Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

گراہم بیل

 
   
 
ایلگزانڈر گراہم بیل نے 1876ء میں ٹیلی فون کی ایجاد و مکمل کی جس سے انسانی آواز کو برقی لہروں کی مدد سے کرہ ارض کے گوشے گوشے میں پہنچانے کا انتظام ہوگیا، لیکن آپ یہ سن کر یقیناً حیران ہوں گے کہ گراہم بیل کا اصل مقصد ٹیلی فون ایجاد کرنا نہ تھا، بلکہ وہ اور اس کے والد بہروں اور گونگوں کی تعلیم میں لگے ہوئے تھے۔ گراہم بیل چاہتا تھا کہ آوازوں کو حرکات میں تبدیل کردے تاکہ آوازیں اگر بہروں کے کانوں میں نہیں پہنچ سکتیں تو آنکھوں کے ذریعے سے انہیں دکھا کر اصلیت تک پہنچنے میں قابل بنادیا جائے۔ اس کام سے اس کی دلچسپی برابر قائم رہی، چنانچہ جب حکومت فرانس نے ٹیلی فون کی ایجاد پر اسے پچاس ہزار فرانک کا انعام دیا تو اس نے یہ رقم اس تجربہ گاہ کے حوالے کردی جو بہروں کی سہولت کے لیے نئی نئی تدبیروں کی چھان بین میں مصروف تھی۔
اس سے پیشتر بھی بہت سے موجد ٹیلی فون کی ایجاد کے لیے کوششیں کرچکے تھے لیکن کسی کو پوری کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی۔ گراہم بیل نے جس اصول پر کام کیا۔ وہ بہت سادہ اور واضح تھا، اس نے سوچا کہ باہر جو آواز پیدا ہوتی ہے، وہ ہوا کی لہروں کے ذریعے سے کان میں پہنچتی ہے اور کان کی جھلی میں حرکت پیدا کردیتی ہے۔ یہی حرکت دماغ تک چلی جاتی ہے اور انسان انداز کرلیتا ہے کہ آواز کیسی ہے یا کیا کہا گیا ہے، اگر جھلی جیسی دو چیزیں لے کر فاصلے پر رکھی جائیں اور انہیں بجلی کی تار کے ذریعے سے ملا کر ایک کی آواز دوسری تک پہنچائی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس میں حرکت پیدا نہ ہو، چنانچہ اسی اصول پر کام کرتے ہوئے اس نے لوہے کی دو پتلی سی پتریاں لیں اور اپنے تجربے میں کامیاب ہوگیا۔ 10 مارچ 1876ء کو گرہیم بیل نے سب سے پہلا پیغام اپنے رفیق مسٹر واٹسن کو پہنچایا۔ واٹسن تین منزلہ مکان کے سب سے نچلے کمرے میں مصروف تھا۔ اردگرد مشینوں کی گڑگڑاہٹ تھی، جس میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ عین اس حالت میں گراہم بیل کی آواز گونجی: "مسٹر واٹس! یہاں تشریف لائیے، مجھے آپ سے کام ہے"۔
اس کے بعد ٹیلی فون کی صنعت نے آہستہ آہستہ بے پناہ ترقی کرلی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close