے بعد ایک جگہ رک گئے۔ یہ ایک اجاڑ اور ویران ریگستان تھا۔ ماں اور بیٹے کو ایک محفوظ سی جگہ پر بٹھادیا۔ خود کسی سوچ میں ڈوبے رہے۔ آخر حکم الٰہی کے مطابق کچھ دیر کے بعد بیوی بچے کو ریگستان میں تنہا چھوڑ کر وہاں سے واپس چلے آئے۔ یہ ریگستان کوہ صفا و مروہ کے قریب واقع تھا، جہاں تک نظر جاتی تھی نہ کوئی سایہ نہ کوئی درخت۔ دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ وہی جگہ ہے جہاں آج خانہ کعبہ ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کی بات بی بی ہاجرہ کو نہیں بتائی تھی۔ وہ ننھے اسماعیل کو گود میں لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی واپسی کا انتظار کرتی رہیں۔ جب کافی دیر ہوگئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام واپس نہیں آئے تو ان کو بڑی حیرانی ہوئی اور چہرے پر مایوسی اور پریشانی چھانے لگی۔
دن کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ریگستان کی تپش اور سورج کی تیزی نے گرمی کو اور بڑھادیا تھا۔ بی بی ہاجرہ کو پیاس نے ستایا تو انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس کی فکر ہوئی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی وجہ سے بہت بے چین ہورہے تھے اور نڈھال ہوئے جارہے تھے۔ بی بی ہاجرہ اپنی پیاس کو تو کسی نہ کسی طرح برداشت کررہی تھیں، لیکن ننھے بچے کا پیاس سے تڑپنا اور ایڑیا رگڑنا ان کی برداشت سے باہر تھا۔ جب وہ مامتا کی وجہ سے بے قابو ہوگئیں تو خود پانی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں۔ ننھے بچے کو اس لق و دق صحرا میں تنہا چھوڑ کر جانا بھی ماں کو گوارا نہ تھا اور بچے کے لیے پانی کی تلاش بھی ضروری تھی۔ کبھی وہ صفا پہاڑی کی طرف پانی کی تلاش میں جاتیں، لیکن مامتا انہیں بچے کو تنہا چھوڑ دینے پر وسوسوں میں گھیر لیتی تو اسے دیکھنے کے لیے واپس آجاتیں۔ بچے کو پیار سے بے تاب دیکھ کر پھر ہمت کرتیں اور اپنی تلاش کرنے کے لیے مروہ پہاڑی کی طرف چلی جاتیں۔ بچے کی تنہائی کا خیال آتا تو بے چین ہو کر پھر واپس آجاتیں۔ اس طرح بی بی ہاجرہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کی غرض سے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگائے، لیکن انہیں پانی کی تلاش میں کامیابی نہیں ہوئی۔
آخر مامتا کی بے تابی پر قدرت کو رحم آگیا۔ ساتویں مرتبہ جب بی بی ہاجرہ مایوسی اور فکر کے عالم میں بچے کو دیکھنے واپس آئیں تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ننھے اسماعیل پیاس کی شدت سے بے تاب ہو کر جس جگہ ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں اللہ کے حکم اور مہربانی سے صاف شفاف پانی کا چشمہ جاری ہے۔ اس لق و دق صحر میں اتنا صاف اور میٹھا پانی پا کر ماں کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور ان کے دل کو قرار و سکون مل گیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکرا ادا کیا۔ پہلے بچے کو پانی پلایا۔ جب ان کو قرار آگیا اور ان کی پیاس بجھ گئی تو پھر خود بھی سیر ہو کر پانی پیا۔
بی بی ہاجرہ نے پانی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے چاروں طرف مٹی اور پتھر لا کر جمع کر دیے۔ یہ چشمہ آب زم زم کے نام سے آج تک جاری ہے۔ اسی موقع پر بی بی ہاجرہ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز کیے جانے کی خوش خبری دی گئی۔
قدرت کو بچے کے لیے ماں یہ تڑپ اور جدوجہد بہت پسند آئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماں کی اس مامتا کا اعتراف اس طرح کیا گیا کہ اللہ نے اپنے گھر خانہ کعبہ کے طواف کے ساتھ ساتھ صفا و مروہ کے درمیان "سعی" یعنی سات چکر لگانے کو حج کے ارکان میں شامل کیا اور حضرت ہاجرہ کی روایت کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے جو پانی جاری ہوا اسے پاکیزگی عطا کی گئی اور آب زم زم پینے اور اس کا احترام کرنے کو کار ثواب اور وجہ فیص قرار دیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close