Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ستر گنا نفع

 
   
 
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص دوستوں میں ایک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے داما بھی تھے۔ وہ شروع شروع کے زمانے میں مسلمان ہوئے تھے۔ مسلمان ہونے پر ان کا کافر چچا ان کو بہت تکلیف دیتا تھا مگر آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے تکلیف سہتے تھے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی دولت دی تھی جو وہ اسلام پر خرچ کرتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مدینہ شریف میں اناج ختم ہوگیا۔ لوگوں کا بھوک سے برا حال ہوگیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسرے شہر سے اناج منگوایا۔ جب اناج سے لدے ہوئے اونٹ مدینہ شریف پہنچے تو شہر کے دکان دار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑے دوڑے آئے اور کہا: آپ یہ اناج زیادہ پیسے لے کر ہمارے ہاتھ بیچ دیں۔ ہم اپنی دکانوں پو لوگوں کے ہاتھ بیچ دیں گے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ن پوچھا: آپ لوگ اس اناج پر مجھے کتنا نفع یعنی فائدہ دیں گے۔
دکان دار جانتے تھے کہ آج کل اناج کی بہت کمی ہے۔ ہم اس سودے میں خوب نفع کمائیں گے، کہنے لگے: ہم آپ رضی اللہ عنہ کو دگنا نفع دیں گے (یعنی آپ نے جو اناج دس روپے کا خریدا ہے اس کے ہم بیس روپے دیں گے)۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ لوگ مجھے دگنے پیسے دیں گے تو لوگوں سے تگنے اور چوگنے پیسے لیں گے۔ غریب لوگ اتنا مہنگا کیسے خریدیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ تو چاہتے تھے کہ شہر کے غریب سے غریب آدمی کو بھی اناج مل جائے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے ان دکانداروں سے کہا: آپ مجھے دگنا نفع دے رہے ہیں مگر مجھے اس سے بھی زیادہ نفع مل رہا ہے۔
انہوں نے پوچھا: کتنا۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ستر گنا!
دکان دار کہنے لگے: بھلا ستر گنا نفع کون دے گا۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ۔
آپ رضی اللہ عنہ کا مطلبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں مجھے ستر گنا ثواب دیں گے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ شریف میں اعلان کردیا کہ اناج آگیا ہے جو لوگ خرید نہیں سکتے وہ مفت لے جائیں۔
غریب لوگ آئے اور اناج لے کر آپ رضی اللہ عنہ کو دعائیں دیتے ہوئے گئے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close