Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > شکاریات
ساٹھ گھنٹے کی...
ریچھ کا شکار
نردولی کا آدم...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   Back
 

ساٹھ گھنٹے کی موت

 
   
 
اگست اٹھارہ سو اکانوے کی ایک طوفانی شام کو وہیل کے شکاریوں پر مشتمل ایک ٹیم جس میں جیمز ہارٹلے بھی شامل تھے ایک بحری جہاز اسٹار آف دی ویسٹ میں سوار ہو کر شکار کے لیے روانہ ہوئی۔ ابھی انہیں روانہ ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ سمندر میں طوفان کے آثار ابھرنے لگے۔ موجیں ابھر ابھر کر تیز ہوتی جارہی تھیں۔ جہاز کھلونے کی طرح موجوں کی مخالف سمت چلا جارہا تھا۔ یہ صورتحال خاصی پریشان کن تھی لیکن یہ شکاری ا پنی زندگی کا بڑا حصہ پانی کی موجوں سے کھیلتے ہوئے گزار چکے تھے۔ وہ زیادہ پریشان نہیں ہوئے کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ یہ طوفان جلد ہی ختم ہوجائے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب لہریں بہت زیادہ تند نہیں تھیں۔
آخر کار تین دن بھٹکتے رہنے کے بعد چوتھے روز ایک شکار نظر آیا، جسے دیکھتے ہی شکاریوں کے جسموں میں ایک عجیب کھلبلی پیدا ہوگئی۔ جہاز کے کپتان کا حکم پاتے ہی وہ سب چھوٹی کشتیوں میں کود پڑے۔
مقابلہ ایک خوفناک بیس فٹ لمبی اور پانچ فٹ چوڑی وہیل سے شروع ہوا۔ اس کے سامنے یہ دلیر انسان ایک مرغی کے چوزے دکھائی دے رہے تھے۔ بہت سخت اور جان لیوا مقابلہ تھا، مگر ایسے شکار میں مصائب کا سامنا کرنا تو ایک عام بات ہے۔
ان شکاریوں نے وہیل کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ جیمز ہارٹلے جو مانا ہوا شکاری تھا، وہیل کو ہنکا کر اس قدر قریب لے آیا کہ اس کی آنکھوں کے قریب اگی ہوئی کائی تک صاف دکھائی دینے لگی۔ وہیل کی جسامت نے سب پر ایک نامعلوم سا خوف طاری کردیا۔ انہوں نے اس جسامت کی وہیل پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس وہیل کی آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک تھی۔ یہ چمک ان شکاریوں کو خوف زدہ کیے جارہی تھی۔ آخر کار ایک شکاری نے ہمت کرکے اپنے فولادی ہتھیار سے اس پر وار کردیا۔ وہیل کے جسم سے خون کا ایک فوارہ پھوٹ نکلا اور اس سے پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا۔
چوٹ کھانے کے بعد وہیل کچھ اس طرح تڑپی کہ جیمز ہارٹلے کی کشتی ڈگمگاگئی۔ وہ سمندر میں گرتے گرتے بچا۔ آخر کار وہ ہمت کرکے سیدھا کھڑا ہوا اور اپنا فولادی نیزہ وہیل کے جسم میں پوری قوت سے خوب گہرا گھونپ دیا۔ وہیل درد سے تڑپی اور کشتی ایک دفعہ پھر الٹتے الٹتے بچی۔ جیمز ہارٹلے کے ایک ساتھی نے چلاتے ہوئے کہا۔ خدا کے لیے اپنی جانیں بچاﺅ اور اسے جانے دو۔
وہیل تڑپتی ہوئی اور پانی کو اچھالتی ہوئی گہرے سمندر میں غائب ہوگئی لیکن وہ فوراً ہی سطح پر ابھری اور اپنا سر پانی سے باہر نکال لیا۔ وہ درد سے پاگل ہورہی تھی اور اپنے سفید جبڑے اور چمک دار دانتوں کو کڑکڑا رہی تھی۔ درد اور کرب سے بے چین ہو کر اس نے اپنا منہ کھول دیا اور وحشیانہ طور پر تڑپنے لگی۔ وہ اس کیفیت میں اپنی چمک دار آنکھوں سے شکاریوں کو مسلسل گھور رہی تھی۔ شکاری اس کی طرف دیکھتے ہوئے خوف کھارہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا۔ جلدی سے سمندر میں چھلانگیں لگادو، ورنہ یہ ہم پر حملہ کرنے ہی والی ہے۔
شکاری سمندر میں چھلانگیں لگانے لگے۔ جیمز ہارٹلے بھی سب کے ساتھ کودا لیکن ابھی اس کی جست ہوا ہی میں تھی کہ وہیل بجلی کی طرح لپکی اور اسے اپنے منہ میں دبوچ لیا۔ جیمز کے ساتھی سخت پریشان تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔ ایک ساتھی نے وہیل کی طرف بڑھنا شروع کردیا لیکن وہیل جیمز کو ہڑپ کرچکی تھی۔ اس نے غوطہ لگایا اور نظروں سے غائب ہوگئی۔
سمندر کی طوفانی لہروں میں یہ شکاری موت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کی قوت بالکل جواب دے چکی تھی۔ انہوں نے اپنے آپ کو لہروں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا تھا۔ سمندر کی طوفانی لہروں نے ذرا خاموشی اختیار کی، تو قریب کے ملاح کشتی کو شکاریوں کے قریب لے گئے اور انہیں ڈوبنے سے بچالیا۔ جب ان کے اوسان بحال ہوئے تو انہوں نے اپنے ساتھی کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ ابھی افسوس ہی میںڈوبے ہوئے تھے کہ انہیں وہیل مچھلی نظر آئی۔ وہ سب اپنے ساتھی کا بدلہ لینے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑے لیکن انہیں پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
شام کے وقت سب لوگ تختہ جہاز پر جمع ہوئے، کپتان نے اپنی ٹوپی اتاری اور اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر اپنے ساتھی جیمز ہارٹلے کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگا۔
اگلے روز صبح ملاحوں نے بتایا کہ ایک بڑی سی لاش پانی پر تیرتی ہوئی نظر آئی ہے۔ وہ کشتی کو لاش کے قریب لے گئے۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہیل ہے جسے مرے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اس کی لاش کو سمندر سے باہر نکالنے کے لیے لوہے کی زنجیروں کا ایک پھندا تیار کیا گیا جس کے ذریعے اس سو ٹن وزنی لاش کو تختہ جہاز پر لایا گیا۔
وہ لوگ جو وہیل کے جسم سے چربی اتارنے کے ماہر تھے۔ انہوں نے اپنا کام شروع کردیا۔ جہاز کا عرشہ گوشت کے لوتھڑوں اور خون سے اس قدر بھر گیا تھا کہ وہ لوگ جو چربی کے ٹکڑوں کو کڑاہوں میں لے جا کر ڈال رہے تھے، پھسلنے لگے۔ اس عارضی مذبح خانے میں مسلسل اڑتالیس گھنٹوں تک کام ہوتا رہا، یہاں تک کہ وہیل کے جسم سے تمام چربی اتارلی گئی، شکاری اور جہاز کا عملہ بری طرح تھک چکے تھے۔ اب صرف وہیل کی لاش کو سمندر میں پھینکنے اور جہاز کو صاف کرنے کا کام باقی رہ گیا تھا۔
ایک شکاری نے راز درانہ لہجے میں کپتان کے کان میں کہا۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ وہی وہیل ہو جس نے مسٹر جیمز کو ہڑپ کیا تھا۔
کپتان نے جواب دیا۔ ہرگز نہیں یہ تو ہمیں اس جگہ سے کافی فاصلے پر ملی ہے۔
دوسرا شکاری بولا، اس وہیل کے اسی جگہ پر نشان تھا جہاں جیمز نے اسے نیزہ مارا تھا مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہاں نیزے کے نشانات موجود تھے۔ عین ممکن ہے کہ یہ وہی وہیل ہو، اس کا پیٹ چاک کرکے دیکھنا چاہیے، اگر یہ وہیل وہی ہوئی تو ہمیں بے چارے جیمز کی لاش تو مل جائے گی۔
پیسنے میں شرابور تھکے ہارے ملاح پھر اپنے چھرے تیز کرکے گوشت کے اس پہاڑ پر ٹوٹ پڑے۔ اس دیو قامت جانور کا پیٹ چاک کرنا معمولی بات نہ تھی۔ ملاح کو یہ کام کرنے میں بہت زیادہ محنت کرنا پڑی اور وہ پیٹ چاک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پیٹ چاک ہوتے ہی انسان جسم کا ایک حصہ خون میں لت پت باہر نکل آیا۔
لوگوں نے بہت تیزی سے کام کرنا شروع کردیا اور بہت جلد جیمز ہارٹلے کے جسم کو وہیل سے آزاد کرالیا گیا۔ جیمز ہارٹلے کی لاش خون جما دینے والا نظارہ پیش کررہی تھی۔ اس کا جسم بالکل نیلا پڑگیا تھا۔ وہاں پر جتنے لوگ موجود تھے ان سب کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اسی دوران ان میں ایک ساتھی نے جیمز کی نبض پر ہاتھ رکھا اور چلا اٹھا۔
مسٹر ہارٹلے ابھی تک زندہ ہے۔
فورا گرم پانی لاﺅ، شاید یہ بچ جائے۔ کپتان نے حکم دیا۔
ہارٹلے کے جسم کو بہت احتیاط سے گرم پانی سے دھویا گیا اور دوران خون کو درست کرنے کے لیے آہستہ آہستہ روغن زیتون کی مالش کی گئی۔ پانچ گھنٹوں کی مسلسل مالش کے بعد انہوں نے مسٹر ہارٹلے کو آہستگی سے کھانستے اور کراہتے ہوئے سنا۔ وہ یکدم اٹھ کر بیٹھ گیا اور سب کو گھور گھور کر دیکھنے لگا اور پھر جانوروں کی طرح چیخنے چلانے لگا۔ اس کی چیخوں نے تختہ جہاز کے تمام لوگوں کا خون خشک کردیا۔ انہیں یہ ڈر تھا کہ وہ پاگل نہ ہوجائے۔
کئی روز تک ہارٹلے نے کسی کو نہ پہچانا۔ اسے ایک کمرے میں بند کردیا گیا اور ایک شخص کو اس کی دیکھ بھال پر مقرر کردیا۔ جہاز جیمز ہارٹلے کو لے کر واپس انگلینڈ روانہ ہوگیا۔ اس لمبے سفر کے دوران ہارٹلے پر کئی مرتبہ پاگل پن کا دورہ پڑا۔ وہ اس حادثے کے بعد تمام عمر گہری نیند نہ سوسکا۔ وہ شخص جس کی عمر سمندر کے سینے کو چیرتی ہوئی گزری تھی، اب اتنا خوف زدہ ہوگیا تھا کہ سمندر کا نام سنتے ہی کانپ اٹھتا تھا۔
جب جیمز کی حالت قدرے بہتر ہوگئی، تو اس نے اپنے ایک پرانے ساتھی کو ان لمحات کی کیفیت بیان کی جو اس نے وہیل کے پیٹ میں جانے سے پہلے گزارے تھے۔
مجھے وہ لمحہ ابھی تک بہت اچھی طرح یاد ہے، جب میں کشتی سے کودا، میں نے محسوس کیا کہ میرے پاﺅں کسی ملائم چیز سے ٹکرائے ہیں۔ میں نے اوپر کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ ایک ہلکے گلابی رنگ کا ڈھکنا میرے اوپر گر رہا ہے اور دوسرے ہی لمحے میں نے اپنے آپ کو سر کے بل نیچے کھینچتے ہوئے محسوس کیا۔ میں نے اپنے پاﺅں کو جھٹکنے کی کوشش کی لیکن اس جھٹکے نے میری قوت کو سلب کردیا۔ میں محسوس کررہا تھا کہ میں کسی بڑے چیز کے اندر دھنس رہا ہوں۔ میں نیچے ہی نیچے کھینچتا چلاگیا۔ گوشت کی ایک دیوار نے مجھے چاروں طرف سے گھیرلیا لیکن یہ دباﺅ کچھ تکلیف دہ نہ تھا اور گوشت مجھے بغیر کسی جہدوجہد کے ملائم ربڑ کی طرح راستہ دیتا رہا، اچانک میں نے اپنے آپ کو بہت سخت اندھیرے تھیلے میں جو میرے جسم سے کئی گنا بڑا تھا پڑے ہوئے پایا۔ میں نے اپنے اردگرد کا جائزہ لیا اور میرا ہاتھ بہت سی مچھلیوں پر پڑا جن میں سے کچھ ابھی تک زندہ معلوم ہوتی تھیں کیوں کہ وہ میرے ہاتھ سے پھسل کر پیروں کی طرف جاتے ہوئی محسوس ہوئیں۔
جلد ہی مجھے اپنے سر میں سخت درد محسوس ہوا اور مجھے سانس لینے میں بھی کافی دقت پیش آنے لگی۔ اب میرا سانس ٹوٹ گیا تھا اور میری آنکھیں میرے سر میں دہکتے ہوئے کوئلوں کی طرح ہوگئیں اور مجھے یقین ہوگیا کہ میری قسمت میں وہیل کے پیٹ میں ہی ختم ہونا لکھا ہے۔ اس خیال سے مجھے بہت زیادہ وحشت ہوئی۔ میں آہستہ آہستہ اس خوفناک قید خانے میں نیچے کی طرف ڈوبتا جارہا تھا۔ میں نے اٹھنے اور ہاتھ پاﺅں ہلانے کی کوشش کی مگر یہ سب باتیں اب ناممکن ہوئی تھیں، میں اپنے حواس پر قابو رکھنے کی برابر کوشش کررہا تھا۔ ابھی تک میرا دماغ میرا ساتھ دے رہا تھا۔ گرمی کی شدت بڑھتی جارہی تھی، اچانک مجھے ایک جھٹکا سا محسوس ہوا اور اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔
 
اگلا   Back

Bookmark and Share
 
 
Close