Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ایڈیسن

 
   
 
ایڈسن امریکا کا سب سے بڑا موجد تسلیم کیا جاا ہے۔ اس نے کوئی ایک ہزار ایجادیں کیں۔ وہ مسلسل سعی و کوشش کا نمونہ اور قریب قریب ہرمسئلے پر قوم کو بہترین مشورے دیتا تھا۔ وہ میلان میں 11 فروری 1847 کو پیدا ہوا۔ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے ماں باپ مشیگن چلے گئے۔ وہاں ایڈیسن نے سب سے پہلے گرنیڈ ٹرنک ریلوے پر ایک اخبار فروش کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ ایک مال گاڑی میں اپنا ذاتی اخبار نکالنے اور چھاپنے لگا۔
اس کے بعد تار برقی کی طرف توجہ کی، لیکن ایک ماہر و مشاق تار بابو بن کر بھی اس کو اطمینان نہ ہوا۔ یہاں اس نے ایک آلہ ایجاد کیا، جس سے کسی تار بابو کی مدد کے بغیر دوسری لائن پر بھی پیغامات بھیجے جاسکتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک چار رخ کا تار ایجاد کیا اور چلتی ہوئی ٹرینوں کو پیغام پہنچانے کا طریقہ بھی دریافت کرلیا۔
1886 میں ایڈیسن نے اپنے گھر اور لیبارٹری سے ملحق ضروری آلات بنانے کا ایک کارخانہ منیلو پارک میں قائم کیا۔ جس کو بڑی شہرت حاصل ہوئی، یہاں پینتالیس سال تک مسسلسل اس نے محنت و مشقت سے زندگی گزاری۔
ایڈیس کی سب سے زیادہ مشہور ایجادوں میں سے چند یہ ہیں: فوٹو گراف، مائیکرو فون، میمیوگراف، ٹیلی فون کے لیے کاربن کا پیغام رساں اور سب سے بڑی نعمت جو اس نے بنی نوع انسان کو دی وہ بجلی کا بلب ہے جس کے لیے اس نے سال ہا سال نہایت صبر سے کام کیا۔ اسے بار بار ناکامی ہوئی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور آخر بجلی کا بلب بنانے میں کامیاب ہوا۔ اس نے کینٹوسکوپ بنایا جو ترقی پا کر آج کا سینما بن گیا۔ ایڈیسن نے اپنی ایجاد فونو گراف کو ترقی دے کر دونوں کو باہم ملا کر بولتی چالتی تصویریں بناڈالیں۔ نکل اور لوہے کی اسٹوریج بیٹری بھی اس نے ایجاد کی اور اس کا آخری کارنامہ یہ ہے کہ اس نے مصنوعی ربڑ بنانے کا طریقہ معلوم کرلیا۔ ایڈیسن قریب قریب بہرا ہوگیا تھا۔ 17 اکتوبر 1931 کو فوت ہوا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close