Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
نظمیں > مزاحیہ
بلی کا روزہ
بچارا بے قصور
بچ بچا کے
ہم فیل ہوگئے
چار مسافر
شریر ٹونی
یاد ہے
بھائی بھلکڑ
بلو کی مرغی
ٹوٹ بٹوٹ
مینا موری
ایک انوکھی...
حلوہ
ایک مزاحیہ...
بہت سے بچوں...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

نظمیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بلی کا روزہ

 
  اعجاز رحمانی  
 
کرکے وعدہ مجھ سے پکا
بلی نے بھی  روزہ  رکھا

ہمسائے  کی   مرغی   لائی
دس چوہوں کی سحری کھائی

پھینی کھائی  کھجلہ  کھایا
خوب مزے سے دودھ اڑایا

کپ یہ کسی کو سونگھ رہی ہے
بیٹھے بیٹھے  اونگھ  رہی  ہے

جب یہ خبر چوہوں نے پائی
دوڑی  دوڑی  مرغی  آئی

روزے کو سب جانچ رہے ہیں
چوزے سر پر  ناچ  رہے  ہیں

سن کر چپ ہے سب کی گالی
حج کو بھی ہے  جانے  والی

بیٹھی ہےسب چھوڑ کر ہلچل
پڑھتی  ہے   تسبیح  مسلسل

شام کو جب روزہ کھولے گی
پھر کچھ منہ سے یہ بولے گی

چوہے، مرغی  اور   کبوتر
کود رہے ہیں خوش ہو ہو کر

ہے وہ گھڑی جلد آنے والی
وار نہ جائے گا  جب  خالی

چوہوں سے افطار کرے  گی
مرغی سے یہ پیٹ بھرے گی

کوئی نہ پھر ڈالے گا بھنگڑا
آنگن  ہو جائے   گا   ٹیڑھا

عید کا  دن  ہے  آنے  والا
سوچ رہی ہے شیر کی خالہ

چاند نکلتے  ہی  نکلے  گی
چوہوں کا پھر سر کچلے گی

چوہے، مرغی اور  کبوتر
خیر منائیں سارے مل کر

فطرت میں اپنی ہے شاطر
بلی  پھر  بلی   ہے   آخر
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close