Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

جیمز واٹ

 
   
 
ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ معمولی مشینوں کی مرمت کرنے والا کوئی شخص اپنے کسی عجیب و غریب کارنامے سے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دے۔ لیکن 1764ء میں بمقام گلاسگو (اسکاٹ لینڈ) ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔
بھاپ کا انجن کا خیال یا خود انجن، کوئی انوکھی چیز نہ تھی۔ ایسی مشینیں بن چکی تھیں جو کوئلے کی کانوں سے پانی باہر نکالنے کے کام آتی تھیں اور بھاپ سے چلتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک کان کی مشین میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی جیمز واٹ سے کہا گیا کہ اسے درست کردے۔ اس وقت واٹ کی عمر اٹھائیس سال کی تھی اور وہ لندن میں اوزار بنانے کاکام سیکھ چکا تھا۔
واٹ کو مشین کی درستی میں تو کوئی خاص دقت پیش نہ آئی، لیکن مشین کو دیکھ کر اس کے دماغ میں بھاپ کے انجن کا خیال تازہ ہوگیا جو تین سال سے بار بار آرہا تھا۔ مشین کا معائنہ غور سے کیا تو واٹ کو اندازہ ہوگیا کہ اس میں بھاپ بہت زیادہ خرچ ہوتی ہے لہٰذا اسے کفایت شعاری سے نہیں چلایا جاسکتا۔ وہ مشین میں نئی نئی ترمیمیں سوچتارہا تاکہ خرچ میں کمی کی صورت نکل آئے۔
بعدازاں واٹ نے اپنے انجن میں مزید اصلاحیں کیں اور ان تمام اصلاحوں کے پیش نظر اسے بھاپ کے انجن کے موجد کا اعزاز دینا غیر مناسب نہ ہوگا۔ اسی انجن سے آگے چل کر حمل و نقل، صنعت و حرفت اور بجلی پیدا کرنے کے بڑے بڑے کام لیے گئے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close