Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > طنزومزاح
الٹی ہوگئیں...
بھیا کا روزہ
اور ہم نے کار...
ہدی خان ہیکڑ
مجھے میرے...
شاعر کا انعام
بادشاہ سلامت...
منشی منقی نے...
ملا جی کے...
نانی ٹخو
ٹنکو میاں نے...
ہمارے پڑوسی
دلشاد خان...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

شاعر کا انعام

 
   
 
عرب کے لوگ اپنی زبان دانی کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ قدیم زمانے میں وہاں کے رئیس، جاگیردار، نواب بلکہ بادشاہ تک اہل علم پر عموماً اور شاعروں پر خصوصاً مہربان رہا کرتے تھے۔ بڑے بڑے نامی شاعر جس دربار میں جمع ہوتے، سب پر وہی شخص غالب رہتا، یہی سبب ہے کہ اکثر انعام و اکرام سے مالا مال رکھتے، بلکہ قدر دانی کی یہ نوبت پہنچ گئی تھی کہ بعض وقت قصیدہ تو درکنار، چند اشعار کہنے پر دس دس بیس بیس ہزار اشرفیاں انعام دیتے، بلکہ بعض دفعہ ایک ایک مصرع پر ہزاروں اشرفیاں نثار کر ڈالتے تھے۔
ایک بخیل شہزادے نے اپنے باپ دادا کے دستور کے خلاف شاعروں کو انعام دینا بند کردیا۔ خدا نے اس کو ایسا تیز حافظہ عطا کیا تھا کہ جس شعر کو ایک دفعہ سن لیتا فوراً یاد ہوجاتا۔ اس کے ہاں ایک غلام تھا جو شعروں کو دو بار سن کر لفظ بہ لفظ یاد کرلیتا اور ایک لونڈی تھی جو تین بار سن کر اشعار کو ازبر کرلیتی تھی۔
جب کوئی شاعر اس کی تعریف میں قصیدہ کہہ کر لاتا تو شہزادہ اس سے کہتا اگر تمہارے اشعار ایسے ہوئے کہ آگے کسی سے نہ سنے ہوں تو ہم تو کر اس چیز کے ہم وزن سونا دیں گے جس پر تم قصیدہ لکھ کر پیش کرو گے۔ شاعر دل میں خوش ہو کر اس شرط کو قبول کرلیتا اور شعر پڑھنے شروع کرتا، جب وہ قصیدہ ختم کرچکتا تو شہزادہ کہتا کہ یہ اشعار تو میرے سنے ہوئے ہیں اور خود اول سے آخر تک پڑھ کر سنا دیتا۔ پھر کہتا کہ یہ اشعار صرف مجھ کو ہی یاد نہیں بلکہ میرے اس غلام کو بھی یاد ہیں۔ چوں کہ غلام دو بار سن چکا تھا، اس لیے اس کو یاد ہوجاتے تھے۔ وہ فوراً اشارہ پاتے ہی تمام قصیدہ دہرادیتا، پھر لونڈی کو بلا کر کہتا کہ خوب یاد آیا، یہ تمام اشعار تو اس ہماری کنیز کو بھی یاد ہیں۔ چوں کہ وہ تین بار سن چکتی اور از بر کیے ہوتی تھی، فوراً فر فر سنادیتی تھی۔ یہ دیکھ کر شاعر بے چارہ اپنا سا منہ لے کر خالی ہاتھ واپس چلا جاتا تھا۔
رفتہ رفتہ تمام ملک میں اس بات کا چرچا ہونے لگا، اس زمانے میں اصمعی ایک مشہور شاعر تھا، اس نے اس دلچسپ قصے کو سنا تو فوراً اصل حقیقت کو بھانپ گیا اور پکا ارادہ کرلیا کہ اس شہزادے کو اس کی نامعقول حرکت کا مزہ چکھانا ضروری ہے۔ یہ سوچ کر اس نے ایک نظم لکھی جس میں چھانٹ چھانٹ کر مشکل الفاظ بھردیے، پھر بدوﺅں کا سا بھیس بھرا اور سارا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ صرف آنکھیں کھلی رکھیںَ
اس طرح کا روپ بھر کر شاہی محل کی طرف چلا اور اجازت لے کر اندر گیا۔ اور جاتے ہی شہزادے کو سلام کیا۔ شہزادے نے پوچھا۔ تم کون ہو۔ کہاں سے آئے ہو اور یہاں کیوں تشریف لائے ہو؟
اصمعی نے ادب سے جواب دیا: حضور کے اقبال دونے۔ میں اپنی قوم کا نامور شاعر ہوں۔ آپ کی تعریف میں چند اشعار کہہ کر لایا ہوں۔
شہزادہ بولا: تم نے میری شرط بھی سنی ہے؟
شاعر نے عرض کیا: نہیں حضور۔ فرمائیے وہ شرط کیا ہے؟
شہزادے نے کہا: اگر ہمیں ثابت ہوگیا کہ یہ اشعار تمہاری ہی تصنیف ہیں اور اس سے پہلے کسی اور نے نہیں سنے تو تم کو اس چیز کے ہم وزن اشرفیاں انعام میں دوں گا، جس پر تم اشعار لکھ کر لائے ہو۔
بھلا حضور‘ یہ کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے سامنے جھوٹ بولوں۔ مجھے جناب کی شرف دل و جان سے منظور ہے۔
شہزادے نے حکم دیا: اچھا اشعار سناﺅ۔
اصمعی نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا اور اول سے آخر تک ختم کردیا۔ اس میں تمام کے تمام مشکل الفاظ بھرے ہوئے تھے۔ شہزادہ عالم فاضل تو تھا نہیں۔ ان الفاظ کو نہ سمجھ سکا، اس لیے ایک شعر بھی یاد نہ کرسکا اور منہ تکتا رہ گیا۔ آخر حیران ہو کر غلام کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں بھی کیا رکھا تھا۔ صاف جواب ملا اور لونڈی بھی خاموش رہ گئی۔ آخر مجبوراً اصمعی سے بولا: اے بھائی! بے شک یہ اشعار آپ ہی کی تصنیف ہیں۔ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں سنے۔ کہیے آپ نے یہ شعر کس چیز پر لکھے ہیں تاکہ اپنی شرط کے مطابق اس کے ہم وزن اشرفیاں تول کر انعام دوں۔
اصمعی نے جواب دیا: حضور! اپنے کسی خادم کو حکم دیں کہ وہ اس چیز کو اٹھالائے۔
شہزادے نے پوچھا: وہ کیا چیز ہے۔ کیا تم نے کسی کاغذ پر نہیں لکھے؟
عالی جاہ۔ میں نے یہ اشعار کاغذ پر نہیں لکھے، جب میں نے یہ نظم تصنیف کی تھی، مجھے کوئی کاغذ نہیں مل سکا تھا جو اس پر لکھا، میرا باپ اپنی جائیداد میں ایک سنگ مرمر کا تختہ چھوڑ گیا تھا، اس وقت وہی سامنے موجود تھا، اسی پر کندہ کردیے تھے اور اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر اونٹ کی پیٹھ پر لاد کر لایا ہوں اور اس وقت محل کے صحن میں رکھا ہے۔ مہربانی فرما کر خادم کو حکم دیں کہ وہ جا کر اٹھالائے، میں اکیلا نہیں اٹھاسکتا۔
شہزادہ یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا، مگر اب کیا کرسکتا تھا، آخر شرط کے مطابق اس پتھر کے ہم وزن اشرفیاں دینی پڑیں۔ اس کا تقریباً تمام خزانہ خالی ہوگیا تھا، اس نے آئندہ اپنی بدعادت سے توبہ کی کہ ایسا نہ ہو، کوئی اور شاعر ایسا ہی جل دے، پھر اس نے حسب دستور شب شعرا کو انعام و اکرام دینا شروع کردیا۔ پورے ملک میں اس کی تعریف ہونے لگی اور آخر کار اس کو معلوم ہوگیا کہ جو کچھ اصمعی نے کہا وہ صرف اس کی بیدار مغزی کا نتیجہ تھا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close