Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
نظمیں > دیگر
حمزہ کی گیند
یہ ننھے...
یوم پاکستان
خرگوش
پاک وطن کے...
اسکول
محنت
اٹھو سونے...
محنت
بات کرو
کھانا کھاﺅ...
نیلو کا مٹھو
دہلی
راوی کے کنارے
چاند نگر سے...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

نظمیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

خرگوش

 
  ضیاء الحسن ضیا  
 
وہ خرگوش جھاڑی سے بھاگا نکل کر
مگر چھپ گیا پھر وہ جھاڑی کے اندر

کبھی منہ دکھایا کبھی  منہ چھپایا
خدا نے عجیب  جانور  ہے  بنایا

کبھی کان بھی تم نے دیکھے ہیں ان کے
بنائے  ہیں  قدرت  نے  کیسے  نرالے

ہے قد میں تو چھوٹا  مگر  کان   لمبے
جو دیکھو تو دم پھول جائے ہنسی سے

اگر غور  سے  پیر  تم  اس  کے  دیکھو
ملیں گے بڑے پچھلے، اگلوں سے تم کو

کھڑکتا جو پتہ  بھی  وہ پا رہا  ہے
سمجھتا ہے پیچھے  کوئی  آرہا  ہے

جبھی تو زقندیں  لگانے  لگا    ہے
یہ چھپنے کو شاید کہیں جارہا  ہے
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close