Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > طنزومزاح
الٹی ہوگئیں...
بھیا کا روزہ
اور ہم نے کار...
ہدی خان ہیکڑ
مجھے میرے...
شاعر کا انعام
بادشاہ سلامت...
منشی منقی نے...
ملا جی کے...
نانی ٹخو
ٹنکو میاں نے...
ہمارے پڑوسی
دلشاد خان...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   Back
 

الٹی ہوگئیں تدبیریں

 
   
 
آپ سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ابا جان ہمیں سیر کے لیے کسی اچھے سے تفریحی مقام پر لے جانے کے لیے راضی ہوگئے ہیں اس لیے فوری طور پر تیاری کرلی جائے۔ ہانیہ نے اپنا چھوٹا سا دوپٹا ہوا میں لہرایا۔ خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
کیا تم نے ابا جان کے منہ سے خود سنا ہے یا سنی سنائی بات پھیلانے لگی ہو۔ وقاض نے پرتجسس لہجے میں پوچھا۔
نہیں یقین تو نہ کرو، اریشہ، عروج، ثمن سب نے ہی سنا ہے اور خوب سنا ہے کہ ابا جان کچھ دیر بعد ہم سب کو سیر کے لیے بہت اچھے سے تفریحی پارک لے جائیں گے اور واپسی پر مزیدار آئسکریم سے ہم سب کی تواضع ہوگی۔ ہانیہ نے مزید تفصیلات بتائیں۔
ہزار کا نوٹ تو آئسکریم پر ہی نکل جائے گا پھر پارک کے ٹکٹ، جھولوں کے کرائے اور سب سے بڑھ کر پیٹرول۔ بھائی جان نے ہمیشہ کی طرح پیسوں کا حساب کتاب کیا۔ یہ ان کی پرانی عادت تھی۔ ریڑھی والے سے فالسے بھی لے لیں تو حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتے، غرض کہ وہ اب تک فلسفیانہ انداز میں گم تھے اور ہانیہ پورے گھر میں شور مچاتی پھر رہی تھی، کچھ ہی دیر بعد چکن کڑاہی، روغنی پراٹھے اور فروٹ کی مہک سے سارے گھر میں ایک سماں سا بندھ گیا تھا۔
سلمان اپنا کرکٹ کا بلا بھی رکھ لینا۔ ابا جان نے جیسے یاد دلایا اور ابھی یہ تیاریاں عروج پر تھیں کہ پڑوس کی زبیدہ خالہ اپنے انتہائی صحت مند بچوں کے ساتھ آدھمکیں۔
اے بہن کہاں ہو، کتنے دن گزر گئے، پڑوس کی خبر بھی نہیں لی۔ نجانے یہ نیا محلہ کیسا ہے کسی کو کسی سے غرض ہی نہیں۔ زبیدہ خالہ نے شکایتی لہجے میں کہا۔ اور خبر بھی کیسے ہو تم سب تو اپنے میں ہی مست رہتے ہو۔ مہینہ بھر ہوگیا اور ہماری تمہاری محض چار چھ ملاقاتیں ہی ہوئیں ہیں۔ اے میں تو آج سکون سے بیٹھنے آئی۔ ان کے ابو آج اگر کام سے جلدی فارغ ہو کر نہ آئے تو شام سے پہلے نہیں جاﺅں گی۔ زبیدہ خالہ نے اطلاع دی اور اپنے بچوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو گھر کے چار کونوں میں پھیل گئے تھے۔ امی نے بھی مروت کے مارے مسکرا کر انہیں دیکھا اور پھر دھیرے سے بولیں۔
عروج بیٹی، جاﺅ ذرا خالہ کے لیے چائے بنا لاﺅ۔
اے بہن، ابھی ذرا سکون سے بیٹھنے تو دو پھر چائے بھی پئیں گے اور اللہ نے چاہا تو تمہارے گھر کا کھانا بھی کھائیں گے۔ زبیدہ خالہ نے نہ ٹلنے والے انداز میں دیوار کے پیچھے تکیہ رکھا اور ٹیک لگائے آرام سے بیٹھ گئیں۔
اے بیٹا، یہاں قریب کوئی پان کی گلوری کیا مل جائے گی، ہمارے پرانے محلے میں تو پان کی بے شمار دکانیں تھیں۔ انہوں نے بھائی جان کو مخاطب کیا۔
ارے خالہ پان کی دکان تو بہت دور ہے لیکن اگر آپ کہیں تو لادیتا ہوں۔ بھائی جان کے خیال میں ان کو بھگانے کی واحد تدبیر یہ تھی کہ تیز تمباکو والا پان کھلا کر ان کو بھگادیا جائے کیوں کہ چکر وغیرہ کے سبب وہ یقینا اپنے گھر کی طرف ہی دوڑ لگائیں گی۔
بھائی جان، تیز تمباکو والا پان لانا، دیکھو ہمیں کتنی دیر ہورہی ہے ابھی تک تو آدھا راستہ طے بھی ہوجاتا۔ ہانیہ نے اپنے ہونٹ سکیڑے اور انتہائی بیزاری سے ان کی طرف دیکھا، ابا جان دوسرے کمرے میں الگ پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ امی کو اندیشہ تھا کہ اگر ان کو پکنک کی بھنک بھی لگ گئی تو وہ بھی یقینا ساتھ چلنے کی فرمائش کردیں گی اور چھوٹی گاڑی اور محدود بجٹ ہرگز اس بات کی اجازت نہ دیتا تھا کہ وہ محترمہ بھی اپنی بٹالین کے ساتھ چلیں۔ زبیدہ خالہ پاﺅں پسارے اطمینان سے بیٹھیں تھیں جبکہ دوسرے کمرے میں بچوں کی چہ مگوئیاں جاری تھیں۔
میں تو کہتی ہوں کہ ٹھنڈے شربت میں نیند کی دوا ملا کر دے دو۔ ہانیہ نے تجویز دی۔
شربت ان کے بچے بھی پئیں گے اور وہ سب بھی نیند کی دوا کے اثر سے ہمارے گھر سوگئے تو میری تو ہمت ہی نہیں کہ ان موغٹے تازے بچوں کو گود میں اٹھا کر ان کے گھر شفٹ کروں۔ بھای جان نے اپنی کمر پکڑی۔
بھئی تمباکو والی تدبیر ٹھیک ہے جلدی جاﺅ دیر نہ کرو۔ عروج نے گھڑی پر نظر ڈالی اور جلدی جلدی باورچی خانے کی طرف گئی جہاں چھولوں کی چاٹ کو وہ آخری شکل دے رہی تھی۔
اے تمہارا گھر ہوا دار بہت ہے اور کچھ تو ہمارے گھر سے کھلا بھی ہے۔ زبیدہ خالہ نے کچھ میں جھانکا جہاں عروج کام میں مصروف تھی۔
اے بیٹی یہ صبح ہی صبح چاٹ کس خوشی میں بن رہی ہے لگتا ہے تمہارے گھر میں مہمانوں کا اکرام بہت کیا جاتا ہے چلو اگر بنا ہی دی ہے تو اس میں مرچیں ذرا کم رکھنا میرے بچے مرچیں برداشت نہیں کرتے۔ زبیدہ خالہ نے ہونٹوں پر زبان پھیری اور عروج اس نئی مصیبت پر تلملا کر رہ گئی۔
ارے ان پتیلیوں میں کھانا بھی تیار کرلیا، کیا کہیں سیر کا پروگرام ہے۔ زبیدہ خالہ نے معاملے کو کچھ کچھ سمجھتے ہوئے عروج سے پوچھا اور عروج نے اپنی معصومیت میں گردن ہلا کر اقرار کیا ہی تھا کہ پیچھے سے ثمن آدھمکی۔
خالہ اس مہنگائی کے دور میں سیر پر تو کیا جاسکیں گے البتہ ہمارے دور کے ایک رشتہ دار منگھوپیر میں رہتے ہیں ان کی نانی کاا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا تھا بس وہیں تعزیت کے لیے جانا چاہ رہے ہیں۔
اے کیا تعزیت کے لیے سالن پراٹھے بھی لے کر جارہے ہو اور یہ کرکٹ کا بلا لہرا کر کیا تعزیتی جلوس نکالوگے۔ انہوں نے شاپر میں رکھا بلا دیکھا۔ خیال زبیدہ اس سفید جھوٹ کو ہضم نہ کرپائیں تھیں۔
ارے نہیں خالہ دراصل سلمان کو کچھ دنوں سے کھجلی بھی ہورہی ہے ہم نے سوچا منگھو پیر میں اس کو نہلا بھی دیں گے اور پھر ان گھر والوں پر کیا بوجھ بننا، کھانا اپنا پکا کر لے جاتے ہیں۔ ثمن نے بہانہ بنایا اور یہ بات ہے کہ بہانہ بناتے ہوئے بے شمار پیسنے کی بوندیں اس کی پیشانی پر نمودار ہوگئیں تھیں۔
اسی عرصے میں بھائی جان بھی آدھمکے اور اپنی پاکٹ منی سے لایا ہوا خوشبودار تیز تمباکو والا پان ان کی طرف بڑھایا.... یہ سوچتے ہوئے کہ ابھی ان کو چکر آئے گا اور وہ رفو چکر ہوجائیں گی مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔ پان ہاتھ میں تھام کر انہوں نے دوپٹے کے سرے سے باندھ لیا۔
خالہ پان تو کھالیں۔ بھائی جان نے انتہائی بے صبرے پن سے کہا۔
اے تمہاری بہن چھولوں کی چاٹ اتنی محبت سے بنا رہی ہے وہ کھا کر پھر پان کھاﺅں گی کہیں میری طرف سے بچی کا دل میلا نہ ہوجائے کہ خالہ آئیں اور بغیر کھائے چلی گئیں۔ خالہ کا یہ کہنا تھا کہ سب عجیب بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ گویا یہ منصوبہ بھی ناکام ہوگیا تھا، خالہ زبیدہ پیر پسارے سکون سے پنکھے کے نیچے بیٹھی ہوئیں، امی سے دنیا جہاں کی باتیں کررہیں تھیں کہ یکایک ہی ثمن نے ان کو بھگانے کے لیے مین سوئچ بند کردیا۔ پنکھے کا بند ہونا تھا کہ خالہ چلائیں۔
اے موئے، یہ لائٹ والے تو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے، اچھا ہی ہوا کہ اپنے گھر نہیں ہوں۔ اے بہن تمہارا گھر تو ویسے ہی ہوادار ہے۔ خالہ نے اس تدبیر کو بھی ناکام بنادیا۔
مگر خالہ آپ کے گھر تو لائٹ آرہی ہے صرف ہمارے گھر کی ہی لائٹ گئی ہے۔ ثمن نے انتہائی لجاجت سے کہا۔
اچھا۔ خالہ نے انتہائی افسوس سے اچھا کو خوب چبا کر کہا اور بچوں کو آواز لگائی۔
چلو بچوں گھر چلتے ہیں یہاں تو لائٹ ہی نہیں۔
خالہ نے گھر کے چاروں کونوں سے اپنے موٹے موٹے خرگوش جیسے بچوں کو سسمیٹا اور چپل پیروں میں اڑیسے، سب کے چہرے خوشی سے گول گپا ہورہے تھے اور ثمن کی ذہانت پر سب ہی اس کو شاباش دے رہے تھے اور پھر کچھ ہی دیر بعد خالہ زبیدہ گھر سے جا چکیں تھیں۔
اب جلدی جلدی سب نے ہی چابک دستی سے کام لیا، سامان پیک کیا۔ اسکارف پہنے امی جان نے برقعہ اوڑھا اور تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھے اور ابھی گاڑی میں بیٹھ ہی نہ پائے تھے کہ خالہ زبیدہ اپنے دروازے سے نمودار ہوئیں۔
اے بہن، یہ دو بچوں کو رات سے خارش بہت ہورہی ہے تم ان کو بھی منگھوپیر سے نہلا کر لے آﺅ۔ یہ کہتے ہوئے خالہ نے دو بچوں کو گاڑی میں دھکیلا۔
ارے بچوں کو تم کہاں نہلاپاﺅ گی چلو میں بھی ساتھ چلتی ہوں بھلا اپنا کام میں دوسروں کے سر کیوں ڈالوں۔ یہ کہتے ہوئے خالہ نے اپنی چادر سر پر ڈالی۔
خیر سے تعزیت بھی کرلوں گی۔ آخری جملہ انہوں نے آہستگی سے کہا اور پھر انتہائی مایوسی کے عالم میں ابا جان نے گاڑی منگھوپیر کی طرف موڑ لی۔
 
اگلا   Back

Bookmark and Share
 
 
Close