Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > طنزومزاح
الٹی ہوگئیں...
بھیا کا روزہ
اور ہم نے کار...
ہدی خان ہیکڑ
مجھے میرے...
شاعر کا انعام
بادشاہ سلامت...
منشی منقی نے...
ملا جی کے...
نانی ٹخو
ٹنکو میاں نے...
ہمارے پڑوسی
دلشاد خان...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

منشی منقی نے شیر مارا

 
   
 
منشی منقی تھے تو ڈیڑھ پسلی کے، دھان پان انسان کہ پھونک مارو تو ہوا میں کٹی ہوئی پتنگ کی طرح لہرائیں لیکن اکڑ باز اتنے کہ رستم زماں گاماں پہلوان سے بھی کشتی لڑنے کو تیار،شیخ چلی فوجی اور اسپین کے ڈان کیو ہوٹے کی تو کہانیاں ہی پڑھی تھیں لیکن منشی منقی کا سا شیخی باز جیتا جاگتا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ شاید کبھی دیکھنا نصیب ہو۔
اب یہ تو خدا ہی کو پتا ہوگا کہ منشی جی کس نسل اور کس ذات کے تھے لیکن وہ خود اپنے آپ کو مغل بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ دنیا میں صرف دو ہی آدمی ایسے رہ گئے ہیں جن کی رگوں میں مغلوں کا خالص خون دوڑ رہا ہے، ایک تو قصبہ فتح پور کے جاگیردار نواز مرزا جہاں دار اور دوسرے خود منشی منقی، نواب صاحب خاندان مغلیہ کا آخر چراغ کہلاتے تھے اس لیے لوگوں نے منشی منقی کا لقب خاندان مغلیہ کی آخری موم بتی رکھ دیا تھا۔
منشی صاحب کا اصل نام تو کچھ اور تھا لیکن وہ قصبے بھر میں منشی منقی کے نام سے مشہور تھے شاید اس لیے کہ ان کی شکل منقی سے ملتی جلتی تھی، یا پھر یہ ان کی چڑ تھی، وہ محکمہ جنگلات میں منشی تھے اور میرے چچا جان کے ماتحت، لیکن منشی جی سے ہمارے خاندار کے بہت پرانے تعلقات تھے، اس لیے ان دونوں میں افسری اور ماتحتی کی کوئی تمیز نہ تھی، منشی جی اتوار کے اتوار ہمارے گھر آتے، بیٹھک میں محفل جمتی، چائے پانی چلتا اور ساتھ ہی منشی جی کی زبان ایسے فراٹے بھرتی کہ رکنے کا نام نہ لیتی، وہ اپنے خاندار کی جرات اور دلیری کے وہ وہ کارنامے سناتے کہ سننے والوں کی عقل چکرا کر رہ جاتی۔
ایک ایسی ہی محفل میں، ایک دن، منسی جی مغلوں کی بہادری اور شجاعت کی داستانیں سنا رہے تھے کہ ایک دم جلال میں آگئے اور بولے، ارے میاں، بابر کے ساتھ میرے دادا کے دادا کے دادا نہ ہوتے تو پانی پت کے میدان میں اسے ابراہیم لودھی کے مقابلے میں ہرگز فتح نہ ہوتی۔
وہ کیسے منشی جی، چچا جان نے پوچھا۔
وہ ایسے منشی جی بولے، کہ جوں ہی ابراہیم لودھی کی فوج نے مغل فوج پر حملہ کیا، میرے دادا کے دادا کے دادا نے ایک دم مشین گن کا فائر کھول دیا اور پلک جھپکتے میں لودھی کی فوج کے دس ہزار جوانوں کو بھون کر رکھ دیا۔
میں اس وقت ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ بابر کے زمانے میں توپ تو ایجاد ہوچکی تھی اور انہی توپوں کی مدد سے اس نے صرف بارہ ہزار فوج سے ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ فوج کو شکست دی تھی، لیکن مشین گن ایجاد نہیں ہوئی تھی، چچا جان اور ان کے دوست تو خاموش رہے مگر میں بول پڑا۔
لیکن منشی جی، اس وقت مشین گن تھی کہاں، مشین گن تو امریکا کے ایک شخص گیٹلنگ نے 1861ء میں ایجاد کی تھی اور بابر اس سے تین سو سال پہلے ہی مرگیا تھا۔
منشی منقی نے مجھے گھور کر دیکھا، اپنی کچیا ڈاڑھی سہلائی اور پھر آنکھیں نکال کر بولے، لاحول والا قوۃ، تو تمہیں یہ پڑھایا جاتا ہے اسکول میں، ارے میاں، اسی لیے تو ہماری قوم نے ترقی نہیں کی لو جی، یہ چھوکرے سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جتنی ایجادیں ہوئی ہیں وہ سب امریکا، یورپ والوں نے کی ہیں، ہم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ ارے برخوردار، امریکا اور یورپ نے جو چیزیں آج ایجاد کی ہیں وہ ہمارے باپ دادا نے سیکڑوں برس پہلے بنالی تھیں۔ لو بھلا، یہ صاحب زادرے کہتے ہیں کہ اس زمانے میں مشین گن نہیں تھی، ارے میاں، اس زمانے میں تو ہوائی جہاز بھی تھے اور بھاپ سے چلنے والے بحری جہاز بھی جو سمندروں کی چھاتی پر مونگ دلتے پھرتے تھے، تم نے الف لیلہ کی کہانیوں میں اڑن قالینوں اور اڑن کھٹولوں کے متعلق نہیں پڑھا ہے، یہ اڑن کھٹولے کیا تھے، یہ ہوائی جہاز تھے اور ان میں جٹ انجن لگے تھے، لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے انہیں جادو کی چیزیں سمجھتے ہیں اور سنو، علامہ اقبال نے کہا ہے۔
دشت تو دشت ہیں دریاب بھی نہ چھوڑے ہم
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
اب بتائو کہیں بحر یعنی سمندر میں گوڑے دوڑ سکتے ہیں، اقبال جیسا لائق شاعر ایسی بات ہرگز نہیں کرسکا اصل میں اس سے مراد بھاپ سے چلنے والے جہاز ہیں، جہاز۔ کیا سمجھے۔
چچا جان نے ہنسی روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ ان کے ہونٹوں کا بند توڑ کر نکل ہی گئی، دوسرے لوگ بھی ہنسنے لگے، میں نے مسکرا کر گردن جھکالی۔
تو یہ تھے منشی منقی اور یہ تھیں ان کے مزے دار باتیں اب سنیے، انہی دنوں ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے آس پاس کی ساری بستیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، ہمارے قصبے سے چار پانچ میل پرے جنگل شروع ہوجاتا تھا اور اس کے اردگرد بہت سے چھوٹے موٹے گائوں آباد تھے، اس جنگل میں خدا جانے کہاں سے ایک بھوکا ننگا شیر آگیا اور لگا گائوں والوں کے ڈھور ڈنگروں پر ہاتھ صاف کرنے۔ کسان ڈر کے مارے،سر شام ہی ڈنگروں کو لے کر گھر لوٹ آتے تھے اور بڑے سے بڑا جی دار جوان بھی رات کو باہر نکلنے کی جرات نہ کرتا تھا۔
جب شیر کسانوں کی بہت سی بھیڑ بکریاں اور گائیں ہڑپ کرگیا تو انہوں نے دہائی مچادی اور ہوتے ہوتے یہ خبر علاقے کے ڈپٹی کمشنر تک پہنچی، انہوں نے چچا جان کو حکم دیا کہ ہفتے کے اندر اندر اس خبیث شیر کو زندہ یا مردہ ہماری خدمت میں پیش کیا جائے۔
یہ سن کر چچا جان کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی، انہوں نے کبھی خواب میں شیر کا شکار نہ کیا تھا، عمر بھر تیتر بٹیر یا زیادہ سے زیادہ خرگوش مارے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ ان کے پاس وہ بندوق تھی ہی نہیں جس سے شیر کا شکار کیا جاتا ہے، وہ بہت گھبرائے اور فوراً اپنے دوستوں کی میٹنگ بلائی،اس میٹنگ میں منشی منقی بھی تھے۔
منشی صاحب نے چچا جان کی باتیں بڑے غور سے سنیں اور پھر کہا کہ جنگل میں جگہ جگہ پھندے یا جال لگادیے جائیں اور جب شیر کسی پھندے میں پھنس جائے تو اسے بوری میں بند کرکے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بھیج دیا جائے، منشی جی نے بڑی سنجیدگی سے بتایا کہ ملکہ نور جہاں کے پہلے شوہر، شیرفگن نے اسی ترکیب سے شیر مارا تھا اور یہ ترکیب اسے منشی جی نکے کسی دادا نے بتائی تھی، ترکیب تھی تو ٹھیک لیکن اس کے لیے بہت سے جالوں اور پھندوں کی ضرورت پڑتی اور پھر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ شیر کو بوری میں کون بند کتا، اس لیے چچا جان اور ان کے دوستوں نے منشی جی کی یہ ترکیب رد کردی۔
جب منشی جی چلے گئے تو چچا جان نے دوستوں سے صلاح کی اور آخر طے یہ ہوا کہ ہم جنگل میں ضرور جائیں گے، درختوں پر مچان بھی بنائیں گےلیکن شیر ہرگز نہیں ماریں گے کیوں کہ وہ ہم سے نہیں مرے گا، بس دو تین دن یوں ہی مچانوں پر بیٹھ کر واپس آجائیں گے اور ڈپٹی صاحب سے کہہ دیں گے کہ جناب، یہ موذی شیر ہمارے بس کی بات نہیں، اسے مارنے کے لیے تو کینتھ اینڈرسن اور جم کاربٹ جیسے تجربہ کار شکاریوں کی ضرورت ہے، لہٰذا انہیں تار دے کر انگلستان سے بلوالیا جائے۔
یہ فیصلہ کرکے سب نے اطمیمان کی سانس لی اور دوسرے دن صبح کو، بوریا بستر باندھ کر جنگل کی طرف روانہ ہوگئے، میری چھٹیاں تھی، میں نے چچا جان کی خوشامد کی کہ مجھے بھی لیے چلیے، پہلے تو انہوں نے انکار کیا لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ہمیں کون سا سچ مچ کا شکار کرنا ہے، مان گئے، برسات کا موسم تھا اس لیے منشی منقی نے اپنی چھتری، جس پر بھیانک رنگ کا کالا سیاہ کپڑا چڑھا ہوا تھا، ساتھ لے لی۔
ایک گھنٹے بعد ہم لوگ جنگل کے قریب ایک گائوںمیں پہنچے، چچا جان نے دیہاتیوں کو بتایا کہ اب ہم آگئے ہیں اورانشاء اللہ شیر کو مار کر ہی واپس جائیں گے، لہٰذا فکر کی کوئی بات نہیں، بس تم اتنا کرو کہ ہمیں تین چار ہٹے کٹے جوان دے دو جو جنگل میں جا کر ہمارے لیے مچان بنادیں اور ایک موٹا تازہ بکرا بھی لادو تاکہ شیر اس کی بو سنگھ کر مچانوں تک آجائے اور ہم اسے ڈز سے گولی ماردیں، ایک دیہاتی نے بتایا کہ اس نے شیر کو کل رات جنگل میں برساتی نالے کے پاس ٹہلتے ہوئے دیکھا تھا اور وہ وہیں کہیں چھپا بیٹھا ہوگا لہٰذا اسی جگہ مچان بنائے جائیں۔
دیہاتی ہماری پارٹی کو جنگل میں اس جگہ لے گئے جہاں برساتی نالا تھا۔ اس نالے کے کنارے دو اونچے اونچے درخت تھے، انہی درختوں پر انہوں نے ہمارے لیے مچان بنادیے۔
منشی جی کی رائے تھی کہ بکرے کو باندھا نہ جائے کھلا چھوڑ دیا جائے، وہ جنگل میں گھومتا پھرے اور شیر اس کی طرف لپکے تو وہ دوڑ کر مچان تک آجائے اور ہم شیر کو گولی ماردیں لیکن افسوس چچا جان نے منشی جی کی یہ تجویز بھی نہیں مانی، کیوں کہ اس کے لیے بکرے کو ٹریننگ دینے کی ضرورت تھی اور اس ٹریننگ میں سال چھ مہینے لگ جاتے۔
خیر صاحب، بکرے کو ایک جھاڑی سے باندھ دیا گیا اور سب لوگ کھانا کھا کر مچانوں پر چڑھ کر بیٹھ گئے، چاندنی رات تھی، ہر چیز صاف نظر آرہی تھی،شمال کی طرف مچان پر چچا جان، ان کا ایک دوست اور میں بیٹھا تھا اور جنوب کی طرف والے مچان پرمنشی منقی اور ایک صاحب براجمان تھے، اسی مچان کے پاس بکرا بندھا ممیا رہا تھا۔
میرے خیال میں دس گیارہ کا وقت ہوگا کہ بکرا زور سے ممیایا، ساتھ ہی قریب کی ایک  جھاڑی میں سرسراہٹ ہوئی۔ پھر جھاڑی میں سے کسی جانور کا سر نکلا، اس کے بعد دھڑ اور پھر دم، یہ شیر تھا، میری روح فنا ہوگئی، ڈرتے ڈرتے چچا جان اور ان کے دوست کی طرف دیکھا ان دونوں کی حالت بھی غیر تھی۔
شیر آہستہ آہستہ ٹہلتا ہوا بکرے کی جانب بڑھا، بے چارے بکرے کا خوف سے خون خشک ہوگیا تھا اور وہ بت بنا شیر کو دیکھ رہا تھا، شیر چند سیکنڈ بکرے کو دیکھتا رہا، پھر بڑے مزے سے جمائیاں لیتا ہوا اس درخت کی طرف بڑھا جس پر منشی منقی بیٹھے تھے، ابھی وہ درخت سے چند گز کے فاصلے پر تھا کہ دھم کی آواز آئی، منشی منقی درخت سے لڑھک کر زمین پر گر پڑے تھے۔
میں اس وقت کا منظر بیان نہیں کرسکتا، شیر غصے سے دم ہلا رہا تھا اور اس سے دس بارہ گز کے فاصلے پر منشی منقی چھتری ہاتھ میں لیے مٹک مٹک کر اسے دھمکا رہے تھے، دھت دھت، ابے دھت، انہوں نے چھتری شیر کی طرف اس طرح تان رکھی تھی جیسے وہ کوئی بندوق ہو۔
منشی جی کبھی دایاں پیر زمین پر مارتے اور کبھی بایاں، اس دوران میں ان کی چھتری کا رخ شیر کی طرف رہا اور وہ منہ سے دھت دھت کی آوازیں بھی نکالتے رہے۔
شیر پندرہ بیس سیکنڈ خاموش کھڑا دم ہلاتا رہا۔ منشی جی اسی طرح دھت دھت کرتے اور پینترے بدلتے بکرے کے پاس پہنچ گئے، برے کی جان پر بنی ہوئی تھی اس نے گردن جھکا کر ٹکر جو مارے تو منشی جی پانچ فٹ اوپر اچھل پڑے اور اس کے ساتھ ہی ان کا کمر بند ٹوٹ گیا، اب وہ ایکہاتھ سے پاجامہ پکڑے ہوئے تھے اور دوسرے ہاتھ سے چھتری، ساتھ ہی دھت دھت، ابے دھت، کہے جارہے تھے، اگر چچا جان میری کوکھ میں کہنی نہ ماتے تو میری ہنسی نکل گئی ہوتی۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیر اب منشی منقی کے ناچ سے اکتا گیا تھا، وہ تھوڑی دیر تو کھڑا دم ہلاتا رہا۔ ایک دو مرتبہ اس کے منہ سے غوں غاں کی آواز بھی نکلی، پھر اس نے اگلے پنجوں سے مٹی کریدی، پچھلی ٹانگیں سمیٹیں اور ایک خوف ناک چیخ مار کر منشی منقی پر چھلانگ لگادی۔ منشی جی بھی غافل نہیں تھے، شیر ابھی آدھے ہی راستے میں تھا کہ انہوں نے کھٹاک سے چھتری کھولی اور اس کا رخ شیر کی طرف کردیا۔
شیر نے ایسا خوفناک ہتھیار پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، چھتری کے اچانک کھلنے اور اس کے کالے کپڑے سے وہ ایسا بوکھلایا کہ راستے ہی میں الٹی قلابازی لگائی اور دل ہلادینی والی چیخیں مارتا ہوا جھاڑیوں میں غائب ہوگیا، اس کی پہلی دہاڑ ایک فرلانگ کے فاصلے پر سنائی دی، پھر دو فرلانگ پر اور اسی طرح دور ہوتے ہوئے بالکل غائب ہوگئی۔
ہم اپنی اپنی جگہ سہمے بیٹھے تھی، لیکن منشی جی برابر ہنکارے جارہے تھے، ابے، ایک ہی جھونک میں بھاگ گیا، مرد ہے تو میدان میں آ، قسم ہے دادا جان کی، وہ خبر لوں گا کہ عمر بھر یاد رکھے، مغل بچہ ہوں مغل بچہ، مذاق نہیں۔
پہلے چچا جان مچان سے اترے اور پھر دوسرے لوگ، انہوں نے منشی جی کو کاندھوں پر اٹھالیا اور زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے گائوں میں آئے۔
اس دن سے شیر ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ، ہم دو تین روز گائوں میں رہے اور پھر گھر واپس آگئے جب ایک ہفتے تک کسی کا ڈھور ڈنگر غائب ہونے کی خبر نہ آئی تو چچا جان نے ڈپٹی صاحب کو کہلا بھیجا کہ شیر زخمی ہو کر جنگل سے بھاگ گیا ہے، لہٰذا اب تشویش کی کوئی بات نہیں۔
اس واقعے کے بعد منشی منقی کی اکڑ اور بڑھ گئی، وہ سارے شہر میں اینڈے اینڈے پھرتے اور سینہ پھلا کر بڑے فخر سے کہتے، یوں ہی تو نہیں کہتا تھا کہ مغل بچہ ہوں، میرے ایک ہی گھونسے نے شیر کا کچومر نکال دیا، اب وہ کبھی ادھر نہیں آئے گا، اگر آگیا تو میرا نام بدل دینا۔
اور سچ مچ شیر اس جنگل میں پھر کبھی نہیں آیا اور نہ لوگوں کو منشی جی کا نام بدلنے کی ضرورت پڑی وہ بدستور منشی منقی ہی کہلاتے رہے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close