Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > طنزومزاح
الٹی ہوگئیں...
بھیا کا روزہ
اور ہم نے کار...
ہدی خان ہیکڑ
مجھے میرے...
شاعر کا انعام
بادشاہ سلامت...
منشی منقی نے...
ملا جی کے...
نانی ٹخو
ٹنکو میاں نے...
ہمارے پڑوسی
دلشاد خان...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ملا جی کے کارنامے

 
   
 
آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہوگا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے۔
ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔
ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔
یااللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کردوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔
یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی میں نو سو ننانوے اشرفیاں بھریں اور عین اس وقت جب کہ ملا نصر الدین دعا مانگ رہا تھا، اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلی اس کے صحن میں پھینک دی۔
ملا نصر الدین نے لپک کر تھیلی اٹھالی اور اس میں سے اشرفیاں نکال نکال کر گننے لگا۔ کل نو سو ننانوے اشرفیاں تھیں، ملا نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہنے لگا۔
یا اللہ، میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے میری دعا قبول فرمالی، ایک اشرفی کم ہے تو کوئی بات نہی، یہ اشرفی پھر کبھی دے دینا۔
یہودی نے جب ملا نصر الدین کے یہ الفاظ سنے تو سخت پریشان ہوا اور دل میں کہنے لگا کہ یہ ملا تو بہت چالاک ہے۔ اس نے دھوکے سے میری اشرفیاں ہتھالیں وہ بھاگا بھاگا ملا کے پاس آیا اور کہنے لگا تم بہت بے ایمان شخص ہو۔ لائو، میری اشرفیاں واپس کرو۔ تم نے تو کہا تھا کہ ہزار میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو واپس کردوں گا، لیکن اب تم نو سو ننانوے اشرفیاں قبول کرنے پر تیار ہو۔
ملا نصر الدین غصے سے کہنے لگا، تم کون ہوتے ہو مجھ سے اشرفیاں مانگنے والے، یہ تو میرے خدا نے مجھے بھیجی ہیں، جائو، اپنا کام کرو۔
یہودی سیدھا قاضی کی عدالت میں گیا اور ملا کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ قاضی صاحب نے یہودی کو حکم دیا کہ ملا نصر الدین کو بلالائو، ہم ابھی فیصلہ کردیں گے۔
یہودی نے ملانصر الدین کے پاس آکر کہا، چلو، تمہیں قاضی صاحب بلاتے ہیں۔ ملا نے جواب دیا، تم دیکھ رہے ہو کہ میرا لباس پھٹا پرانا ہے، میں اس شرط پر جانے کے لیے ت یار ہوں کہ تم مجھے اچھے اچھے کپڑے لا کر دو، یہودی نے یہ شرط بھی منظور کرلی اور صاف ستھرے کپڑے ملا کو لا کر دے دیے۔
ملا نصر الدین یہ بیش قیمت لباس پہن چکا تو کہنے لگا، میاں یہودی، کیا اتنا قیمتی لباس پہن کر پیدل ہی قاضی کی عدالت میں جائوں، لوگ دیکھیں گے تو دل میں کیا کہیں گے، جائو اپنا گھوڑا لے آئو، اس پر سوار ہو کر جائوں گا۔
مرتا کیا نہ کرتا، یہودی نے اپنا گھوڑا بھی ملا کے حوالے کردیا اور ملا صاحب نہایت شان و شوکت سے گھوڑے پر سوار ہو کر قاضی کی عدالت میں پہنچے، مقدمہ پیش ہوا، قاضی صاحب نے دونوں کو غور سے دیکھا۔ ملا نصر الدین کا قیمتی لباس اور سواری کا گھوڑا بھی انہوں نے دیکھا اور یہودی کا لباس بھی اور یہ بھی محسوس کیا کہ وہ پیدل آیا ہے، یہودی نے جب سارا قصہ سنایا تو قاضی صاحب نے ملا نصر الدین سے پوچھا۔
ملا صاحب، تم اس کے الزام کا کیا جواب دیتے ہو، ملا نے جواب دیا، حضور، یہ یہودی میرا پڑوسی ہے اور بڑا جھوا شخص ہے، ابھی تو یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کی نو سو ننانوے اشرفیاں ہتھیا لی ہیں اور کچھ دیر بعد کہے گا کہ یہ لباس جو میں پہنے ہوئے ہوں وہ بھی اسے کا ہے۔
یہ سنتے ہی یہودی چلا اٹھا، ہاں جناب، یہ لباس بھی میرا ہے، میں نے اسے پہننے کے لیے دیا تھا۔
ملا نے کہا سن لیا آپ نے، یہ لباس بھی اس کا ہوگیا اور ابھی دیکھیے یہ کہہ دے گا کہ گھوڑا بھی اسی کا ہے۔
یہودی غصے سے چیخ اٹھا، ہاں حضور، یہ گھوڑا بھی میرا ہی ہے، ملا نے مجھ سے سواری کے لیے مانگا تھا۔
قاضی نے جو یہ باتیں سنیں تو یہودی کو ڈانٹ پھٹکار کر نکال دیا اور مقدمہ خارج کردیا۔
یہودی روتا پیٹتا ملا نصر الدین کے گھر پہنچا اور اس کی بڑی منت سماجت کی۔ ملا نے اس شرط پر اس کی اشرفیاں لباس اور گھوڑا واپس کیا کہ وہ آدھی اشرفیاں غریبوں میں بانٹ دے گا اور آئندہ بھی نادار لوگوں کی مدد کرتا رہے گا۔
ملا نصر الدین کے گھر میں بیری کا ایک درخت تھا جس پر بڑے میٹھے بیر لگتے تھے، وہ انہیں دیکھ دیکھ کر بڑا خوش ہوتا اور بڑے فخر سے کہا کرا کہ ساری دنیا میں اتنے بڑے اور میٹھے بیر کہیں نہیں ہوں گے۔ ایک روز اس نے اچھے اچھے بیر چھانٹ کر ایک تھالی میں سجائے، تھالی سر پر رکھی اور بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا کہ جا کر اسے یہ تحفہ دے۔
راستے میں بیروں نے تھالی کے اوپر لڑھکنا اور ناچنا شروع کردیا، ملا کو بار بار تھالی کا توازن درست کرنا پڑتا تھا، مگر بیر تھے کہ نچلے نہ بیٹھتے تھے، کبھی ادھر کو لڑھکتے، کبھی ادھر کو، ملا بیروں کی شرارت سے تنگ آگیا اور ایک جگہ رک کر کہنے لگا۔
کم بختو، اگر تم نے ناچنا اور لڑھکنا بند نہ کیا تو میں تم سب کو ہڑپ کر جائوں گا۔
یہ کہہ کر اس نے ایک مرتبہ پھر ترتیب سے بیروں کو رکھا اور تھالی سر پر رکھ کر آگے چل پڑا، لیکن بیروں نے پھر تھرکنا شروع کردیا اب تو ملا کو بڑا طیش آیا، راستے ہی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔
اچھا کم بختو، تم یوں نہ مانو گے، لو، اب تماشا دیکھو،
یہ کہہ کر اس نے ایک ایک کرکے بیروں کو کھانا شروع کردیا، جب ایک بیر باقی رہ گیا تو ملا نے اس سے کہا، اگر تمہیں ایک موقع اور دیا جائے تو کیا خاموش سے چلو گے۔
بے چارہ بیر اپنے ساتھیوں کا حشر دیکھ چکا تھا، اس لیے وہ چپ چاپ تھالی میں پڑا رہا اور ملا نصر الدین اسے لے کر بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا، اس روز بادشاہ سلامت کا موڈ بہت اچھا تھا، انہوں نے ملا نصر الدین کا تحفہ مزے لے لے کر کھایا اور خوب تعریف کی۔ پھر ملا نے بادشاہ کو دلچسپ لطیفے سنائے جنہیں سن کر اس کے پیٹ میں بل پڑ گئے، شام ہوئی تو ملا نے رخصت ہونے کی اجازت طلب کی، بادشاہ نے اس کی تھالی، ہیروں جواہرات سے بھردی اور ملا ہنسی خوشی گھر آگیا۔
ایک ہفتے تک وہ بڑا خوش رہا، اس کے بعد پھر اسے ہیروں کا لالچ ہوا، وہ سوچنے لگا کہ اس مرتبہ  بادشاہ سلامت کے لیے کیا چیز لے جائوں، یکایک اس کی نظر اپنے گھر میں لگے ہوئے سرخ سرخ چقندروں پر پڑی، ملا خوش سے اچھل پڑا اور اس نے یہی تحفہ بادشاہ کے پاس لے جانے کا فیصلہ کرلیا، اس نے جلدی جلدی ڈھیر سارے چقندر توڑ کر اپنی تھالی میں سجائے، تھالی کو سر پر رکھا اور بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑا۔
راستے میں اسے ایک دوست ملا جس کا نام حسن تھا، اس نے پوچھا، ملا صاحب، اتنے شاندار چقندر تم کس کے لیے لے جارہے ہو۔
بادشاہ سلامت کو تحفے میں دینے کے لیے ۔
تحفہ اور وہ بھی چقندروں کا، ملا جی، تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا، حسن نے کہا۔
کیوں، کیا ہوا، کیا چقندر بادشاہوں کو تحفے میں دیے جانے کے لائق نیہں، ملا نے پوچھا۔
یہ کہہ کر اس نے چقندروں کو غور سے دیکھا، اب اسے محسوس ہوا کہ واقعی چقندر اس قابل نہیں کہ بادشاہ کو تحفے میں دیے جاسکیں۔ اس نے حسن سے پوچھا، بھائی تم ہی کچھ بتائو، میں ان کے بجائے اور کیا چیز لے جائوں۔
انجیر لے جائو، پکے ہوئے رس دار۔
ارے واہ، یہ تو تم نے خوب بتایا ملا نے کہا غضب خدا کا، مجھے پہلے کیوں خیال نہ آیا کہ بادشاہ کے پاس انجیر لے جانے چاہئیں۔
وہ الٹے پائوں بازار کی جانب چلا اور ایک دکان دار سے چقندروں کے عوض پکے پکے رس دار انجیر لے لیے۔ اب سنو، اس روز بادشاہ سلامت کا مزاج بہت گرم تھا، درباری امیر اور وزیر سب سہمے ہوئے تھے، ملا حسب معمول اچھلتا کودتا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور تھالی اس کے آگے رکھ دی۔
کیا ہے اس میں، بادشاہ نے گرج کر پوچھا۔
حضور، انجیر ہیں، آپ کے لیے لایا ہوں، ذرا چکھ کو تو دیکھیے۔
بادشاہ کے غصے کا پارہ اور گرم ہوگیا،اس نے کڑک کر سپاہیوں کو آواز دی اور انہیں حکم دیا کہ یہ سب انجیر ملا کے پھینک پھینک کر مارو اور خوب زور زور سے، ملا نے یہ حکم دیا تو سر پر پائوں رکھ کر بھاگا، لیکن سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور انجیر مار مار کر اس کا منہ سجادیا، جب انجیر ختم ہوگئے تو سپاہیوں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ تیر کی طرح وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔
راستے میں ملا کو حسن ملا۔ ملا فوراً اس کے گلے سے لپٹ گیا اور کہنے لگا، پیارے بھائی، اگر میں تمہاری نصیحت نہ مانتا تو میری ہڈی پسلی ایک ہوجاتی، خدا تمہیں جزائے خیر دے۔
حسن نے ملا کی یہ حالت دیکھی تو اسے سخت تعجب ہوا اور کہنے لگا آخر کچھ بتائو تو کیا واقعہ پیش آیا۔
ارے بھائی، بس بال بال بچ گیا، خدا تمہارا بھلا کرے، میں نے تمہاری نصیحت مان لی۔
کون سی نصیحت، حسن نے جھنجھلا کر پوچھا۔
ارے بھائی، وہی چقندروں کے بجائے انجیر لے جانے کی، اف خدایا، اگر میں وہ بڑے بڑے لوہے جیسے سخت چقندر لے جاتا اور بادشاہ کے سپاہی وہ مجھ پر پھینکتے تو سچ مانو، میرا تو کچومر ہی نکل جاتا، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے تمہاری رائے پر عمل کیا۔۔۔۔۔ ورنہ چقندر۔۔۔۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔ پیارے بھائی، اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close