Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
نظمیں > دیگر
حمزہ کی گیند
یہ ننھے...
یوم پاکستان
خرگوش
پاک وطن کے...
اسکول
محنت
اٹھو سونے...
محنت
بات کرو
کھانا کھاﺅ...
نیلو کا مٹھو
دہلی
راوی کے کنارے
چاند نگر سے...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

نظمیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

کیں کیں کوا، ٹیں ٹیں مٹھو

 
  احمد حاطب صدیقی  
 

ایک ٹہنی پر بیٹھے تھے مٹھو میاں
آگیا  ایک  کوا  بھی  اڑ  کر  وہاں

آئیے   آئیے   شوق   فرمائیے
میٹھا امرود ہے آپ بھی کھائیے

بولا کوا کہ خاموش  ٹیں ٹیں  نہ  کر
ورنہ میں پھوڑ دوں گا ابھی تیرا سر

بے وقوفوں سے میں بات کرتا نہیں
اپنے درجے سے نیچے اترتا نہیں

کون سا تو عقاب اور شاہین ہے
منہ لگانا تجھے میری توہین ہے

بولیں کوے نے جب ایسی بڑ بولیاں
تو غصے میں بولے  یہ مٹھو  میاں

تو نے کیا تیر مارے ہیں میں بھی سنوں
تیرے   چالاکیوں  پر  ذرا  سر  دھنوں

بولا کوا کہ  او  رٹو طوطے  یہ سن
میری دانش کا ہر شخص گاتا ہے گن

کردوں روشن ابھی تیرے چودہ طبق
یاد  ہے  بچے بچے  کو  میرا  سبق

ایک دن جب بہت سخت پیاسا  تھا  میں
یہ سمجھ لے کہ بس ادھ موا سا تھا میں

ایک مٹکے میں پانی کی دیکھی جھلک
چونچ  ڈالی  تو  پہنچی  نہ  پانی  تلک

ذہن نے  کام  کرنا  شروع   کردیا
مٹکا کنکر سے بھرنا شروع کردیا

ان کی تعداد مٹکے میں جب بڑھ گئی
سطح پانی کی اوپر  تلک  چڑھ  گئی

میں نے پانی غٹاغٹ  غٹاغٹ  پیا
پھر پھدکتے ہوئے کائیں کائیں کیا

دیکھ لے کس قدر تیز طرار ہوں
کتنا چالاک ہوں کتنا ہوشیار ہوں

بولے مٹھو میاں مار کر قہقہہ
بے وقوفی کی بس ہوگئی انتہا

جانے مٹکے میں پانی تھا کب سے پڑا
پھر ڈھکنا بھی نہیں تھا کھلا تھا گھڑا

گندے کنکر بھی بھرتا گیا اس میں تو
پی گیا ایسے پانی کو پھر آخ تھو

ایسے پانی سے لگتی ہیں بیماریاں
پیش آتی ہیں  کتنی  ہی  دشواریاں

خود کو کہتا عقل مند و دانا ہے تو
لیکن افسوس احمق کا  نانا  ہے تو

تو اگر گندی چیزیں نہ  کھائے   پیے
لوگ پالیں تجھے تو مزے سے جیے

صاف ہوتا تو گھر گھر  بلاتے  تجھے
اس طرح مار کر کیوں بھگاتے تجھے

کوا سنتے ہی  یہ  بات  رونے  لگا
اپنے پر آنسوئوں سے بھگونے لگا

اور  کہنے  لگا  بات  سچ  ہے  تیری
لوگ کرتے ہیں نفرت شکل سے میری

کوا  رو رو  کر جب  آہ بھرنے  لگا
اس پر مٹھو نے یہ ترس کھا کر کہا

چھوڑ دے اس تکبر بڑائی کو تو
اپنی عادت بنالے صفائی  کی  تو

گندا پانی نہ پی، گندی چیزیں نہ کھا
ان میں  ہوتا ہے  ڈیرا  جراثیم  کا

یہ  جراثیم    بیمار  کر   دیتے  ہیں
اچھےخاصوں کو بیکار کردیتے ہیں

یوں  بظاہر  تھا کوا  بہت   کائیاں
اس کو سمجھا کے ہر بات مٹھو میاں

اڑ گئے اپنے پر  پھڑپھڑاتے  ہوئے
مٹھو بیٹے کے نعرے لگاتے  ہوئے

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close