Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری

 
   
 
 جو آدمی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اسے بہادر کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت بہادر تھے۔ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے۔جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف چھوڑ کر مدینہ شریف جارہے تھے، اس رات کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کو گھیر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتے میں قتل کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں سے نہیں ڈرے۔ قرآن شریف پڑھتے ہوئے باہر آگئے۔ کافروں کو اللہ کے حکم سے نیند آگئی۔ وہ آپ کو جاتے ہوئے دیکھ ہی نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچالیا۔ سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی عللہ عنہ کے ساتھ ایک غار میں پناہ لی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار سے نکل کر مدینہ شریف کے راستے پر جارہے تھے تو ایک کافر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا۔ وہ گھوڑا دوڑا کر آگے بڑھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دشمن تو بالکل پاس آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا نہ ڈرے، فرمایا، فکر نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دشمن کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا۔ پھر اٹھا تو پائوں زمین میں دھنس گئے۔ وہ کافر سمجھ گیا کہ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہیں۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہا ہے۔ وہ کافر کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچالیا۔
ایک بار مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہورہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے میدان میں ایک طرف پیٹر کے نیچے لیٹے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی۔ ایک کافر ادھر آنکلا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پیٹر سے اتاری اور بولا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا نہ ڈرے۔ فرمایا: اللہ!
کافر اللہ کا نام سن کر خود ڈر گیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچالیا۔
بچو! تم بھی اللہ پر بھروسہ کرو اور بہادر بنو تو تمہارا بھی کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔
 
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close