Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
سائنسدان > مغربی دور
آئن سٹائن
گیلیلیو
مائیکل فیراڈے
رونتجن
ایڈیسن
بنجمن فرینکلن
رائٹ برادران
مارکونی
گراہم بیل
آئزک نیوٹن
جیمز واٹ
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

سائنسدان

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مائیکل فیراڈے

 
   
 
چند ہی سائنس داں ہوں گے جنہوں نے ایسی مفید عام دریافتیں کی ہوں جیسی مائیکل فیراڈے نے کیں۔ اگر وہ برقی مقناطیسیت کے متعلق معلومات بہم نہ پہنچاتا تو آج دنیا میں بجلی کا راج کہیں نظر نہ آیا۔ لطف یہ ہے کہ اس نے تحقیق کا جو شاندار کام انجام دیا وہ کسی رسمی تعلیم کا نتیجہ نہ تھا کیوں کی فیراڈے کچھ زیادہ لکھا پڑھا آدمی نہ تھا۔
فیراڈے 22 ستمبر 1791 کو سرے۔ انگلستان نیونگٹن میں پیدا ہوا۔ ایک لوہار کا بیٹا تھا جو اپنے بچے کو اسکول بھیجنے کی توفیق نہ رکھتا۔ فیراڈے بہت چھوٹی عمر میں ایک جلد ساز کے پاس بطور شاگرد بٹھایا گیا لیکن خدا جانے کہاں سے اس کو سائنس کا گہرا شوق پیدا ہوگیا۔ چنانچہ وہ اپنے خالی اوقات میں سائنس کی چھوٹی موٹی کتابیں پڑھ لیا کرتا تھا۔
اس کا سب سے بڑا کام برقی مقناطیسیت سے متعلق تھا۔ اس نے بیس سے زیادہ تجرباتی سلسلوں سے یہ ثابت کردیا کہ ایک سرکٹ کی برقی رو کو ایک اور سرکٹ میں برقی رو دوڑا کر حرکت دینا ممکن ہے۔ چنانچہ اس نے ایک مقناطیس کو ایک برقی رو کے گرد مسلسل طور پر گھما کر آج کل کے برقی ڈاینمو اور موٹر کی بنیاد رکھ دی۔ اس سلسلے میں اس نے بعض اور مفید دریافتیں بھی کیں۔ یہ فیراڈے ہی کی مہیا کی ہوئی معلومات تھیں جن کی بنیاد پر بعض دوسرے سائنسدانوں نے علوم برق کو موجود پیمانے تک پہنچایا۔ فیراڈے 25 اگست 1867 کو ہیمپٹن کورٹ میں فوت ہوگیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close