Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > طنزومزاح
الٹی ہوگئیں...
بھیا کا روزہ
اور ہم نے کار...
ہدی خان ہیکڑ
مجھے میرے...
شاعر کا انعام
بادشاہ سلامت...
منشی منقی نے...
ملا جی کے...
نانی ٹخو
ٹنکو میاں نے...
ہمارے پڑوسی
دلشاد خان...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہدی خان ہیکڑ

 
  وقار محسن  
 
لغت میں تو ہیکڑ کے معنی زبردست یا خودسر کے ہیں، لیکن اگر آپ کو اس لفظ کی وسعت اور مکمل تعریف درکار ہے تو فخر کنگھی ٹولہ جناب ہدی خان کی معروف اور باغ و بہار شخصیت کے تفصیلی تعارف کی ضرورت ہے، ہدایت علی خان سے پھسلتے ہوئے وہ کیسے ہدی خان ہیکڑ کے مقام پر پہنچے، اس کی طویل داستان ہے، ہیکڑی اور افواہوں کی تخلیق اور تشہیر کے لیے ان کو ممتاز مقام حاصل تھا۔ ہدی خان چھوٹے قد کے نازک سے آدمی تھے، گہرے نیلے رنگ کا کرتا ان کے مخنی جسم پر گھٹنوں سے نیچے تک لٹکتا رہتا، مٹیالے رنگ کا علیگڑھ کٹ پاجامہ جو اچھے وقتوں میں سفید رنگ کا رہا ہوگا، سر پر نیلے ہی رنگ کی جالی دار ٹوپی، جو ان کے سر کے عقبی حصہ میں پیالے کی مانند ان کی ہوتی، لٹکے ہوئے کمر بند کے سرے پر چھالیہ اور تمباکو کا بٹوا جھولتا رہتا، بات کرتے تو آواز کا آدھا اخراج ناک سے ہوتا، چہرے کا رنگ سیاہی مائل اور منہ، جیسے سوکھا ہوا آم، ناک کے نتھنے اوپر کی جانب چڑھے ہوئے، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، گال پچکے ہوئے، کاام کھڑے۔ یہ تھی کنگھی ٹولہ کی شان قبلہ ہدی خان ہیکڑ۔
وہ جب اپنے معرکوں کی فرضی داستانیں بیان کرتے تو کرتے کا گریبان مزید اوپر کرکے کندھے اچکا کر اپنی طرف سے ان گھنے جنگلات کی تصویر کھینچتے جہاں انہوں نے صرف ایک لاٹھی کی مدد سے خوں خوار شیر کو زیر کیا تھا، جب وہ اپنی طرف کے جنگلات کی بات کرتے تو ان کی مراد ان کے آبائی شہر بداﺅں (بدایوں) کے اس امرود کے باغ سے ہوتی تھی، جس میں گنتی کے چھ سات درخت اور ککردوں کی جھاڑیاں تھیں۔
صبح ہی نبو نائی کی دکان سے اخبار اٹھالاتے اور اس کا رول بنا کر لیے پھرتے، کیوں کہ خود پڑھے لکھے نہیں تھے، اس لیے کسی نہ کسی کو پکڑلیتے۔
”اماں بھائی نثار! ذرا پڑھیو تو! پاکستان میں انقلاب روس کب تک آنے کی امید ہے، میاں یہ کل کے لونڈے کیا جانیں حکومت چلانا“۔
”اماں لینا بابو استاد، دیکھو ہے کوئی چٹ پٹی خبر، بھلا دیکھو تو کدو بیس روپیہ کلو ہوگئے۔“
”ادھر آ اچھن بیٹا! کھیلوں کی خبریں تو پڑھ کر سنا“۔
ایک دن ہدی خان کمہاروں کے نیم کے نیچے اپنے چمچوں کی محفل جمائے بیٹھے تھے، ادھر سے کلن درزی کا لڑکا روتا ہوا گزرا، فوراً اسے بلا کر پوچھا۔
”ارے کیا ہوا منے! کیوں گدھے کی طرح رینک رہا ہے“۔
منے نے منہ بسور کر کہا ”اجی چچا کیا بتاﺅں، سبزی لے کر آرہا تھا کہ مختار حلوائی کی دکان کے سامنے لڑکوں نے مجھے موٹا موٹا کہہ کر چڑانا شروع کردیا، میرے احتجاج کرنے پر مجھے نالی میں گرادیا“۔
”کیا.... کیا کہا؟ تجھے مارا ان آوارہ لڑکوں نے؟ تو نے بتایا نہیں کہ تو ہدی خان کا بھتیجا ہے“۔ ہدی خان پھنکارے۔
”ہاں جی بتایا تھا۔ تمہارا نام سن کر تو انہوںنے دو تھپڑ اور لگادیے“۔
”اچھا ان لڑکوں کی یہ مجال! چل میرے ساتھ، کدھر ہیں وہ خبیث؟“ ہدی خان کرتے کا بٹن کھولتے ہوئے کھڑے ہوگئے، ان کے چمچے بھی ان کے ساتھ چل دیے۔
”چچا! ادھر ہیں وہ لوگ‘ مختار کے دو منزلہ پر۔ ذرا سنبھل کر جانا۔ پانچ مسٹنڈے ہیں“۔
منے نے خبردار کیا۔
ہدی خان آستینیں چڑھاتے ہوئے جارہے تھے اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے تھے کہ کوئی ان کو روک لے، لیکن کس نے نہ روکا۔ مختار کے دو منزلہ کے نیچے کھڑے ہو کر اپنے چمچوں سے کہنے لگے۔
”کیا کہا تم نے؟ پانچ ہیں؟ تم لوگ نیچے ٹھہرو، ابھی خبر لیتا ہوں ان کی۔ تم یہاں کھڑے گنتے رہو“۔
اتنا کہہ کر ہدی خان زینہ چڑھ گئے، کچھ لمحوں کے بعد اوپر سے دھواں، دھاں.... اٹھک پٹک، لاتوں‘ گھونسوں کی آوازیں آئیں اور ایک گٹھری لڑھکتی ہوئی نیچے گری۔
نیچے کھڑے چمچوں نے گنتی شروع کی، ایک‘ گٹھری سے ہدی خان کی کراہت ابھری۔
”ادے گدھو! یہ تو میں ہوں“۔
ایک دن ہدی خان انگلیاں چاٹتے طفیل کبابیے کے دکان سے گنگناتے نکل رہے تھے کہ اوپر سے کسی نے دال پھینکی، ،جو ان کی جالی دار ٹوپی سے بہتی ہوئی ان کے چہرے پر پھیل گئی، ہدی خان کڑک آواز میں دہاڑے۔
”یہ کون نالائق ہے؟ نیچے اتر بدتمیز.... ہڈی پسلی ایک کردوں گا“۔
”کیا ہے، کون شور مچارہا ہے؟“۔ ہدی خان نے گردن اٹھا کر اوپر دیکھا، ایک کالا بھجنگ پہلوان بالکونی سے ان کو خوں خوار نظروں سے دیکھ رہا تھا، پہلوان کو دیکھتے ہی ہدی خان بتاشہ کی طرح بیٹھ گئے، چہرے پر پھیلی دال پر انگلی رکھ کر چکھی اور گھگیا کر کہنے لگے۔
”اوہو مونگ کی دال ہے، میں سمجھا ماش کی ہے جو مجھے سخت ناپسند ہے“۔
بابو پتنگ ساز ہدی خان کے خاص شاگردوں میں سے تھا اور اس قربت کی وجہ سے کچھ بے تکلف بھی تھا۔ ایک دن نیم کے چبوترے پر ہدی خان کے سر کی مالش کرتے ہوئے کہنے لگا۔
”استاد جان کی امان پاﺅں تو کچھ عرض کروں؟“
”بکو“ ہدی خان آنکھیں موندے ہوئے بولے۔
”استاد جب محل میں آپ اپنے کارنامے بیان کرتے ہیں تو کچھ زیادہ پھینک جاتے ہیں۔ لوگ آپ کے دبدبے کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے لیکن پیچھے کھی کھی کرتے ہیں“۔
آج ہدی خان کچھ اچھے موڈ میں تھے، اس لیے مسکرا کر بولے۔
”اچھا ایسا ہے؟ تو شہزادے ایسا کر کہ آئندہ جب بھی میں ضرورت سے زیادہ پھینک جاﺅں تو ہلکے سے میرے چٹکی لے لیا کر، میں ہوشیار ہوجاﺅں گا“۔
اس ہدایت کے چند دن بعد ہدی خان مختار حلائی کے تھڑے پر محفل سجائے اپنی شکاری مہمات کی تفصیل بیان کررہے تھے۔
”تو دوستو اندھیری رات‘ ہوکا عالم، ہر طرف سناٹا، میں جنگل میں مچان پر گھات لگائے بیٹھا تھا، ان دنوں شیر پور گاﺅں میں ایک شیر نے بڑا ادھم مچا رکھا تھا، اچانک بانسوں کے جھنڈے میں وہ آنکھیں ہیرے کی طرح چمکیں، میں نے جیسے ہی بندوق سیدھی کی تو چر سے مچان کو تختہ ٹوٹ گیا اور میں دھم سے گھٹنوں گھٹنوں گھاس میں نیچے.... شیر اور میں آمنے سامنے، ایمان سے ”پسینے چھوٹ گئے“۔
”شیر کے....“ سامعین میں سے کسی نے لقمہ دیا۔ ہدی خان نے بات جاری رکھی۔
”بس جی! میں نے اس کے ماتھے کا نشانہ لے کر لبلی دبائی تو بارہ فٹ لمبا شیر سامنے ڈھیر ”شانے پر چٹکی محسوس کرکے انہوں نے پلٹ کر بابو کو گھورا اور بولے ”جب اور قریب جا کر دیکھا تو پتا چلا کہ شیر دس فٹ کا تھا۔“ پھر چٹکی لگی تو بولے۔ ” اور جب اور قریب جا کر فیتے سے ناپا تو آٹھ فٹ کا نکلا۔ جب اس بار بھی چٹکی لی گئی تو ہدی خان بھڑک گئے اور پیچھے بیٹھے بابو کو خوں خوار نظروں سے دیکھتے ہوئے دہاڑے۔
”اوئے گدھے کے بچے! کندھ نیلا کردیا نو نوچ کے۔ اب شیر نپ گیا، اب اور کم نہیں ہوسکتا“۔
ہدی خان کو یہ برداشت ہی نہ تھا کہ کوئی کسی میدان میں ان سے سبقت لے جائے، اس لیے جب ایک محفل میں اسرار ڈرائیور نے فخر سے بیان کہا کہ اس کے دادا ایسے ماہر غوطہ خور تھے ک ہ نہر میں ایک جگہ ڈبکی لگاتے توھے تو آدھے گھنٹے کے بعد ایک میل دور پانی سے سر نکالتے تھے، اتنی سنتے ہی ہدی خان جو دیوار سے ٹیک لگائے اونگھ رہے تھے۔ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اپنی فرضی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے کہنے لگے۔
”کیا کہا؟ آپ کے دادا آدھے گھنٹے بعد پانی سے سر نکالتے تھے؟ اماں! یہ تو کچھ بھی نہیں۔ ہمارے قبلہ داد مرحوم غوطہ خوری کی دور دور دھوم تھی، ایسے غصب کے غوطہ خور تھے کہ بیس سال پہلے ڈبکی لگائی تھی، ابھی تک سر نہیں نکالا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close