Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > اسلامی کہانیاں
عظمت کے مینار
بابرکت بچہ
غار والوں کی...
نیکی
چڑیا بی کے بچے
حقیقی خواب
بادشاہ کا...
کارنامے...
آخری قیمت
سونے کا تاج
رسول پاک صلی...
جنگی چال
عظمت کے مینار
تاریخ کے...
پانی دیکھ کر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک

 
   
 
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا مہربان، بے پناہ شفیق، بے حد مخلص اور مسلمانوں پر تو تھے ہی تھے لیکن کافروں پر بھی بے پناہ رحیم و کریم شخص تھے۔ یہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا باطنی سخن و جمال تھا مگر ظاہری طور پر بھی ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے پناہ حسن والے انسان تھے۔
اللہ تعالیٰ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی درجے کے حسن و جمال سے نوازا تھا، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے زیادہ حسین و جمیل تھے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص، کوئی ذی روح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حسن و جمال کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس خوبصورتی اور محبت کے ساتھ بغیر کسی مبالغہ آرائی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کو بیان کیا ہے وہ رہتی دنیا تک ہماری کتب احادیث میں محفوظ رہے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال اور ان کے حلیہ مبارک کے متعلق چند روایات یہ ہیں۔
حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا کے خیمے پر سے ہجرت کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے بعد ان صحابیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک اس طرح بتایا کہ چمکتا ہوا رنگ، تابناک چہرہ، خوبصورت ساخت جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر، سرمگیں آنکھیں، لمبی پلکیں، باریک اور باتم مل ہوئے ابرو (بھویں)، بھاری آواز، لمبی گردن، سفید و سیاہ آنکھیں، سیاہ سرمگیں پلکیں، چمک دار کالے بال، خاموش ہوں تو باوقار، بات کریں تو پرکشش، دور سے دیکھنے میں سب سے زیادہ تابناک و پرجمال، قریب ہوں تو سب سے زیادہ خوبصورت اور شیریں گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دو ٹوک، نہ مختصر نہ فضول، اندازایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں، درمیانہ قد، نہ ناٹک نگاہ میں نہ جچے نہ لمبا کہ ناگوار لگے، دو شاخوں کے درمیان اس شاخ کی طرح جو سب سے زیادہ تروتازہ اور خوش منظر ہو، رفقاءاور ساتھی آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے کچھ کہیں تو غور سے سنتے ہیں کوئی حکم دیں تو لپک کر بجالات ہیں، مطاع و مکرم، نہ ترش رو نہ لغو گو۔
ایک حدیث جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر بڑا تھا، جوڑوں کی ہڈیاں بھاری بھاری تھیں،سینے پر بالوں کی لمبی لکیر تھی، جب نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو قدرے جھک کر چلتے گویا کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہوں۔
ایک اور روایتی جو کہ ابوطفیل کی ہے فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم گورے رنگ، پرملاحت چہرے اور میانہ قدو قامت کے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آپ کا دہانہ کشادہ تھا، آنکھیں ہلکی سرخی لیے ہوئے اور ایڑھیاں مبارک باریک تھیں۔
حضرت ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں کشادہ تھی، رنگ چمک دار، نہ خالص سفید نہ گندم گوں، وفات کے وقت تک سر اور چہرے کے بیس بال بھی سفید نہ ہوئے تھے صرف کنپٹی کے چند بالوں میں سفیدی تھی اور چند بال سر کے سفید تھے۔
حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیکر مبارک درمیانہ تھا، دونوں کاندھوں کے درمیان دوری تھی، بال دونوںکانوں کی لو تک آتے تھے، میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ (دھاری دار) جوڑا زیب تن کیے ہوئے دیکھا کبھی کوئی چیز ان سے زیادہ حسین نہ دیکھی۔
اسی طرح ایک اور روایت میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سب سے زیادہ بہتر تھے ان سے دریافت کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار جیسا تھا،انہوں نے کہا: نہیں بلکہ چاند اور سورج جیسا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ گولائی لیے ہوئے تھا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے ایک مرتبہ چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سرخ دھاریوں والا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا،میں کبھی چاندکو دیکھتا اور کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو چہرہ مبارک دمک اٹھتا تھا گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوتے تو چہرہ انور سرخ ہوجاتا گویا دونوں رخساروں میں دانہ انار نچوڑ دیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حسن و جمال تھا جو چند روایات میں بیان ہوا ہمیں پڑھنے میں اتنا زیادہ حسن و جمال معلوم ہوتا ہے تو اصل میں دیکھنے والوں کی کیا شان ہوگی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لمس یعنی ان کا چھونا ان کے جسم کی نرمی حریر و ریشم سے بھی زیادہ نرم تھی اور ان کے پسینے کی خوشبو مشک و عنبر کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ اور بہترین تھی۔
حضرت صحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ لے کر اپنے چہرہ پر رکھا تو وہ مشک سے زیادہ خوشبودار تھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا۔
یہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیکر مبارک تھا اتنے زیادہ خوبصورت تھے مگر پھر بھی بے انتہا تواضع کرنے والے انسان تھے، سب سے زیادہ منکسر المزاج، سب سے زیادہ عاجزی بھی ان میں موجود تھی، چال میں بھی انکساری تھی کہ جھک کر چلتے تھے اور پھر بھی غرور و تکبر سے بالکل پاک و صاف اورگناہوں اور خطاﺅں سے بالکل معصوم بے انتہا شفیق ذات صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔
اللہ ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت و عقیدت رکھنے والا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے والا بنائے۔ آمین
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close