Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

رعایا کی خدمت

 
   
 
بچو! تم نے پڑھا ہوگا کہ بادشاہ اور حاکم اپنے سارے کام اپنے نوکروں سے کراتے ہیں، خود آرام کرتے ہیں۔ مگر مسلمان حاکم ایسے نہیں ہوتے۔ وہ خود کام کرکے رعایا کو آرام پہنچاتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ بھی۔ ہم تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خاص صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قصہ سناتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ شریف کی گلیوں میں چکر لگا کر یہ دیکھا کرتے تھے کہ کسی گھر میں کوئی تکلیف تو نہیں۔ ایک بار وہ چکر لگا رہے تھے کہ ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز آئی۔ وہ اجازت لے کر گھر کے اندر گئے اور بچوں کی ماں سے پوچھا: یہ بچے کیوں رو رہے ہیں۔
بچوں کی ماں نے جواب دیا: بھوک کے مارے رو رہے ہیں۔
انہوں نے پوچھا: تم نے دن ہی سے کھانا پکا ر انہیں کیوں نہیں کھلایا۔
وہ بولی: آج میرے گھر میں پکانے کو کچھ نہیں تھا۔
انہوں نے پوچھا: مگر چولہے پر ہانڈی تو چڑھی ہوئی ہے۔
اس نےجواب دیا: ہانڈی تو میں نے بچوں کو بہلانے کو چولہے پر رکھ دی ہے۔ اس میں پانی کے سوا کچھ نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المال آئے جہاں غریبوں کی مدد کے لیے سامان رکھا رہتا تھا۔ وہاں سے کھانے پینے کا سامان لیا اور اٹھا کر چلنے لگا۔
بیت المال کے نوکر نے کہا: لائیے یہ سامان میں اٹھا کر چلوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دنیا میں تو میرا بوجھ اٹھا لوگے، آخرت میں کیسے اٹھائو گے۔ مطلب یہ تھا کہ رعایا کی خدمت کرنا میرا کام ہے۔ یہ میں خود کروں گا۔
ٌپھر آپ رضی اللہ عنہ جلدی جلدی اس عورت کے گھر پہنچے۔ اسے کھانے کا سامان دیا۔ چولہے کی آگ دھیمی ہوگئی تھی۔ پھونکیں مار مار کر تیز کی۔ جب عورت نے کھانا پکا کر بچوں کو کھلادیا تب آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس آئے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close