Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > مغربی شخصیات
وکٹر ہیوگو
ہینی بال
ہومر
ایچ جی ویلز
جارج واشنگٹن
والٹیئر
ولیم کیکسٹن
نپولین بونا...
مارکوپولو
جون آف آرک
ٹالسائی
نکولائی لینن
مارٹن لوتھر
لیونارڈو
گوئٹے
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سکندر اعظم

 
   
 
سکندر اعظم 356ق م میں پیدا ہوا۔ ابھی اٹھارہ سال کا تھا کہ شیرونیہ کی جنگ میں اس کے باپ فلپ ثانی نے بیٹے کو اپنے رسالے کا کمال دار مقرر کردیا۔ سکندر نے اس رسالے کی مدد سے دشمن پر ایسے جرات مندانہ حملے کیے کہ آخر فلپ ثانی کو اس جنگ میں فتح حاصل ہوگئی۔ یہ 338 قبل مسیح کا واقعہ ہے۔
اس جنگ کے دو سال بعد فلپ ثانی کا انتقال ہوگیا اور سکندر تخت پر بیٹھا۔ مقدونیہ یونان کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ آس پاس کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ملک مقدونیہ کے دشمن تھے۔ سکندر نے سب سے پہلے تو ان کو زیر کیا اور 334 قبل مسیح میں ایران پر حملہ کرنے کا عزم کیا جو یونان کا ہمیشہ سے دشمن چلا آتا تھا۔
موسم بہار کے شروع میں سکندر تیس ہزار پیادہ اور پانچ ہزار سوار فوج لے کر ایشیا کی طرف بڑھا اور اس ملک میں داخل ہوگیا،جس کو آج کل ترکی کہتے ہیں۔ مئی کے مہینے میں اس نے دریائے گرے نیکس کے کنارے پر ایرانی فوج کو شکست دے دی، پھر مشرق اور جنوب کا رخ کرکے شام کے پورے ساحل پر قبضہ کرلیا اور ایران کی بحری طاقت کا خاتمہ کردیا۔ مصر نے جنگ کیے بغیر ہی اطاعت قبول کرلی۔
اس کے بعد سات سال تک سکندر لڑتا بھڑتا مشرق کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ایران میں سے گزر کر ہندوستان میں داخل ہوگیا۔ یہاں دریائے جہلم کے کنارے پورس سے اس کی لڑائی ہوئی جس نے سکندر کا جرات اور بہادری سے مقابلہ کیا، مگر سکندر کی چال کامیاب رہی اور پورس کو شکست ہوئی۔ سکندر سارے برعظیم کو فتح کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا مگر اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ چنانچہ وہ بلوچستان کے راستے عراق کے شہر بابل میں پہنچا، جہاں اسے بخار ہوا اور دنیا کو فتح کرنے کی حسرت دل میں لیے تینتیس برس کی عمر میں 323 ق م میں مرگیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close