Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > طنزومزاح
الٹی ہوگئیں...
بھیا کا روزہ
اور ہم نے کار...
ہدی خان ہیکڑ
مجھے میرے...
شاعر کا انعام
بادشاہ سلامت...
منشی منقی نے...
ملا جی کے...
نانی ٹخو
ٹنکو میاں نے...
ہمارے پڑوسی
دلشاد خان...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بھیا کا روزہ

 
   
 
ڈز کی آواز سے سلیم بھیا چونک پڑے۔
کم بخت اتنے پٹاخے چلارہے ہیں جیسے ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کل پہلا روزہ ہے۔
اچھا تو بھائی جان! آپ کو معلوم ہے کہ کل پہلا روزہ ہے۔ باجی ثریا نے شرارت کے لہجے میں کہا۔
لو! یہ بھی کوئی بھولنے کی بات ہے۔ بھیا بولے۔
لیکن بھیا! آپ تو ہر سال بھول جاتے ہیں۔ طاہر بولا۔
کیسے؟
پورے تیس کے تیس روزے رکھ کر۔ نجمہ مسکراتے ہوئے بولی۔
اوں! یہ بات ہے.... تم سب بہن بھائی مل کر میرا مذاق اڑارہے ہو.... لیکن میں تم کو بتائے دیتا ہوں کہ اب کی دفعہ میں تیس کے اکتیس روزے نہ رکھوں تو میرا نام سلیم نہیں۔
بھائی جان! نجمہ بولی۔ تو اب کی دفعہ آپ عید کے دن بھی روزہ رکھیں گے؟
اس پر ہم سب مسکرا پڑے اور بھیا کھسیانے ہو کر باہر نکل گئے۔
سحری کے وقت ہم سب بھیا کو جگانے گئے تو معلوم ہوا کہ بھیا نے سحری کھالی ہے.... امی سے پوچھا تو وہ بولیں۔ سلیم کو جگایا تو تھا۔ سحری بھی کھاچکا ہے۔ لیکن کہتا تھا کہ پرویز، طاہر، نجمہ اور ثریا کو صرف یہی ہی بتایا کہ سلیم نے سحری نہیں کھائی۔ وہ آٹھ پہر کا روزہ رکھے گا۔
صبح سات بجے کے قریب ہم مولوی صاحب سے قرآن مجید کا سبق پڑھ رہے تھے کہ بھیا سلیم بھی منہ لٹکائے اندر داخل ہوئے۔
سلیم میاں روزہ رکھا ہے؟ مولوی صاحب نے بھیا سے پوچھا۔
ہاں! رکھا تو ہے.... لیکن آٹھ پہر کا طاہر نے مولوی صاحب کی بات کا جواب دیا۔
کیوں؟
تاکہ تیس روزے پندرہ دنوں میں پورے ہوجائیں۔ نجمہ مسکراتے ہوئے بولی۔
مولوی صاحب نے قہقہہ لگایا اور بھیا چیخ کر بولے۔
مولوی صاحب آپ بھی ان کے ساتھ مل کر میرا مذاق اڑارہے ہیں۔ میں روزے سے ہوں۔ نہیں تو ان کو بتادیتا۔ اتنا کہہ کر بھیا باہر نکل گئے۔
مولوی صاحب کے جانے کے بعد نجمہ بولی۔ مجھے تو بھیا کے روزے پر کچھ شک معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے اس کی تائید کی۔
لیکن یہ کیسے معلوم ہو کر بھیا روزے سے ہیں۔ میں بولا۔
وہ ترکیب نہ کریں؟ طاہر بولا۔
کونسی؟ باجی بولیں۔
وہی جو پچھلے سال آپ سے کی تھی۔
ٹھیک ہے۔ نجمہ بولی اور ہم بازار کی طرف چل دیے۔
یہ پھل اور مٹھائی کہاں سے آئے ہیں میرے کمرے میں؟ بھیا کمرے میں داخل ہو کر بولے۔
آپ کے دوست حمید دے گئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ ہم ابھی آتے ہیں۔ میں بولا۔
بہتر اب تم جاﺅ۔ حمید آئیں تو انہیں اندر بھیج دینا۔
دروازہ کھولو سلیم! طاہر اپنی آواز بدلتے ہوئے بولا۔
کون ہے؟ بھیا اندر سے بولے۔
میں ہوں حمید۔
اچھا حمید! تم آگئے؟ ذرا آہستہ بولو بھائی! میں دروازہ کھولے دیتا ہوں۔ ادھر ادھر دیکھو کہیں کوئی چھپا تو نہیں!
کوئی نہیں۔ دروازہ کھولو۔
دروازہ کھلتے ہی ہم سب اندر گھس گئے۔ بھیا کی طرف دیکھا تو وہ منہ میں لڈو رکھے منہ بند کیے کھڑے تھے۔
کیا ہورہا تھا بھائی جان! طاہر بولا۔
کچھ نہیں! لڈو کھارہے تھے۔ باجی بولیں۔
نہیں! نجمہ بولی۔ میں بتاتی ہوں۔ بھیا روزے کو دو حصوں میں تقسیم کررہے تھے۔
وہ کیوں؟ میں بولا۔
تاکہ تیس روزے پندرہ دنوں میں پورے ہوجائیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close