Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
نظمیں > دیگر
حمزہ کی گیند
یہ ننھے...
یوم پاکستان
خرگوش
پاک وطن کے...
اسکول
محنت
اٹھو سونے...
محنت
بات کرو
کھانا کھاﺅ...
نیلو کا مٹھو
دہلی
راوی کے کنارے
چاند نگر سے...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

نظمیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

چھوٹا سا لڑکا

 
  جمیل الدین عالی  
 
رنگ عجب ہیں ڈاک ٹکٹ کے
بیتے دن آتے  نہیں پلٹ  کے

ان ٹکٹوں کے رنگ نرالے
مشرق والے مغرب  والے

جمع کیے ہیں گھوم کے ہم نے
لندن پیرس  روم   کے ہم  نے

دیکھے اگر سکوں کا خزانہ
رہ   جائے   حیران   زمانہ

یہ چوکور بھی گول بھی ہیں یہ
مہنگے بھی انمول  بھی  ہیں  یہ

برما  اردن   شام   کے    سکے
چین کے اور ویت نام کے سکے

سکے  اور ٹکٹے  میرے  ہیں
باقی کھلونے سب  تیرے  ہیں
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں
پر کام کروں گا بڑے بڑے

جتنے بھی لڑکا لڑکے  ہیں
میں سب کو نیک بنائوں گا

جو بکھرے ہوئے ہیں ہم جولی
ان  سب  کو  ایک  بنائوں  گا

سب آپس میں مل جائیں  گے
جو رہتے ہیں اب لڑے لڑے

یہ علم کی  ہیں  جو  روشنیاں
میں گھر گھر میں پھیلائوں گا

تعلیم کا  پرچم   لہرا  کر
میں سر سید بن جائوں گا

بے  کار  گزاروں  عمر  بھلا
کیوں اپنے گھر میں پڑے پڑے

میں چار طرف لے جائوں گا
اقبال   نے   جو   پیغام   دیا

میں ہی وہ پرندہ ہوں جس کو
اس  نے  شہباز  کا  نام  دیا

اب میرے پروں پر چمکیں گے
سب ہیرے موتی جڑے  جڑے

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close