Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
نظمیں > دیگر
حمزہ کی گیند
یہ ننھے...
یوم پاکستان
خرگوش
پاک وطن کے...
اسکول
محنت
اٹھو سونے...
محنت
بات کرو
کھانا کھاﺅ...
نیلو کا مٹھو
دہلی
راوی کے کنارے
چاند نگر سے...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

نظمیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

گرمی

 
  تنویر پھول  
 
دیکھو    موسم   گرما    آیا
فطرت نے سردی کو بھگایا
دھوپ نے ہے یہ ہم کو بتایا
           پھر گرمی کا موسم آیا   

کسی فضائوں میں ہے حدت
توبہ!  یہ  گرمی  کی  شدت
گلشن میں ہر  گل   کمھلایا
         پھر گرمی کا موسم آیا

آم  لگے ہیں   پیلے   پیلے
کتنے   میٹھے اور  رسیلے
اس پھل نے ہے دل کولبھایا
     پھر گرمی کا موسم آیا

بھاپ سے اب بنتے ہیں بادل
کردیں گے برسات میں جل تھل
قدرت نے  کیا  کھیلا  دکھایا
      پھر گرمی کا موسم آیا

دھوپ سے کرتے ہیں اب نفرت
چھائوں سے ہے سب کو الفت
موسم  کی   پلٹی   ہے   کایا
        پھر گرمی کا موسم آیا

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close