Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

اللہ تعالی خوش ہوئے

 
   
 
ہمارے پیاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہمانوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کے لیے اپنے گھر سے کھانا منگواتے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ نہ ہوتا تو مہمان کو کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کے گھر بھیج دیتے۔
ایک دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اپنے گھر سے کھانا منگوایا۔ پتہ چلا گھر میں کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آج ہمارے مہمان کو کون اپنے گھر لے جائے گا۔ اس زمانے میں سب ہی مسلمان غریب تھے۔ اپنے کھانے کو بھی کم ہوتا تھا مگر ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ جھٹ سے بولے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کو میں اپنے گھر لے جائوں گا۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کو ان کے ساتھ کردیا۔ وہ مہمان کو لیے گھر پہنچے اور اندر جا کر بیوی سے کہا: آج میں بہت خوش ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کو اپنے گھر لایا ہوں۔ ان کی بیوی بھی خوش تو ہوئیں مگر کہنے لگیں: لیکن گھر میں کھانا تو بس اتنا ہے کہ بچے کھالیں۔ مہمان کو کیا کھلائیں گے۔ وہ کہنے لگے: ایسا کرو بچوں کو آج بہلا کر باتوں میں لگا کر سلادو۔ کھانا جو کچھ بھی ہے وہ ہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کو کھلائیں گے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہمارے گھر روز روز تھوڑا ہی آتا ہے۔ پھر انہوں نے مہمان کو گھر میں بلالیا۔ بیوی نے بچوں کو بہلا کر سلادیا اور کھانا مہمان کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کان میں کہا: کھانا تھوڑا ہے اگر ہم لوگ بھی کھائیں گے تو مہمان بھوکا رہ جائے گا۔ اگر ہم لوگ نہیں کھائیں گے تو وہ بھی کھانے سے انکار کردےگا۔ کہے گا تم بھی کھائو۔ بیوی نے کہا: پھر کیا کریں۔
وہ بولے۔ ایسا کرنا جب ہم لوگ کھانا کھانے بیٹھیں تو چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اسے بجھادینا۔ پھر ہم جھوٹ موٹ منہ چلاتے رہیں گے۔ مہمان سمجھے گا ہم بھی اس کے ساتھ کھا رہے ہیں۔ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھالے گا۔
ان کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا اور یہ دونوں میاں بیوی اور ان کے بچے بھوکے ہی سوگئے۔ صبح جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہارے رات کے کام سے بہت خوش ہوئے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close