Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > مغربی شخصیات
وکٹر ہیوگو
ہینی بال
ہومر
ایچ جی ویلز
جارج واشنگٹن
والٹیئر
ولیم کیکسٹن
نپولین بونا...
مارکوپولو
جون آف آرک
ٹالسائی
نکولائی لینن
مارٹن لوتھر
لیونارڈو
گوئٹے
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مارکوپولو

 
   
 
مارکوپولو دنیا کا سب سے مشہور سیاح گزرا ہے۔ وہ 1254 میں وینس کے ایک اعلیٰ خاندان میں پیدا ہوا۔ مارکوپولو کی پیدائش کے وقت اس کا باپ اور چچا قبلائی خان اعظم سے ملاقات کے لیے چین گئے ہوئے تھے، وہ 1269 میں واپس اٹلی پہنچے۔ کچھ عرصے بعد مارکوپولو کا چچا اسے ساتھ لے کر  پھر چین روانہ ہوا اور 1275 میں صحرائے گوبی عبور کرکے قبلائی خاندان کے دربار میں حاضر ہوا۔
نوجوان سیاح نے بہت جلد شہنشاہ کے دل میں گھر کرلیا۔ چنانچہ قبلائی خان نے مارکوپولو کو اپنا سفیر بنا کر برما کو چین چائنا اور جنوبی ہندوستان بھیجا۔ بعد میں خان اعظم نے اس کو اپنے ایک صوبے کا حاکم بھی مقرر کردیا تھا۔ چین میں مدت دراز تک رہنے کے بعد ان دونوں اطالویوں نے کسی نہ کسی طرح شہنشاہ سے وطن جانے کی اجازت لے لی اور ایک منگول شہزادی کو ساتھ لے کر سماٹرا اور جنوبی ہندوستان کے راستے ایران پہنچے اور روانگی کے کوئی چوبیس سال بعد آخر 1295 میں وینس پہنچ گئے۔ اگرچہ وہ چین سے بے شمار جواہرات اور بے اندازہ ریشمی کپڑے لے کر واپس آئے تھے، لیکن پہلے پہلے ان کو کسی نے نہ پہچانا بلکہ ان کو ان کے مکان میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔ 1298 میں وینس کی جنووا والوں سے لڑائی ہوئی جس میں مارکوپولو نے اپنے خرچ پرایک جہاز پیش کیا۔ 7 ستمبر کو جزیرہ کرزولا کی لڑائی میں وہ شمن کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا، سال بھر اسے جیل خانے میںرہنا پڑا، انہی دنوں اس نے اپنے ایک ساتھی قیدی کو اپنا سفر مانہ لکھوایا، جو بے انتہا دلچسپ تھا۔ 1299 کے جولائی یا اگست میں وہ رہا کردیا گیا۔ اس کے بعد اس کی زندگی کے حالات معلوم نہیں، صرف اتنا یقینی ہے کہ 9 جنوری 1324 کو اس نے ایک پادری اور ایک وکیل کو طلب کرکے اپنی وصیت لکھوائی اور اسی دن وفات پاگیا۔
اس کی بعض کہانیاں اس قدر دلفریب ہیں کہ بعض لوگوں کو ان پر گپ کا شبہ ہوا لیکن آج کل کی تحقیقات سے ثابت ہوگیا ہے کہ بنیادی طور پر وہ صحیح ہیں۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close