Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   Back
 

گیلیلیو

 
   
 
گیلیلیو 15 فروری 1564 کو پیسا میں پیدا ہوا، باپ کے حکم سے فلسفے اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔
گیلیلیو نے ٹھوس چیزوں کا وزن مخصوص معلوم کرنے کے لیے سیالات کی ایک ترازو ایجاد کی، جس سے وہ سارے اٹلی میں مشہور ہوگیا اور پسا کی یونیورسٹی نے اس کو اپنے ہاں پروفیسر مقرر کرلیا۔ یہیں گیلیلیو نے گرتے ہوئے اجسام کے متعلق اپنے تجربے کیے اور پیسا کے جھکے ہوئے مینار پر سے تجربہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ اوپر سے جو چیزیں گرائی جائیں ان کا وزن کم ہو یا زیادہ وہ ایک ہی رفتار سے نیچے گرتی ہیں۔
اس نے پہلا تھرمامیٹر بنایا اور 1609 میں جب دور بین کی ایجاد کی افواہیں سنیں تو جھٹ پٹ خود ایک دور بین بنا ڈالی۔ پہلی آزمائش سے معلوم ہوا کہ اس دوربین سے چیزیں صرف تگنی نظر آتی ہیں، لیکن بہت جلد اس نے بتیس گنا بڑی چیزیں دیکھنے والی دور بین بنا ڈالی۔
اس نے سورج کے دھبوں پر ایک کتاب شائع کی۔ چوں کہ اس سے تورات اور انجیل کے بعض فقروں کی تردید ہوتی تھیں۔ اس لیے پوپ نے اس کو ڈانٹا گیلیلیو نے پوپ کا حکم ماننے کا وعدہ کرلیا لیکن چوں کہ اس کو اپنے علم پر پورا بھروسہ تھا۔ اس لیے 1632 میں اس نے فلکیات کے متعلق ایک کتاب لکھ ڈالی۔ اس پر گیلیلیو کو حکم دیا گیا کہ مذہبی عدالت کے سامنے حاضر ہو۔ وہاں اسے دھمکایا گیا کہ تم اپنے خیالات سے توبہ نہ کرو گے تو شکنجے میں کس کر تم کو سزا دی جائے گی، گیلیلیو نے گھبرا کر توبہ کرلی اور اپنی باقی زندگی علمی تحقیقات میں بسر کردی۔ 8 جنوری 1642 کو گیلیلیو کا انتقال ہوگیا۔

 
اگلا   Back

Bookmark and Share
 
 
Close