Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > مغربی شخصیات
وکٹر ہیوگو
ہینی بال
ہومر
ایچ جی ویلز
جارج واشنگٹن
والٹیئر
ولیم کیکسٹن
نپولین بونا...
مارکوپولو
جون آف آرک
ٹالسائی
نکولائی لینن
مارٹن لوتھر
لیونارڈو
گوئٹے
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مارٹن لوتھر

 
   
 
یہ نوجوان جرمن پادر ابھی تیس سال کا بھی نہ ہوا تھا کہ اس نے رومن کیتھلک کلیسا کے تمام پاپائوں اور کارڈنیلوں کی مخالفت شروع کردی اور پراٹسٹنٹ مذہب کی بنیاد رکھ دی جس کو یورپ کے بڑے حصے نے قبول کرلیا۔
مارٹن لوتھر ایک کان کن کا بیٹا تھا۔ 10 نومبر 1483 کو جرمنی کے قصبہ ایزل بین میں پیدا ہوا۔ 1511 میں لوتھر روما گیا اور مذہبی دنیا کی بدعنوانیاں دیکھیں تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ خاص کر بدکاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مذہبی لوگ گناہوں کی معافی کو فروخت کررہے تھے۔ لوتھر نے واپس آکر 95 اعتراض مرتب کیے اور دعویٰ کیا کہ پوپ کو گناہوں کی معافی کا کوئی حق و اختیار حاصل نہیں۔ ان اعتراضات کو اس نے ویٹن برگ کے کلیسا کے دروازے پر چسپاں کردیا۔ اگرچہ بدکاریوں کے خلاف نجی طور پر تو لوگ ناراضگی کا اظہار کیا کرتے تھے لیکن یہ اولین کھلا احتجاج تھا اور اس پر بہت شور و غل برپا ہوا۔
مقامی کلیسا نے لوتھر کو حکم دیا کہ وہ توبہ کرے اور اپنے اعتراضات واپس لے۔ لوتھر نے صاف انکار کردیا۔ اس پر پوپ نے اس کو روما بلایا لیکن سیکسنی کے نواب نے لوتھر کو پناہ دی اور لوتھر اپنے مسلک پر قائم رہا۔
ایک اور مذہبی اجتماع میں لوتھر نے پھر توبہ کرنے سے انکار کیاچناچہ قلمروئے جرمنی میں اس کا بائیکاٹ کردیا گیا، لیکن اس کے خیالات تیزی سے پھیلتے چلے گئے یہاں تک کہ 1530 تک سارا جرمنی اصلاح کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ لوتھر نے خود عہد نامہ عتیق اور عہد نامہ جدید کے ترجمے کیے، کلیسا کی عبادت اور نظم و نسق کی ایک نئی صورت قائم کی۔
لوتھر 18 فروری 1546 کو اپنے مقام ولادت ایزل بین میں وفات پاگیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close