Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > مغربی شخصیات
وکٹر ہیوگو
ہینی بال
ہومر
ایچ جی ویلز
جارج واشنگٹن
والٹیئر
ولیم کیکسٹن
نپولین بونا...
مارکوپولو
جون آف آرک
ٹالسائی
نکولائی لینن
مارٹن لوتھر
لیونارڈو
گوئٹے
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

جارج برنارڈ شا

 
   
 
ڈراما نگار اور نقاد کی حیثیت سے جارج برنرڈ شا کے کمال میں کسی کو شبہ نہیں، لیکن انگریزی بولنے والی دنیا میں اس کو جو بلند ترین مرتبہ حاصل ہے،اس اونچے مرتبے پر پہنچنے میں شا کو بڑی دیر لگی۔ وہ ڈبلن کے ایک غریب لیکن شریف خاندان سے تھا۔ 26 جولائی 1856 کو پیدا ہوا۔ موسیقی اور ڈراما کا ذوق اسے اپنی والدہ سے ملا۔ بیس سال کی عمر میں اس نے ادیب بننے کا فیصلہ کیا اور لندن پہنچ گیا۔ یہاں اس نے نو سال انتہائی ناداری میں بسر کیے۔ اس نو سال کی مدت میں اس کو ادبیات سے صرف چھ پائونڈ آمدنی ہوئی۔ اس نے 1879 اور 1883 کے درمیان پانچ ناول لکھے، لیکن وہ مدت تک شائع نہ ہوسکے اور آخر ایک اشتراکی رسالے میں چھپے، پھر جب اس نے کارل مارکس کی کتاب کیپٹل پڑھی تو اشتراکی بن گیا۔
لندن میں سب سے پہلے اس کا ڈراما جان بل کا دوسرا جزیرہ کامیاب ہوا۔ یہ آئرلینڈ والوں کے کردار پر ایک طنز تھا جس کی وجہ سے وہ ڈراما نگار کی حیثیت سے مشہور ہوگیا۔ اس کے بعد شا نے متعدد اور ڈرامے بھی لکھے اور اسی سال کی عمر کے بعد اس نے سینٹ جون ہارٹ بریک ہائوس اور بیک ٹو میتھوسلا لکھے جو اس کے بہترین ڈرامے ہیں۔ 2 نومبر 1950 کو چورانوے سال کی عمر میں شا کا انتقال ہوا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close