Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

رائٹ برادران

 
   
 
جب ان بھائیوں نے فضائے آسمانی میں پرواز سے دلچسپی کا اظہار کیا تو صورتحال ایسی تھی کہ لوگ زمین سے اوپر اٹھنے کے امکانات کو بالکل اہمیت نہ دیتے تھے۔ دلبر اور آرویل نے بہت جلد معلوم کرلیا کہ ہوائی حرکیات کے بارے میں جتنے نظریات موجود ہیں، ان میں سے بیشتر اصل مقصد سے ہٹے ہوئے ہیں انہوں نے خود ہوا کا ایک نل بنایا جس میں پرواز کے متعلق خود ہی تجربات کرتے رہے۔ وہ دونوں غیر شادی شدہ تھے۔ دن بھر سائیکل کی دکان میں کام کرتے، گھر واپس آکر اپنا سارا وقت تجربوں میں گزارتے۔ آخر انہوں نے کنٹرول کا ایک ایسا نظام دریافت کرلیا جس کے ذریعے سے ہوا کا دبائو مشین کے مختلف حصوں پر بدلتا جارہا تھا اور اسے رجسٹر کرالیا۔ ہوا کے نل میں جو تجربات کرتے رہے تھے، ان کی بنا پر انہوں نے قبل از وقت اعلان کردیا کہ ہم ہوا میں پرواز کا مظاہرہ کریں گے۔ چنانچہ ایک ایسا جہاز تیار کرلیا جس میں ابتدائی تخمینے کے خلاف ایک چوتھائی سے نصف تک قوت صرف ہوتی تھی۔ ان کا جہاز چار سلنڈر کا تھا۔ اس میں بارہ گھوڑوں کی طاقت کا انجن لگایا گیا جو پٹرول سے چلتا تھا۔ ایک مسافر کا وزن کو شامل کرکے جہاز کا کل وزن ساڑھے سات سو پونڈ تھا۔ دسمبر 1903ء میں یہ جہاز کٹی ہاک پہنچا۔ 17 دسمبر کو آر ویل نے اس میں چار مرتبہ پرواز کی۔ جہاز قریباً ایک منٹ ہوا میں رہا اور صرف تیس میل فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کرسکا مگر آج تو ہوائی جہاز ترقی کرکے کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close