Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مارکونی

 
   
 
اطالوی سائنسدان مارکونی (ولادت 1876ء) کی عمر ستائیس سال کی تھی جب اس نے 1901ء میں لاسلکی پیغامات یورپ سے امریکا بھیجنے کا پہلا کامیاب تجربہ کیا۔ اس نے ایک مرکز کارنوال (انگلستان) میں بنایا اور دوسرا سینٹ جان (نیو فونڈ لینڈ امریکا) میں۔ کارنوال سے بجلی کے ذریعے جو اشارے بھیجے گئے وہ سینٹ جان میں پہنچ گئے حالاں کہ بیچ میں تار کا کوئی سلسلہ موجود نہ تھا۔ تین ہزار میل چوڑا سمندر بھی ان میں رکاوٹ نہ ڈال سکا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ کرہ ارض کا خم بجلی کی لہروں کو روک نہیں سکتا۔ چنانچہ تار کے بغیر دنیا کے ہر حصے میں پیغام رسانی کا سلسلہ جاری کردینا ایک مثبت حقیقت بن گیا۔
گگلی ایلمومار کونی دولت مند والدین کا بیٹا تھا۔ اس کی تعلیم زیادہ تر گھر پر ہوئی۔ برقیات سے اسے خاص دلچسپی تھی۔ ہائزش ہر ٹزنے بجلی اور مقناطیس کی لہریں دریافت کرلیں تو یہ دریافت مارکونی کے سمند شوق کے لیے تازیانہ بن گئی۔ اس نے تجربات کے بعد نیا آلہ تیار کرلیا جو پہلے سائنس دانوں کے آلوں سے بہتر تھا۔ بائیس سال کی عمر میں اس نے ایک ایسی مشین ایجاد کرلی، جس کے ذریعے بغیر تار کے دو میل کے فاصلے پر پیغامات بھیجے جاسکتے تھے مگر اس کے اہل وطن نے اس ایجاد کی کوئی قدر نہ کی، لہٰذا وہ انگلستان چلاگیا، جہاں اسے قدردان انجینئروں کےمل جانے کی امید تھی۔ وہاں اسے صرف روپیہ ہی نہ ملا، سائنس دانوں کی تائید و حمایت بھی حاصل ہوگئی اور اپنی ایجاد کو زیادہ سےز یادہ ترقی دینے کا موقع مل گیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close