Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > مغربی شخصیات
وکٹر ہیوگو
ہینی بال
ہومر
ایچ جی ویلز
جارج واشنگٹن
والٹیئر
ولیم کیکسٹن
نپولین بونا...
مارکوپولو
جون آف آرک
ٹالسائی
نکولائی لینن
مارٹن لوتھر
لیونارڈو
گوئٹے
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سقراط

 
   
 
سقراط سوالات کرنے اور سوالات کا جواب دینے میں بہت ذہین و طباع تھا۔ افسوس یہ ہے کہ اس نے کوئی لکھی ہوئی تصنیف نہیں چھوڑی، جس سے اس کے علم کا اندازہ کیاجاسکے۔ ہمیں اس کے متعلق جو کچھ معلوم ہے وہ اس کے دو شاگردوں کے طفیل سے ہے۔
سقراط 469 قبل مسیح کے قریب ایتھنز میں پیدا ہوا اس کا باپ سنگ تراش تھا۔ سقراط کی زندگی کا مقصد صرف یہ تھا کہ علم پھیلایا جائے۔ اس کا اعتقاد تھا کہ علم ہی سے اخلاقی کردار پیدا ہوتا ہے۔ اس کا اصول یہ تھا نیکی علم ہے، بدی جہالت ہے۔ اس کا طریقہ تعلیم یہ تھا کہ گفتگو کرو، سوالات کرو، جواب دو اور جواب لو اور بار بار بحث مباحثہ کرو۔ تاکہ مسئلے کے تمام گوشے سامنے آجائیں۔
ایتھنز کے حکام نے سقراط کے خلاف یہ الزام لگائے کہ وہ پرانے دیوتائوں کی پروا نہیں کرتا۔ نئے دیوتائوں کا تعارف کرارہا ہے اور نوجوانوں کے اخلاق کو خراب کررہا ہے، چند ووٹوں کی کثرت سے وہ مجرم قرار دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ وہ زہر کا پیالہ پی لے۔ سقراط نے اپنی زندگی کا آخری دن اپنے دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے میں گزارا اور شام کو نہایت سکون و وقار کے ساتھ زہر کا پیالہ پی کر جان دے دی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close